Fatwa #5227 August 2000Pakistan
Is it permissible to use alcohol-based perfumes?
Question
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
It is not permissible to use deodorants that contain alcohol from grapes or date extracts. Such perfumes are impure and Salaat with it is invalid.[i]
However, if the alcohol is synthetic, it is pure and permissible to use. Salaat without washing off such perfumes will be valid.
Sometimes, it becomes difficult to differentiate between genuine and synthetic alcohol. Thus, to be on the safe side, one should rather prefer using deodorants and perfumes that are labelled as 'alcohol-free', especially when such perfumes are easily available.
And Allah Ta'ala Knows Best
Mufti Ebrahim Desai
(2000-08-27)
[i]الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 393)
قال: "الأشربة المحرمة أربعة: الخمر وهي عصير العنب إذا غلى واشتد وقذف بالزبد، والعصير إذا طبخ حتى يذهب أقل من ثلثيه" وهو الطلاء المذكور في الجامع الصغير "ونقيع التمر وهو السكر، ونقيع الزبيب إذا اشتد وغلى" أما الخمر فالكلام فيها في عشرة مواضع…
والرابع: أنها نجسة نجاسة غليظة كالبول لثبوتها بالدلائل القطعية على ما بينا
تكملة فتح الملهم (408/3)
وأما غیر الأشربة الأربعة فلیست نجسة عند الإمام أبی حنیفة رح وبهذا تبین حکم الکحول المسکر التي عمت بها البلوی الیوم فإنها تستعمل فی کثیر من الأدویة، والعطور، والمرکبات الأخریٰ فإنها إن تخنت من العنب أو التمر فلا سبیل إلی حلتها أو طهارتها، وإن اتخذت من غیرها فالأمر فيها سهل علی مذهب أبي حنیفة رح ولا یحرم استعمالها للتدأوي أولأغراض مباحة أخری مالم تبلغ حد الإسکار لأنہا إنما تستعمل مرکبة مع المواد الأخری ولا یحکم بنجاستها أخذا بقول أبی حنیفة رح وأن معظم الکحول التی تستعمل الیوم فی الأدوية والعطور وغیرها لاتتخذ من العنب، أوالتمر، وانما تتخذ من الحبوب أو القشور أوالبترول وغیره-فحینئذ ہناک منحة فی الأخذ بقول أبی حنیفةر ح عند عموم البلوی
فتاوی قاسمیہ جلد 24/206
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جو الکحل انگور کی کچی شراب اور انگورکی پکی شراب اور منقی اور کھجور سے بنا یا جائے تو وہ بالا تفاق حرام اور ناپاک ہے، شرعی طور پر اس کا استعمال اور تجارت سب ممنوع ہے،اور اگر کپڑے میں گلٹ کے ایک روپیہ سے زائد لگ جائے تونماز نہ ہوگی ، اور اگر اس سے کم ہو تو کراہت کے ساتھ نماز درست ہے، انگور ، کھجور کے علاوہ دیگر اشیاء ، مثلاً آلو، لوکی، گاجر، ٹماٹر ، مولی، جامُن، وغیرہ سے بنے ہوئے الکحل کے بارے میں اختلاف ہے ، امام محمد ؒ کے نزدیک حرام ہے، اور حضرات شیخین ؒ کے نزدیک نجاست خفیفہ ہے، عموماً یہی الکحل عطر یات اور ادویہ میں استعمال ہوتاہے، لہذا ضرورت شدیدہ اور عموم بلوی اور ابتلاء عام کی وجہ سے عطریات اور ادویات کے حق میں حضرات شیخین ؒ کے قول کے مطابق جواز کا فتوی ہے، اور پینے کے حق میں حضرت امام محمدؒ کے قول کے مطابق حرام اورناجائز ہونے پر فتوی ہے۔(مستفاد: ایضاح النوادر۱۲۵)
کتاب النوازل جلد 16/154
الجواب وباللّٰہ التوفیق: دواؤں اور پر فیوم میں عموماً جو الکحل استعمال ہوتا ہے وہ کھجور یا انگور کا نہیں ہوتا؛ بلکہ دیگر چیزوں کا بنا ہوا ہوتا ہے، اور بہت معمولی درجہ میں ہوتا ہے، جس سے نشہ وغیرہ نہیں آتا ہے؛ لہٰذا ضرورت کے وقت اُس کے استعمال کی گنجائش ہے، اُس کے کپڑے پر لگنے سے ناپاکی کا حکم بھی نہیں دیا جائے گا۔