Fatwa #4680215 November 2021South Africa
Duaa in Sajdah
Question
I want to find out about making Duaa in Sajda, while in and out of Salaah. Is it fine and must it be in Arabic? Also is wudhu necessary?
Jazakallah
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu 'alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
It is permissible and in fact, encouraged to make Duaa in Salaah while in Sajdah.[i] Nabi Sallallahu Alaihi Wasallam said:
" أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ "
Translation: The closest a servant comes to his Lord is when he is in Sajdah, so make abundant supplication (in this posture). (Sahih Muslim 482)
This Hadith refers specifically to Sajdah in Salaah. One may make Duaa in any Sajdah of Sunnah and Nafl Salaah after reciting the normal Tasbeehaat. Those Duaas that are mentioned in the Quran and Hadith should preferably be recited.
If one wishes to make his own personal Duaa in Salaah, it must be in Arabic and should not be something that one can ask from fellow human beings[ii], such as "Oh Allah, give me such and such clothes". One may make Duaa for Rizq, Aafiyah, good health etc.
Out of Salaah, the Sunnah method of making Duaa is to sit in the Tashahhud position and lift one's hands in line with the chest.
If occasionally, one just wishes to make Duaa in the Sajdah position without performing a full Salaah, one may do so in confines of one's home or when in seclusion. This Duaa could be made in any language and none of the conditions of Salaat, such as Wudhu etc. are required.[iii]
And Allah Ta'āla Knows Best
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai
(26/12/2020)
[i] مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (2/ 722)
(وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ» ) : أَسْنَدَ الْقُرْبَ إِلَى الْوَقْتِ، وَهُوَ لِلْعَبْدِ مَجَازًا، أَيْ: هُوَ فِي السُّجُودِ أَقْرَبُ مِنْ رَبِّهِ مِنْهُ فِي غَيْرِهِ، وَالْمَعْنَى: أَقْرَبُ أَكْوَانِ الْعَبْدِ وَأَحْوَالِهِ مِنْ رِضَا رَبِّهِ وَعَطَائِهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، وَقِيلَ: أَقْرَبُ مُبْتَدَأٌ مَحْذُوفُ الْخَبَرِ لِسَدِّ الْحَالِ مَسَدَّهُ، " وَهِيَ (وَهُوَ سَاجِدٌ) ، أَيْ: أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ حَاصِلٌ فِي حَالِ كَوْنِهِ سَاجِدًا ( «فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ» ) : قَالَ ابْنُ الْمَلَكِ: وَهَذَا؛ لِأَنَّ حَالَةَ السُّجُودِ تَدُلُّ عَلَى غَايَةِ تَذَلُّلٍ، وَاعْتِرَافٍ بِعُبُودِيَّةِ نَفْسِهِ وَرُبُوبِيَّةِ رَبِّهِ، فَكَانَ مَظِنَّةَ الْإِجَابَةِ فَأَمَرَهُمْ بِإِكْثَارِ الدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ، قَالَ: وَاسْتُدِلَّ بِهِ عَلَى أَفْضَلِيَّةِ كَثْرَةِ السُّجُودِ عَلَى طُولِ الْقِيَامِ، (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
احسن الفتاوى 3/43
[ii] المحيط البرهاني 2/149
وإن دعا بما يشبه كلام الناس تفسد صلاته لحديث معاوية بن الحكم السلمي أنه أجاب العاطس في الصلاة وقال: يرحمك الله، فلما فرغ رسول الله عليه السلام من صلاته قال لمعاوية؛ «إن صلاتنا هذه لا تصلح لشيء من كلام الناس إنما هي التهليل والتسبيح وقراءة القرآن» فقد جعل رسول الله عليه السلام قوله يرحمك الله من كلام الناس
الفتاوي التاتارخانية 2/220
وإذا دعا في الصلاة، فسأل الله تعالى الرزق، والعافية، لا تفسد صلاته، واعلم بأن الدعاء في الصلاة مندوب إليه، وفي الحجة: وكل دعاء في القرآن إذا دعا به، لا يقطع الصلاة، م: إذا دعا بما يشبه ما في القرآن، ولا يشبه كلام الناس، لا تفسد صلاته، وإن دعا بما يشبه كلام الناس، تفسد صلاته، وفي الكافي وعند الشافعي: لا تفسد كالدعاء بما يشبه ألفاظ القرآن.
کتاب المسائل 1/385
نماز پڑھتے ہوئے اگر ادعیہ ماثور کے علاوہ دعا میں ایسے الفاظ استعمال کئے جو غیر اللہ سے بہی کئے جاسکتے ہوں تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ مثلاً یہ کہا کہ اے اللہ مجہے فلاں کپڑا پہنادے یا میرا فلانی عورت سے نکاح کر دے وغیرہ ۔
[iii] الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 119)
وَسَجْدَةُ الشُّكْرِ: مُسْتَحَبَّةٌ بِهِ يُفْتَى لَكِنَّهَا تُكْرَهُ بَعْدَ الصَّلَاةِ لِأَنَّ الْجَهَلَةَ يَعْتَقِدُونَهَا سُنَّةً أَوْ وَاجِبَةً وَكُلُّ مُبَاحٍ يُؤَدِّي إلَيْهِ فَمَكْرُوهٌ
(قَوْلُهُ لَكِنَّهَا تُكْرَهُ بَعْدَ الصَّلَاةِ) الضَّمِيرُ لِلسَّجْدَةِ مُطْلَقًا. قَالَ فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ آخِرَ الْكِتَابِ عَنْ شَرْحِ الْقُدُورِيِّ لِلزَّاهِدِيِّ: أَمَّا بِغَيْرِ سَبَبٍ فَلَيْسَ بِقُرْبَةٍ وَلَا مَكْرُوهٍ، وَمَا يُفْعَلُ عَقِيبَ الصَّلَاةِ فَمَكْرُوهٌ لِأَنَّ الْجُهَّالَ يَعْتَقِدُونَهَا سُنَّةً أَوْ وَاجِبَةً وَكُلُّ مُبَاحٍ يُؤَدِّي إلَيْهِ فَمَكْرُوهٌ انْتَهَى.
فتاوی قاسمیہ جلد 8/79
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز کے علاوہ سجدہ کی حالت میں دعا مانگنا بعض حدیث سے ثابت ہے اور اس میں ہاتھوں کو اسی حالت میں رکھنا چاہئے، جس طرح سجدہ کی حالت میں رکھا جاتا ہے اور یہ بات بھی یاد رکھئے کہ سجدہ کی حالت میں دعا کرنا جائز اور درست ہے ؛ لیکن اس کا معمول بنا لینا درست نہیں ہے۔
عن علي - رضي اﷲ عنہ- قال: لما کان یوم بدر قاتلت شیئا من قتال، ثم جئت إلی رسول اﷲ ﷺ أنظر ما صنع، فجئت، فإذا ہو ساجد یقول: یا حیي یا قیوم، یا حیي یا قیوم، ثم رجعت إلی القتال، ثم جئت، فإذا ہو ساجد لایزید علی ذلک، ثم ذہبت إلی القتال، ثم جئت، فإذا ہو ساجد یقول ذلک، ففتح اﷲ علیہ۔ (السنن الکبری للنسائي، کتاب عمل الیوم واللیلۃ، الاستنصار عند اللقاء، دار الکتب العلمیۃ، بیروت ۶/ ۱۵۶-۱۵۷، رقم: ۱۰۴۴۷، مسند البزار، مکتبۃ العلوم والحکم ۲/ ۲۵۴، رقم: ۶۶۲)...
اور دعاؤں میں جتنی زیادہ سے زیادہ عاجزی وانکساری ہو اور دعا کی قبولیت کی عقیدت ہو اتنا ہی افضل اور اعلیٰ ہے، چاہے سجدہ کی حالت میں دعا کی جائے یا کسی اور حالت میں...
إعلم أن المقصود من الدعاء أن یصیر العبد مشاہدًا لحاجۃ نفسہ، ولعجز نفسہ، ومشاہدًا لکون مولاہ موصوفا بکمال العلم والقدرۃ والرحمۃ، فکل ہذہ المعاني دخلت تحت قولہ: ادْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً۔ (تفسیر کبیر، سورۃ الأعراف: ۵۵، ۱۴/ ۱۳۰) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
فتاوی قاسمیہ جلد 8/673
اس سے معلوم ہوا کہ غزوۂ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خارجِ صلوۃ بھی دعا فرمائی ہے اور بیٹھ کر بھی دعا فرمائی ہے، جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے اور سجدہ کی حالت میں بھی دعا فرمائی ہے جیسا کہ مستدرک اور سنن کبریٰ نسائی کی روایت میں ہے؛ لہٰذا سخت پریشانی کی حالت میں سجدہ میں دعا کرنا جائز ہوگا، مگر جو لوگ نمازوں کے بعد مسجد میں دعا کرتے ہیں اس کا ثبوت نہیں ہے، اس پر علامہ شامیؒ نے نکیر فرمائی ہے؛ لہٰذا حاصل یہ نکلا کہ نمازوں کے بعد سجدۂ مناجات اور سجدۂ دعا کا ثبوت نہیں ہے اور فقہاء نے اس پر نکیر اس لئے فرمائی ہے کہ ناواقف لوگ اس کو واجب یا سنت سمجھنے لگیںگے؛ لیکن اس سے ہٹ کر اگر سخت پریشانی کی حالت میں خارج صلوۃ سجدہ کی حالت میں دعا مانگی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اس کا ثبوت حدیث میں ہے، جیسا کہ غزوۂ بدر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت پریشانی میں سجدہ کی حالت میں دعا فرمانا ثابت ہے، جس کی صراحت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت میں موجود ہے۔
فتاوی رحیمیہ جلد 2/234
سجدہ میں دعا مانگنا:
(سوال ) سجدہ میں جا کر دعا مانگنا صحیح ہے یا نہیں ؟ تہجد کی نماز کے بعد یا دوسرے وقت روزانہ سجدہ میں جاکر اپنی مغفرت اور حاجت کے لئے دعاکرے تو یہ جائز ہے یا نہیں ؟ بعض مکروہ کہتے ہیں اور بعض جوا زکے قائل ہیں ۔ کیا حضو اکرم ا نے سجدہ میں دعا کی ہے ؟
(الجواب)اس طرح کا سجدہ سجدہ مناجات کہلاتا ہے اس کی بارے میں بعض علماء دین کا قول ہے کہ مکروہ ہے ۔ مشکوٰۃ شریف کی شرح اشعۃ اللمعات میں ہے ۔ سوم سجدہ مناجات بعد از نماز وظاہرکلام اکثر علماء آنست کہ مکروہ است (اشعۃ للمعات ج ۱ص ۶۲۰) (شرح سفر السعادۃ۔ ص ۱۵۹) لہذا اس کی عادت بنا لینا غلط ہے ۔ دعا اورمناجات کا مسنون طریقہ جس کی مسنونیت میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے اس کو ترک کر کے اختلافی طریقہ اختیار کرنا مناسب نہیں ہے ۔ سجدہ میں دعا کرنے کی جو روایت ہے ۔ اس کے متعلق شرح سفر السعادۃ میں ہے وآنکہ در آحادیث آمدہ است کہ آنحضرت ﷺ در سجدہ اطالت میفر مودود عابسیار میکرد مراد بدں سجدہ' صلاتیہ است (ص ۱۵۹) یعنی حدیثوں میں جو وارد ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ سجدہ طویل فرماتے اور بہت دعا کیا کرتے تھے۔ اس سے مراد وہی سجدہ ہے جو نفل نماز میں کیا کرتے تھے ۔ پس تہجد کے سجدہ میں وہ دعائیں پڑھی جاسکتی ہیں جو احادیث میں وار د ہوئی ہیں فقط واﷲ اعلم