Fatwa Explorer

Fatwa #4792011 March 2023South Africa

Deducting expenses before calculating Zakat

Question

 If there is a payment due at the end of the month (not a regular expense like rent/water and electricity.. But an expense for a project undertaken) does one subtract that expense from assets before calculating Zakaah due? Please let me know if you require further information. Shukran

Answer

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh. 

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

Zakat is compulsory upon an individual if he possesses zakatable assets equivalent to the amount of nisaab (87.479g of gold or 612.35g of silver) or more in the beginning and end of his lunar zakaat year, after deducting his basic necessities and liabilities.

A debt falls under the category of basic necessities and will be exempt from zakaat.[1]

Therefore:

  • If the payment of the project you refer to, due at the end of the month is within your lunar zakat year, it will be exempt from zakat. 
  • If the payment of the project you refer to, due at the end of the month is beyond your lunar zakat year, it will not be exempt from zakat.

And Allah Ta’ala Knows Best 

Arib Raza

Student Darul Iftaa
New York 

Checked and Approved by, 
Mufti Ebrahim Desai.

(2021-06-16)



   [1]

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 262)

(قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية) أشار إلى أنه معطوف على قوله عن دين (قوله وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديرا كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (2/ 293)                                                                                                                                              

فنقول: ما يمنع وجوب الزكاة أنواع، منها الذي قال أصحابنا رحمهم الله: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة، سواء كان الدين للعباد، أو لله تعالى كدين     الزكاةفأما الكلام في دين العباد، فنقول: إنما منع وجوب الزكاة؛ لأن ملك المديون في القدر المشغول بالدين ناقص، ألا ترى أنه يستحق أخذه من غير مضار لا رضا، كأنه في يده غصب أو وديعة؟ ولهذا حلت له الصدقة، ولا يجب عليه الحج، والملك الناقص لا يصلح سبباً لوجوب الزكاة

  مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 271)                                                                                                                                    

كتاب الزكاةهي تمليك مال مخصوص لشخص مخصوص فرضت على حر مسلم مكلف مالك لنصاب من نقد ولو تبرا أو حلييا أو آنية أو ما يساوي قيمته    من عروض تجارة فارغ عن الدين وعن حاجته الأصلية ولو تقديرا

فتاوی دار العلوم زکریا جلد 3/115

حوائج اصليہ کی تعریف اور اس کا دائرہ:                                                                                                                                                     

                    الجواب: حوائج اصليہ میں وہ اشياء داخل ہوتی ہیں جن کے بغیر انسانی زندگی بسر کرنا دشوار ہوجائے خواہوں حقیقة ہو يا تقديرا

1) )حاجت اصلیہ حقیقیہ : وہ تمام اشیاء شامل ہیں جن کے بغیرانسان کو ہلاکت کا خطرہ ہو، مثلا ضروری نفقه

اخراجات پر رہائشی مکانات، آلات جنگ اور سردی گرمی کے دو کپٹرے جن کی اپنے عوام کے اعتبار سے ہر وقت

ضرورت ہوتی ہے۔

(2) حاجت اصليہ تقدير يہ : وہ تمام اشياء داخل ہیں کہ انسان ہر وقت مين متفکر رہتا ہے مثلا واجب الاداء قرضہ، پیشہ اور کاریگری کے اوزار و آلات اور گہر کے ضروري اثاث و سامان اور سواری کے جانور اور علماء کے لئے دينی کتابیں یہ سب حوائج اصلیہ میں شامل ہے لہذا اگر کسی کے پاس نقد رقم موجود ہے لیکن اس پر قرض بہی ہے تو اس پر زکوة واجب ہے 

فتاوی عثمانی    چ 2  ص51

مکان پر زکوۃ کا حکم
سوال:- زاتی مکان جو قرض لے کر بنایا گیا ہے اور قرض ابھی ادا نہیں ہوا، اس کے ایک حصہ میں رہائش ہے اور باقی تھے کرایہ پر ہیں ، اور رہائش پر اس کو ادارہ جہاں وہ ملازم ہے کرایہ ماہوار ادا کرتا ہے تو کیا اس مکان پر زکوۃ نکالی جائے گی اور اگر نکالی جائے گی تو طریقہ کار کیا ہوگا؟
جواب:- مکان پر زکوۃ واجب نہیں ہے اب اس کے کرایہ کی جو رقم اخراجات سے بیھا کر رکھ لی جائے اس پر دوسری رقموں کے ساتھ زکوة واجب ہے اور جتنا قرض انسان پر واجب ہو اتنی رقم کی زکوۃ بھی واجب نہیں۔
واللہ سبحانہ اعلم

فتاوی قاسمیہ ج10 ص273

حوائج اصلیہ کی شرط
سوال:]۴۰۸۴[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ حوائج اصلیہ کی شرائط اور حاجت اصلیہ کی تعریف اور اس کا دائرہ کیاہے؟ اور کیاحاجت اصلیہ کا تعین ہر دور او رماحول میں اس کے اعتبار سے کیا جائیگا؟
المستفتي:مجاہد الاسلام قاسمی، فقہ اکیڈمی ، پٹنہ ، بہار
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہٰ التوفیق:حوائج اصلیہ میں وہ اشیاء داخل ہیں، جنکے بغیر انسانی زندگی بسرکرنا دشوار ہوجائے ، اور آج کل کے دور میں بہت سی غیر ضروری اشیاء کو

لوگوں نے اپنے لئے یوںہی ضروری کرلیاہے، جو درحقیقت حوائج اصلیہ کے دائرہ میں نہیں آتی ہیں ، اور حوائج اصلیہ دوقسموں پر ہے۔
(۱) حاجت اصلیہ حقیقیہ اس کے اندروہ اشیاء شامل ہوتی ہیں جس کے بغیر انسان کو ہلاکت کا خطرہ ہے ، مثلاً ضروری نفقہ اور اخراجات اوررہائشی مکانات اور آلات جنگ اورسردی اور گرمی کے وہ کپڑے جن کی اپنے موسم کے اعتبار سے ہر وقت ضرورت ہوتی ہے۔
(۲) حاجت اصلیہ تقدیریہ اس کے اندر وہ اشیاء داخل ہوتی ہیں انسان جن کے بارے میں ہر وقت صحیح معنی میں متفکر رہتاہے، مثلاً واجب الأدا قرض اور پیشہ اور کاریگری کے اوزار وآلات اور گھر کے ضروری اثاث وسامان اورسواری کے جانور اور علماء کیلئے دینی کتابیں یہ سب حوائج اصلیہ میں شامل ہیں، لہذا اگر کسی کے پاس نقد رقم موجود ہے، لیکن اس پر قرض بھی ہے یاکسی عالم نے ضروری کتابیں خرید نے کیلئے کچھ رقم الگ کررکھی ہے یا کسی کاریگر نے اوزار کیلئے کسی کو رقم دے رکھی ہے ، یا گھر کے سامان اور سواری کیلئے کچھ پیسہ دے رکھا ہے ، اس پر زکوٰۃ واجب نہ ہوگی ۔
وہی ما یدفع الہلاک عن الإنسان تحقیقاً کالنفقۃ ودور السکنی والآت الحرب والثیاب المحتاج إلیہا لدفع الحر والبرد أو تقدیراً کالدین فإن المدیون محتاج إلی قضائہ بما فی یدہ من النصاب دفعا عن نفسہ الحبس الذی ہو کالہلاک وکالآت الحرفۃ وأثاث المنزل ودواب الرکوب
ترجمہ: حوائج اصلیہ میں ہر وہ شیٔ شامل ہوتی ہے جو انسان سے حقیقی معنی میں اسباب ہلاکت کو دور کرتی ہے ، جیسا کہ نفقہ رہائشی مکان ، جنگی آلات ، گرمی سردی کے ضروری کپڑے ۔یا تقدیراً اور باطناً ہلاکت کو دور کرتی ہے، جیسے کہ واجب الادا قرض جو اس کے قبضہ میں بقدر نصاب مال ہے، اس کے ذریعہ ادا کیا جائیگا ، اپنے سے قید وغیرہ کودور کرنے کیلئے اورقید بھی ہلاکت کے درجہ میںہے صناعت کے اوزار اور گھر کے اثاث
وکتب العلم لأہلہا فإن الجہل عندہم کالہلاک، فإذا کان لہ دراہم مستحقۃ بصرفہا إلی تلک الحوائج صارت کالمعدومۃ کما ان الماء المستحق بصرفہ إلی العطش کان المعدوم ۔(شامی، کتاب الزکاۃ ، مطلب في زکاۃ لمن المبیع وفائً زکریا دیوبند۳/۱۷۸، کراچی ۲/۲۶۲)
اورسواری کے جانور اورعلماء کیلئے دینی کتابیں اسلئے کہ جہالت ان کے نزدیک ہلاکت ہے، لہذا ان ضروریات میںخرچ کے لئے جو رقم موجود ہے وہ کالعدم ہوگی ،جیسا کہ پیاسے کے حق میں پینے کے پانی کو کالعدم قرار دیکر اس پر وضوواجب نہیں ہوتا ہے۔
شامی کی مذکورہ عبارت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کی حقیقت اور علاقہ ہر دور کے اعتبار سے حاجات اصلیہ میں تفاوت ہوسکتاہے، مثلاً عوام کیلئے کتب حدیث کتب فقہ وغیرہ حاجات اصلیہ کے دائرہ میں نہیں آتی اورعلماء کیلئے حاجات اصلیہ میں سے ہیں، اور ایسی جگہ جہاں سوار ی کے جانوروں کو کام میںلایا جاتاہے، اور وہاں اسکوٹر ، سائیکل وغیرہ چلانے کیلئے کوئی راستہ بھی نہیں ہے ، وہاں سواری کے جانورحوائج اصلیہ میں شامل ہوں گے، اور گاڑی اسکوٹر وغیرہ شامل نہیں ہوںگی ، اور شہر والوں کیلئے یہ سب اشیاء حوائج اصلیہ میں شامل ہوں گی ، نیز اگر ایسی جگہ جہاں گاڑی وغیرہ چلانے کا راستہ نہیںہے، وہاں کے لوگ اگر گاڑی وغیرہ رکھ لیں تو وہ اشیاء حوائج اصلیہ سے اگر چہ زائد ہیں لیکن مال نامی نہ ہونے کی وجہ سے ان پر زکوٰۃ واجب نہ ہوگی ۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

جديد فقهي مسائل 1/144                                                                                                                                            

طویل مدتی دیون کی زکوة                                                                                                                                            

سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کی طرف سے آج کل ترقیاتی اورصنعتی قرضے فراہم کئے جاتے ہیں، طویل مدت میں ان کی ادائگی مطلوب        ہوتی ہے ان قرضوں کی مقدار تو بہت زیادہ ہوتی ہے ليكن ہر سال ادا طلب قسط بہت معمولی ہوتی                  

                                                                                          ۔ سوال یہ ہے کہ ایسے قرضے پورے کے پورے منہا کر کےزکوۃ واجب ہوگی يا ہر سال کی ۔مطلوب قسط منہا کی جائے گی اور باقی پورے مال کی زکاة ادا کرنی ہوگی؟

فقہاء احناف کے عام اصول کا تقاضا تو یہی ہے کہ ایسی صورت میں پورے قرض کو منہا کیا جائے اس کےبعد جو رقم پیا جائے اس میں زکوۃ واجب ہو لیکن ایسے طویل مدتی دیون کوشش کرنے میں فقراء کو اپنے حق سے محروم ہونا پڑتا ہے اور صاحب اس کو ایک ایسے مال کی زکوة سے چھوٹ مل جاتی ہے جو اس کے تصرف میںہے اور جس کی ادائیگی میں اسے بہت مہلت حاصل ہے، اس لئے ان حالات میں سب سے متوازن، شرعیت کی

روح و مقصد سے ہم آہنگی اور معتدل رائے یہ ہے کہ ہر سال قرض کی جو قسط ادا کی جاتی ہے صرف وہی مقدارزکوت سے مستثنی ہوئی بقیہ پورے مال میں زکوة ادا کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں فقہاء کے یہاں ایک نظیر بھی موجود ہے کہ دیر سے ادا کیا جانے والا مہر(مہر مؤجل) منہاکے بغیر پورے سال میں زکوۃ واجب ہوگی۔ چنانچہ علامہ کاسانی به انتقال نقل کرتے ہیں۔

"وقال بعض مشائخنا إن المؤجل لا يمنع لانه غیر مطالب عادة. »له ترجمة:"ارے بعض مشایخ کہتے ہیں کہ ادھار میں زکوۃ کی ادائیگی کے لئے مانع نہیں کیوں کہ عام طور سے اس کا مطلب نہیں کیا جاتا ہے۔خود امام ابوحنیفہ راستا تعالی سے بھی اس طرح کے اقوال منقول ہیں کہ دین موجل لین دیر سے قابل ادائیگی قر نے زکوۃ واجب ہونے میں مانع نہیں ہیں اور علامہ شامی نے نقل کیا ہے کہ یہی قول

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.