Fatwa #458236 July 2021Pakistan
Nafl Qurbani - Can two persons purchase & sacrifice one sheep?
Question
Assalamu Alaykum Warahmatullahi Wabarakaatuhum
Making dua Mufti Saheb is in good health
Mufti Saheb can 2 persons put monies together to buy a sheep with the niyaat for Nabi Sallallahu Alayhi Wasallam
Answer
Wa Alaykumus Salaam Wa Rahmatullahi Wa Barakaatuh
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
In principle, one sheep for a Wajib Qurbani can be sacrificed only on behalf of one person. One sheep for a Wajib Qurbani cannot be sacrificed on behalf of two or more persons. 1
However , one sheep for Nafl Qurbani may be sacrificed by two or more persons for Isaale Sawaab. 2
This is the opinion of Hazrat Mufti Mahmood ul Hasan Gangohi (رحمه الله).
And Allah Ta’ala Knows best
Ebrahim Ibn Ahmed Dadan
Student Darul Iftaa
Pietermaritzburg South Africa
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.
1
النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 238)
والمعز وَالْغنم لَا يجزيان الا عِنْد وَاحِد
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 98)
الشاة لا تجزىء إلا عن واحد
تحفة الفقهاء (3/ 85)
وَالْإِبِل وَالْبَقر يجوز من سَبْعَة نفر على مَا روى جَابر أَنه قَالَ نحرنا مَعَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم الْبَدنَة عَن سَبْعَة وَالْبَقَرَة عَن سَبْعَة
وَلَا تجوز الشَّاة عَن أَكثر من الْوَاحِد وَإِن كَانَت عَظِيمَة قيمتهَا قيمَة شَاتين لِأَن الْقرْبَة إِرَاقَة الدَّم وَذَلِكَ لَا يتَفَاوَت
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 3)
وَهُوَ مَا رُوِيَ عَنْ «جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ»، وَلَا نَصَّ فِي الشَّاةِ فَبَقِيَ عَلَى أَصْلِ الْقِيَاسِ
2
Hazrat Mufti Mahmud Sb , Hazrat Mufti Abdur Raheem Sb Lajpuri , Hazrat Mufti Nizamudeen Sb all hold this opinion and have given Fatwa on this :-
² فتاوى محمودية {جامعة فاروقية } (405/17)
ایک حصہ میں سب شریک رہے ، اورایک حصہ سے واجب اداکرنا مقصود نہیں،بلکہ ثواب پہنچانا مقصود ہے ، توشرعاً اس میں کچھ حرج نہیں ہے
² {فتاوي رحمية سوال 85#}
² كلام الشيخ نظام الدين رحمه الله :
سوال : اگر فوت شدہ عزیزوں یا اہل بیت یا خاص رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کی جاوے تو اس کا کیا طریقہ ہے، آیا مثل دیگر شرکاء ہر ایک شخص کی طرف سے ایک ایک حصہ ہی میں چند کو شریک کردے، فقط؟
الجواب: ایک ہی میں سب کو ثواب بخش سکتے ہیں ۔ فقط تاریخ بالا (تتمہ خامسہ 75) میں نے گذشتہ سال زبانی فتویٰ دیا تھا کہ جس طرح اپنی طرف سے قربانی کرنے میں ایک حصہ دو شخصوں کی طر ف سے جائز نہیں ، اسی طرح غیر کی طرف سے تبرعًا نفل قربانی کرنے میں خواہ زندہ کی طرف سے یا میّت کی طرف سے، ایک حصہ دو شخص کی طرف سے جائز نہیں ، مگر روایات سے اس کے خلاف ثابت ہوا اس لئے میں اس سے رجوع کرکے اب فتویٰ دیتا ہوں ، کہ جو قربانی دوسرے کی طرف سے تبرعًا کی جاوے چونکہ وہ ملک ذابح کی ہوتی ہے، اور صرف اس دوسرے کو ثواب پہنچتا ہے، اس لئے ایک حصہ کئی کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ مسلم میں ہے کہ اپنی طرف سے ایک حصہ قربانی کرکے متعدد کو ثواب پہنچانا جائز ہے ، پس یہ بھی ویسا ہی ہے
{فتاوي دار العلوم زكريا كتاب الاضحية 317/6 }
(درمختار مع الشامی ۵/۲۸۴ کتاب الا ضحیۃ)
إن مات أحد السبعة المشتركين في البدنة وقال الورثة: اذبحوا عنه وعنكم، صح عن الكل استحسانا لقصد القربة من الكل، ولو ذبحوها بلا إذن الورثة لم يجزهم