Fatwa #4550320 June 2020Pakistan
Will the prayer of a lady be valid if imam not aware she is following?
Question
As salaam alaykum
Will the prayer of a lady be valid if imam not aware she is following?
Was salaam
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
In principle, it is necessary for the Imam to make intention for the females performing Salah behind him.[1] Therefore, the Salaah(prayer) of females will not be valid if the Imam was not aware of females performing Salaah behind him and the Imam did not make intention of leading females in Salaah.
And Allah Ta’āla Knows Best
Ahmad Patel
Student Darul Iftaa
South Africa
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.
المبسوط للسرخسي (2/ 33)
وأما إذا لم ينو الإمام إمامتها لم تكن داخلة في صلاته
المحيط البرهاني (2/ 134)
وأما إذا لم ينوِ الإمام إمامتها لم تكن داخلة في صلاته.
البحر الرائق – ث (1/ 380)
فإذا لم ينو إمامتها لم يصح اقتداؤها
الجامع الصغير وشرحه النافع الكبير (ص: 110)
ولا يصح اقتداؤها اذا لم ينو الإمام إمامتها
نیت امامت
امداد الفتاوی جدید ۔ جدید مطول حاشیہ شبیر احمد القاسمی جلد 1/485
سوال (۱۸۹) : قدیم ۱/ ۲۰۱- اگرامام نیت اقتداء یعنی نمازمقتدیوں کی نہ کرے تونمازہوگی یانہیں اورکس کی نیت کرنااس پرچاہئے؟
الجواب : اگرامامت کی نیت نہ کرے گاتوامامت کاثواب نہ ملے گاپس حصول ثواب امامت کے لئے توامامت کی نیت ضرورہے۔ رہاصحت صلوٰۃمقتدی کے لئے پس اگرمقتدی مردہے توضرورنہیں اوراگرعورت ہوتواگروہ کسی مردکے محاذی ہے تب اس کی صحت نمازکے لئے نیت امامت ضروری ہے اوراگرمحاذی نہیں تواس میں اختلاف ہے اورجنازہ میں بالاجماع اورجمعہ اورعیدین میں بنابرقول صحیح نیت اس کے اقتداء کی شرط نہیں ۔
والإمام ینوی صلوتہ فقط، ولایشترط لصحۃ الاقتداء نیۃ إمامۃ المقتدی، بل لنیل الثواب، لوأمّ رجالا، وإن أمّ نساء، فان اقتدت بہ المرأۃ محاذیۃ لرجل فی غیر صلوۃ جنازۃ فلا بد لصحۃ صلوتھا من نیۃ إمامتھا، وإن لم تقتد محاذیۃ اختلف فیہ، فقیل: یشترط، وقیل: لا کجنازۃ إجماعا وکجمعۃ، وعید علی الأصح۔ درمختار (۱)۔واللہ اعلم (امدادصفحہ۱۰۲ج۱)
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند:۲/۱۴۹، مکتبہ دارالعلوم دیوبند، یوپی)
کیا امام کو عورتوں کے امامت کی نیت کرنا بھی ضروری ہے؟
ایک عورت جماعت میں شریک ہوکر نماز پڑھے اور اگر مرد کے برابر نہ کھڑی ہو تو امام کو اس کی امامت کی نیت کرنا ضروری نہیں ہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند:۲/۱۴۹، مکتبہ دارالعلوم دیوبند، یوپی)