Fatwa #4753018 March 2021India
Talaq Query
Question
السلام عليكم
ذيل ميں دی هوئ عبارت كا حكم ارشاد فرمائيں..
[(السلام عليكم
ميں فلک شير ولد اللّٰه ڈتہ اپنے ہوش و ہواس میں اپنی بیوی صوبیہ ولد حیات کو طلاق دے رہا ھوں اپنی مرضی سے میں اپنی مرضی سے دے رہا ھوں۔ میں اب اسکو اپنے گھر رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ میں بچے واپس لوں گا اس کے پاس رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ میں طلاق دیتا ھوں میں طلاق دیتا ھوں میں طلاق دیتا ھوں۔
بقلم خود فلک شیر بوہنہ)]
لڑکی کے گھر والوں کو یہ تحریر لکھ کر دینے کے بعد اب حلفاً کہتا ھے کہ میرا ارادہ فقط خوفزدہ کرنا تھا طلاق دینا نہیں تھا۔
حکم ارشاد فرمائیں۔
جزاک الل
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
صورت مسئولہ واضح نہیں ہیں، کیا تحریر عورت کے سامنے لکھی گی تھی یا عورت کے عدم موجود گی میں لکھی گئی تھی؟اس سوال کا جواب اس ایمیل پر بھیجئے-
And Allah Ta’āla Knows Best
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai