Fatwa #4645419 November 2021Pakistan
He was travelling and read Asr Salah at the Shaafi time
Question
A resident of lenz landed from cape town and made asar qasr in shaafi time at the airport. Is this correct. Is he still a musafir after landing?
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
1) A Hanafi should endeavour to perform his Asr Salaah in the Hanafi time of Asr (i.e. after Mithl Thani). However, in the case of necessity (e.g. one is travelling), one may read Asr in the Shafi time as this is also a view in the Hanafi Madhab.[i]
2) In principle, a traveler (Musafir) will remain a Musafir until he enters the built-up area of his locality.[ii] Both the airports in Johannesburg, OR Tambo and Lanseria, are outside Lenz. Accordingly, the person in reference remains a Musafir after landing at the airport.
And Allah Ta’āla Knows Best
Muhammad Fayyaadh
Student - Darul Iftaa
South Africa
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai
(2020-09-12)
[i] كناب النوازل 5/460
مسافر کا حالتِ سفر میں مثل ثانی سے پہلے عصر کی نماز پڑھنا؟
سوال:- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک شخص خود اپنی گاڑی میں سفر کرتا ہے عصر کی نماز کا وقت مثلاً ۴۰: ۴ کو شروع ہوتا ہے، وہ۳۰: ۴ کو نماز پڑھتا ہے، تو کیا اس کی نماز ادا ہوجائے گی، اسی طرح اگر ایک شخص ٹرین یا فلائٹ سے سفر کرتا ہے، تو نماز عصر وقت سے کتنا منٹ پہلے پڑھ سکتا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:حنفی شخص کو عام حالات میں مثل ثانی کے بعد ہی عصر کی نماز ادا کرنی چاہیے، البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے مثل اول کے بعد عصر ادا کرلی تو بھی اس کی نماز درست ہوجائے گی، دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن مثل اول سے پہلے نماز عصر ادا کرنا معتبر نہیں ہے، اور مثل اول اور مثل ثانی کا صحیح وقت دائمی جنتری سے معلوم کرلیا جائے۔
[ii] الفتاوى الهندية (1/ 139)
وَكَذَا إذَا عَادَ مِنْ سَفَرِهِ إلَى مِصْرِهِ لَمْ يُتِمَّ حَتَّى يَدْخُلَ الْعُمْرَانَ
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 425)
ولا يزال" المسافر الذي استحكم سفره بمضي ثلاثة أيام مسافرا "يقصر حتى يدخل مصره" يعني وطنه الأصلي" ومنتهى ذلك بالوصول إلى الربض فإن الانتهاء كالابتداء
عمدة الرعاية بتحشية شرح الوقاية (3/ 32)
وله رُخْصٌ تدوم (كالقصرِ في الصَّلاة والإفطار في الصَّوم،) وإن كان عاصياً في سفرِهِ :حتَّى يدخلَ بلده
وفي الشرح: إشارةٌ إلى أنَّ نفسَ الدُّخولِ في الوطنِ كافٍ في وجودِ الإقامة، وفي غيره لا بدَّ من النيَّة.
فتاوى قاسمية 8/722
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسافت سفر سے زیادہ کے ارادہ سے جب ڈرائیور شہر کی آبادی سے باہر گاڑی لے کر نکلے گا، تو اس وقت سے واپس آبادی میں داخل ہونے تک چار رکعت والی نمازوں کو دو رکعت پڑھا کرے گا، چار رکعت پڑھنا جائز نہیں ہے۔