Fatwa Explorer

Fatwa #4687112 October 2022United Kingdom

Are bone meal fertilizers Halaal to use?

Question

I just wanted to enquire regarding bone meal fertilizer and can I use it in my garden as compost?

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu 'alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

Bone meal is a mixture of finely and coarsely ground animal bones and slaughter-house waste products. It is used as an organic fertilizer for plants and flowers.[1]

In principle it is permissible to derive benefit from animal bones.[2]

Accordingly, in the enquired situation it will be permissible for you to utilize this fertilizer derived from animal bones.

And Allah Ta'āla Knows Best

Ahmad Patel

Student Darul Iftaa

South  Africa


Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.

(2021-01-02)



[2]

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 350)

وشعر الميتة وعظمها وصوفها وقرنها لا بأس بالانتفاع بها، وبيع ذلك كله جائز؛ لأنه لا حياة في هذه الأشياء، فلا يحلها الموت فلا يتنجس.

 البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 112) 

والأصل أن كل ما لا تحله الحياة من أجزاء الهوية محكوم بطهارته بعد موت ما هي جزؤه كالشعر والريش والمنقار والعظم والعصب والحافر والظلف واللبن والبيض الضعيف القشر والإنفحة لا خلاف بين أصحابنا في ذلك

منحة السلوك في شرح تحفة الملوك (ص: 48)

قوله: (وشعر الميتة وكل جزء منها لا حياة فيه) كالعظم والقرن والظلف والحافر والمخلب والمنقار: (طاهر) لعدم حلول الحياة فيها، فانتفت علة التنجيس، وكذلك الصوف والوبر والشعر

فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 96)

قوله وشعر الميتة كل مالا تحله الحياة من أجزاء الهوية محكوم بطهارته بعد موت ما هي جزؤه كالشعر والريش والمنقار والعظم والعصب والحافر والظلف واللبن والبيض الضعيف القشر والأنفحة لا خلاف بين أصحابنا في ذلك


فتاوی دینیہ جلد 4 ص 75

۲۰۸۱ - گوبر کی بیع

سوال: میرا بھینسوں کا تبیلہ ہے، اس میں دودھ کی آمدنی کے ساتھ بھینس کے گوبر کی بھی آمدنی ہوتی ہے، ہم بھینس کاگوبر بیچ دیتے ہیں ، تو گوبر کی رقم ذاتی خرچ یا تجارت میں لگا سکتے ہیں یا نہیں ؟

الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً... گوبر کی بیع جائز ہے، اوراس کی آمدنی ہر کام میں استعمال کر سکتے ہیں ۔(شامی: ۵) فقط و اللہ تعالی اعلم

فتاوی قاسمیہ جلد 19 ص426

گوبر اور اس سے نکلے ہوئے دانے کی تجارت

سوال ۸۶۹۴ - کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : کہ جانوروں کے بڑے بڑے مذبح ہیں ، وہاں بڑی مقدار میں گوبر ہوتا ہے، آج کل گوبر بھی فروخت ہوتا ہے، نیز گوبر کو مشینوں کے ذریعہ چھان کر اس میں سے دانہ وغیرہ نکالا جاتا ہے، جسے جانور کے لئے بنائی جانے والی اغذیہ میں استعمال کیا جاتا ہے، کیا گوبر کی تجارت کرنا خواہ وہ کھاد کے لئے ہو یا جانور کی غذا کے لئے، یا کسی اور مصرف کے لئے شرعاً جائز ہے یانہیں ؟

باسمہ سبحانہ تعالیٰ

الجواب وباللّٰہ التوفیق: گوبر کی خرید وفروخت راجح اور مفتی بہ قول کے مطابق جائز اور درست ہے۔ اور اس کا پیسہ بھی بلا شبہ جائز اور حلال ہے، جیسا کہ ذیل کے جزئیہ سے واضح ہوتا ہے:

قال الإتقاني: ولنا أن السرقین مال فجاز بیعہ کسائرالأموال، وإنما قلنا: أنہ مال؛ لأن المال ما ینتفع بہ، ویتمول، أي یدخر لوقت الحاجۃ، وقد تمول المسلمون السرقین وانتفعوا بہ من غیر نکیر من أحد من السلف۔ (حاشیۃ چلپی علی التبین، کتاب الکراہیۃ، فصل في البیع، زکریا ۷/ ۵۷، إمدادیہ ملتان ۶/ ۲۶)

''البحرالرائق'' کی عبارت ملاحظہ فرمائیے:

کرہ بیع العذرۃ لا السرقین؛ لأن المسلمین یتمولون السرقین، وانتفعوا بہ في سائر البلاد والأمصار من غیر نکیر، فإنہم یلقونہ في الأراضي لاستکثار الربیع۔ (البحرالرائق، کتاب الکراہیۃ، فصل في البیع، زکریا ۸/ ۳۶۵، کوئٹہ ۸/ ۱۹۹، تبیین الحقائق، إمدادیہ ملتان ۶/ ۲۶، زکریا ۷/ ۵۷، المحیط البرہاني، المجلس العلمي ۸/ ۱۰۲، رقم: ۹۶۸۶)

''مجمع الانہر'' کی عبارت ملاحظہ فرمائیے:

جاز بیع السرقین مطلقا في الصحیح عندنا لکونہ مالا منتفعا بہ لتقویۃ الأرض في الإنبات۔ (مجمع الأنہر، کتاب الکراہیۃ، فصل في البیع، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴/ ۲۱۱، مصري ۲/ ۵۴۶)

''شامی'' کی عبارت ملاحظہ فرمائیے:

أجازوا بیع السرقین للانتفاع بہ -إلی- لأنہ مال یضمن بہ، وہو المفتی بہ۔ (شامي، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، مطلب في حکم الصیغ والاستخضاب بالصبغ والحناء النجسین، زکریا ۱/ ۵۳۸، کراچی ۱/ ۳۳۰)

''ہندیہ'' کی عبارت ملاحظہ فرمائیے:

یجوز بیع السرقین والبعر والانتفاع بہ، کما في الزاہدي۔ (ہندیۃ، الباب التاسع، الفصل الخامس، زکریا قدیم ۳/ ۱۱۶، جدید ۳/ ۱۱۷)

-- 

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.