Fatwa #4629220 November 2021India
Can I pay a deposit and stay in a house for free?
Question
Assalamu Alaikum, I am a resident of Chennai,India.I would like to take up a residence on lease by paying a lumpsum for a period of three years and no rent is payable during this period.After the expiry of the leased period the premises will be handed over to the owner and the same lumpsum will be returned to me.The agreement can also be extended by mutual consent.Maintenence charges have to be paid for the apartment monthly.This system is widely practised here. Some islamic scholars feel that this is not permitted in islam and a certain amount is to be compulsurily paid as rent.If this condition is to be fulfilled can I pay a small nominal amount as rent. Please give the islamic ruling in this matter in the light of sunnah and Quran. - Jazak Allah Khair.
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
Generally, in a lease agreement, the tenant is required to give a nominal amount of money as deposit which will be used in case of damages to the property, unpaid rent, etc.
However, in India and other countries, sometimes the landlord asks for exorbitant amounts as the deposit. The landlord then uses the deposit money for his personal needs during the lease period. This is in actual fact a loan.
The landlord then allows the tenant to stay at his premises for free or at a discounted rate. This is in lieu of the deposit, which is in actual fact money loaned to him. Had the tenant not given this large sum of money as deposit, the landlord would not have allowed him to stay in his property at that rate.
This is not permissible based on the principle:
كل قرض جر نفعا فهو حرام
Translation: Any extra benefit received from a loan is Haram.
Accordingly, in the enquired situation, you cannot rent the premises even at a minimal amount. The normal rate for such a premises must be paid.[i]
And Allah Ta’āla Knows Best
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai
(2020-11-09)
[i]غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (3/ 98)
كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ؛ فَكُرِهَ لِلْمُرْتَهِنِ سُكْنَى الْمَرْهُونَةِ بِإِذْنِ الرَّاهِنِ كَمَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ
الفتاوى الهندية (4/ 521)
لَوْ اسْتَقْرَضَ رَجُلٌ دَرَاهِمَ مِنْ رَجُلٍ وَقَالَ اُسْكُنْ حَانُوتِي هَذَا فَإِنْ لَمْ أَرُدَّ عَلَيْك دَرَاهِمَك لَا أُطَالِبْك بِأُجْرَةِ الْحَانُوتِ وَالْأُجْرَةُ الَّتِي تَجِبُ عَلَيْك هِبَةٌ لَك فَدَفَعَ الْمُقْرِضُ الدَّرَاهِمَ وَسَكَنَ الْحَانُوتَ مُدَّةً قَالَ إنْ كَانَ ذَكَرَ تَرْكَ الْأُجْرَةِ عَلَيْهِ مَعَ اسْتِقْرَاضِهِ مِنْهُ الْمَالَ فَالْأُجْرَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى الْمُقْرِضِ يُرِيدُ بِهِ أَجْرَ الْمِثْلِ، وَإِنْ كَانَ ذَكَرَ تَرْكَ الْأُجْرَةِ قَبْلَ الِاسْتِقْرَاضِ أَوْ بَعْدَهُ فَلَا أَجْرَ عَلَى الْمُقْرِضِ وَالْحَانُوتُ عِنْدَهُ عَارِيَّةٌ وَقِيلَ الصَّحِيحُ أَنَّهُ يَجِبُ أَجْرُ الْمِثْلِ فِي الْوَجْهَيْنِ. كَذَا فِي الْمُضْمَرَاتِ.
قَالَ فَخْرُ الدِّينِ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى هَكَذَا فِي الْكُبْرَى.
محمود الفتاوی 3/88
ڈپازٹ دے کر بغیر کرایہ کے گھر میں رہنا جائزنہیں
سوال : زید نے بکر کو اس شرط پراپنافلیٹ رہنے کے لیے دیا کہ تم مجھے دولاکھ روپے بطور ڈپازت دے دو اور فلیت میں بغیر کرایہ کے رہو صرف فلیٹ کا مینتیننس آپ کےزمہ رہے گا جس میں لائت کا بال ، پانی کابل اور فلیٹ کاٹیکس وغیرہ شامل ہے ، جو بکر کو فلیٹ استعمال کرنے کے عوض ادا کرنا ہے ساتھ ہی زید نے کہا کہ جب آپ کو فلیت خالی کرنا ہوگا میں آپ کا پورا دو لاکھ واپس کروں گا اور آپ فلیٹ خالی کردینا ، اب سوال یہ ہے کہ کیا ڈپازٹ دے کر بغیر کرایہ کے فلیٹ دینا اور لینا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب حامدا ومصلیا و مسلما:
مالک مکان کا کرایہ دار سے ڈپازٹ کے نام پر رقم لینے کیا حکم رکھتا ہے؟ اس کامدار اس رقم کی حیثیت کی تعیین پر ہے ، اس کی شروعات تو ضمانت اور رھن کے نام پر ہوئی تھی ۔ بسا اوقات کرایہ دار مکان یا دکان کا کرایہ باقی چھوڑ کر غائب ہو جاتا تھا اور مالک مکان کو نقصان اٹھانا پڑتا تھا ، اس مصیبت سے بچنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ عقد اجاره کرتے وقت کرایہ دار سے متعینہ رقم ایڈوانس لی جانے لگی کہ خدانخواسته ائندہ چل اگر کرایہ دار کرایہ کی رقم پاقی چھوڑ کر غائب ہو گیا تو اس ایڈوانس یا ڈپازٹ کے نام سے لی گئی رقم سے وہ بقایہ کرایہ وصول کیا جا سکے ۔ اس صورت میں اس رقم کی حیثیت رہن کی ہو جائے گی اور شرعا اس طرح رہن لینا درست ہے ۔ ولو استاجر دار او شيئا واعظی بالاجر رهنا جاز ، ( هنديه / ۹۳۰ )
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کرایہ دار مکان کو نقصان پہنچادیتاہے یا بجلی وغیرہ کے واجهات چھوڑ کر چلا جاتا ہے ، جو بعد میں مالک مکان کو ادا کرنے پڑتے ہیں ، اس مقصد کے لیے بھی کرایہ دار سے ڈپازٹ کے نام پرایک رقم ایڈوانس وصول کی جاتی ہے ، گویا یہ ایک نوع کا زر ضمانت ہے ، جیسا کہ حضرت مولانا مفتی محمد یوسف صاحب لدھیانوی نے تصریح فرمائی ہے.
جہاں تک میرا اندازہ اور معلومات ہیں ، ڈپازٹ لینے دینے کی اصل بنیاد مندرجه بالا دو میں سے ایک وجہ ہے ۔ بعد میں لوگوں نے جب دیکھا کہ ڈپازٹ کے نام پر وصول کی جانے والی یہ رقم مالک مکان کے پاس یوں ہی پڑی رہتی ہے ، کسی استعمال میں نہیں آتی تو مالکان مکان جن کے قبضہ میں رقم تھی ، انھوں نے بلا اجازت اس رقم کو استعمال کرنا شروع کیا ، جب اس کا رواج عام ہونے لگا تو دینی ذہن رکھنے والے مالکان مکان کو یہ بات کھلی کہ مالک کی اجازت کے بغیر اس کو کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے ؟ ایسے لوگوں نے کرایہ دار سے اجازت لینا شروع کیا اور انھوں نے بھی اجازت دینا شروع کیا ، کرایہ داروں میں سے کچھ لوگوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ ہماری اس رقم سے جو بطور امانت وضمانت مالک مکان کے پاس جوں کی توں محفوظ ہونی چاہئے ، مالک مکان ہماری اجازت سے فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ تو ہم کیوں نہ اس کو دی جانے والی اجازت سے فائدہ اٹھائیں ؟ چنانچہ انھوں نے اس شرط پراجازت دینا شروع کیا کہ اس اجازت کی بنیاد پر کرایہ میں کچھ کمی کر دی جائے ۔ یعنی عام طور پر اس جیسے مکان کی جو اجرت مثل ہونی چاہئے اس کے بجائے ڈپازٹ کے طور پر دی گئی رقم کو استعمال کرنے کے بدلہ میں اس اجرت مثل کی مقدار میں کمی کی شرط لگائی جائے ، آج کل جو معاملات ہورہے ہیں اس کی بنیاد یہی زہنیت ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا شرعا یہ معاملہ درست کہلایا جا سکتا ہے ؟ کچھ لوگوں نے ڈپازٹ کی رقم خوب بڑھا کر اور اس کے استعمال کی اجازت دے کر مالک مکان سے پورا کرایہ ساقط کروالیا ، گویا یہ صاحب اپنی رقم ایک مدت کے لیے مالک مکان کو استعمال کے لیے دے رہے ہیں ، اور اس کے بدلہ میں اسی مدت کے لیے مکان یا دکان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ، ظاہر ہے ان کی طرف سے جورقم دی گئی ہے وہ قرض کی حیثیت رکھتی ہے ، اور اس کے بدلہ میں یی آدمی قرض لینے والے کے مکان سے فائده اٹہارہا ہے ، اور قرض پر دی گئی رقم کے بدلہ میں فائدہ اٹھانا سود و حرام ہے ۔
درالمختار میں علامہ حصکفی نے " الأشباه والنظائر کے حوالہ سے لکھا ہے : كل قرض جر نفعا فهو حرام ، فكره للمرتهن سكني المرهونة باذن الراهن . یعنی ہر وہ قرض جس سے نفع حاصل کیا جائے ل وہ حرام ہے ، اسی لیے گروی لئے ہوئے مکان میں رہائش اختیار کرنا مکان کے مالک کی اجازت سے ممنوع ہے ۔ ( یعنی مرتہن کے لیے راہن کی اجازت کے بغیر تو حرام ہو گا ای ، اگر وہ اجازت دے دے تب بھی اس مکان سے استفادہ کرنا مکروہ ہوگا ) علامہ شامی نے اس پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر نفع اس قرض کے معاملہ میں مشروط ہو تو حرام ہے ، اور عبدالله بن محمد بن اسلم سمرقندی جو كبار علما سمرقند میں سے تھے ، ان کا قول نقل کیا ہے کہ مال مرہونہ سے انتفاع کسی صورت میں جائز نہیں ، اگر چہ راھن نے اسے اجازت دے دی ہو ، اس لیے کہ یہ سود خوری کی اجازت ہے چونکہ وہ اپنا پورا قرض وصول کرےگا ہی ، پھر یہ نفع ایک زائد شیء ہے ، جو اس سے یہ لے رہا ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے ۔ ( شای ۵ / ۲۷ طبع دار اکر ) اس لیے صورت مسئولہ میں زید کا گھر سے دو لاکھ روپے بطور ڈپازٹ ( جوقرضی ہے ) لے کر اپنا فلیٹ بلاکرایہ رہنے کے لئے دینا اور بکر کا اس میں بلا کرایہ رہنا سود کےحکم میں ہے ، جو نا جائز ہے ، نیز صورت مسئولہ میں بکر پر اس فلیٹ کی اجر مثل ( یعنی عام طور پر اس فلیٹ کا جو کرایہ ہوتا ہو ) واجب ہوگی ۔ عالمگیری میں ہے لو استقرض رجل دراهم من رجل وقال اسكن حانوتي هذا الخ ( هندية 4 ( ۰۲۱ ) فقط و الله تعالى اعلم
کتاب النوازل جلد 12
کرایہ داری میں ڈپازٹ کی شرعی حیثیت
سوال(۴۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: آج کل بڑے شہروں میں مکانات کی کرایہ داری میں بھاری مقدار میں پیشگی رقم ڈپازٹ کے عنوان سے لینے کا معمول بن چکا ہے، اب اس میں کئی شکلیں ہوتی ہیں:
الف:- اگر ڈپازٹ کی رقم معمولی ہوتی ہے تو ماہانہ کرایہ کی رقم زیادہ ہوتی ہے ، اور جب کرایہ دار جائیداد خالی کرتا ہے تو مالک اسے ڈپازٹ کی رقم لوٹا دیتا ہے۔
ب:- اگر ڈپازٹ کی رقم بھاری مقدار میں ہو تو ماہانہ کرایہ کی رقم بہت معمولی ہوتی ہے، اور بہر صورت جب بھی جائیداد خالی ہوتی ہے تو مالک ڈپازٹ کی پوری رقم واپس کرنے کا ضامن ہوتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ:
(۱) اس طرح کا عقد شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
(۲) ڈپازٹ کی رقم کی کیا حیثیت ہے؟ آیا وہ قیمت ہے یا رہن ہے یا امانت ہے؟
(۳) اس ڈپازٹ کی رقم کو مالک جائیداد کے لئے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
(۴) اگر یہ معاملہ جائز نہ ہو تو کیا اس کو شرعی جواز کے دائرہ میں لانے کی کوئی اور شکل ہے؟
(۵) اس ڈپازٹ کی رقم کی زکوٰۃ کس پر واجب ہے، کرایہ دار پر یا مالک پر؟ یا کسی پر واجب نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ الجواب وباللّٰہ التوفیق:
(1-2) ڈپازٹ کی رقم ابتداء امانت ہے؛ لیکن مالک جائیداد کے تصرف کرلینے کے بعد وہ دین مضمون کے درجہ میں آجاتی ہے؛ لہٰذا یہ کہا جائے گا کہ یہ رقم مالک پر کرایہ دار کی طرف سے قرض مؤجل ہے، اور اس کی اصل یہ ہے کہ کرایہ دار جائیداد کو خالی کرے، یہاں واپسی کی مدت گوکہ مجہول ہے؛ لیکن عرفِ عام ہونے کی وجہ سے یہ جہالت مفضی الی النزاع نہیں رہی، اس لئے اسے قابل تحمل قرار دیا جائے گا اور عقد کو فاسد نہیں کہیں گے۔
الأمانۃ ضد الخیانۃ أن الأمانۃ قد استعملہا الفقہاء بمعنیین: أحدہما بمعنی الشيء الذي یوجد عند الأمین وذٰلک یکون في العقد الذي تکون الأمانۃ فیہ ہي المقصد الأصلي۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ ۶؍۲۳۶)
الأمانۃ عند الفقہاء ہو الشيء الذي یوجد عند أمین … سواء أو کان أمانۃ في ضمن عقد کالمأجور … والأصل الأمانۃ موافقۃ الحق بإیفاء العہد في السر ونقیضہا الخیانۃ۔ (معجم الفقیہ والمتفقہ ۸۷)
المودع إذا خلط الودیعۃ بمالہ أو بودیعۃ أخری بحیث لا یتمیز ضمن۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۱۶؍۵۴ رقم: ۲۴۱۷۲ زکریا)
الخلط علی أربعۃ أوجہ:… الرابع: خلط بطریق الممازجۃ للجنس بالجنس کخلط دہن اللوز بدہن اللوز وبہٰذا ینقطع حق المالک عند أبي حنیفۃ … وہٰذا إذا خلط الدراہم بغیر إذنہ، فأما إذا خلطہا بإذنہ فجواب أبي حنیفۃ لایختلف؛ بل ینقطع الملک بکل حال، وعن أبی یوسف أنہ جعل الأقل متابعاً للأکثر، وقال محمد یشارکہ بکل حال … وأبوحنیفۃ رحمہ اللّٰہ یقول: بانقطاع حق المالک في الکل ومحمد بالشرکۃ في الکل۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۱۶؍۵۵ رقم: ۲۴۱۷۳ زکریا)
(3 کرایہ دار کی طرف سے دلالۃً اِجازت ہونے کی بنا پر اس ڈپازٹ کی رقم میں مالک جائیداد کا تصرف کرنا جائز ہے؛ لیکن تصرف کرتے ہی یہ رقم امانت سے خارج ہوکر دین مضمون کے ردجہ میں آجائے گی۔
الخلط علی أربعۃ أوجہ… الرابع: خلط بطریق الممازجۃ للجنس بالجنس کخلط دہن اللوز بدہن اللوز، وبہٰذا ینقطع حق المالک عند أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰہ … وہٰذا إذا خلط الدراہم بغیر إذنہ فأما إذا خلطہا بإذنہ فجواب أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰہ لا یختلف بل ینقطع الملک بکل حال، وعن أبي یوسف رحمہاللّٰہ أنہ جعل الأقل متابعاً للأکرہ … وقال محمد رحمہ اللّٰہ: یشارکہ بکل حال … وأبوحنیفۃ رحمہ اللّٰہ یقول: بانقطاع حق المالک في الکل ومحمد رحمہ اللّٰہ تعالیٰ بالشکرۃ في الکل۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۱۶؍۵۵ رقم: ۲۴۱۷۳ زکریا)
(4ڈپازٹ کی قلیل یا کثیر رقم کو بنیاد بناکر کرایہ میں مشروط طور پر کمی یا بیشی کرنا قرض پر نفع کا شبہ پیدا کرتا ہے، اس لئے اس شرط کے ساتھ یہ معاملہ درست نہ ہوگا؛ لہٰذا جواز کی شکل اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ عقد اجارہ کو ڈپازٹ کے ساتھ مشروط نہ کیا جائے؛ بلکہ بہرحال اجرت مثل متعین کی جائے، خواہ ڈپازٹ کی رقم کم ہو یا زیادہ۔
عن ابن سیرین أن رجلاً أقرض دراہم وشرط علیہ ظہر فرسہ فذکر ذٰلک لابن مسعود، فقال: ما أصاب من ظہر فہو ربا۔ (السنن الکبری للبیہقي ۸؍۲۷۶ رقم: ۱۱۰۹۱، المصنف لابن أبي شیبۃ ۱۰؍۶۴۸ رقم: ۲۱۰۸۰)
ذکر البخاري فيالاستقراض: باب إذا أقرضہ إلی أجل مسمی: قول ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما تعلیقاً، قال ابن عمر في القرض إلی أجل لا بأس بہ وإن أعطی أفضل من دراہمہ ما لم یشترط، ودل ذٰلک علی أن اشتراط الأفضل من الدراہم ربا عند ابن عمر، فظہر أن الصحابۃ رضي اللّٰہ عنہم کانوا یعتبرون کل زیادۃ علی القرض رباً ویحرمونہا۔ (تکملۃ فتح الملہم ۱؍۵۶۸)
عن الحسن ومحمد أنہما کانا یکرہان کل قرض جر منفعۃ۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۱۰؍۶۴۸ رقم: ۲۱۰۷۹)
رجل استقرض دراہم وأسکن المقرض في دارہ قالوا یجب أجر المثل علی المقرض۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۱۵؍۳۶۰ رقم: ۲۳۳۶۷ زکریا)
وہو مقید أیضاً بما قلنا بما إذا کان یدفع أجر المثل وإلا کانت سکناہ بمقالۃ ما دفعہ من الدراہم عین الربا کما قالوا فیمن دفع للمقرض داراً یسکنہا أو حماراً لیرکبہ إلی أن یستوفي قرضہ أنہ یلزمہ أجرۃ الدار أو الحمار۔ (شامي ۷؍۴۰ زکریا)
کتاب النوازل جلد 17/ 624
رہن کا مکان حاصل کرکے استعمال کرنا
سوال(۱۵):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: رہن کا مکان حاصل کرکے اُس کے استعمال کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:رہن کا مکان حاصل کرکے اُس سے نفع اٹھانا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے، اگرچہ مالک اُس کی اجازت دے دے۔
عن ابن سیرین قلا: جار رجل إلی ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ فقال: إن رجلا رہنني فرسًا فرکبتہا، قال: ما أصبت من ظہرہا فہو ربا۔ (المصنف لعبد الرزاق ۸؍۲۴۵ رقم: ۱۵۰۷۱، إعلاء السنن، کتاب الرہن / باب الانتفاع بالمرہون ۱۸؍۷۳ رقم: ۵۸۱۸ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
عن طاؤس قال: فی کتاب معاذ بن جبل: من ارتہن أرضًأ فہو بحسب ثمرہا لصاحب الرہن من عام حج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ (المصنف لعبد الرزاق ۸؍۲۴۵ رقم: ۱۵۰۷۲، إعلاء السنن، کتاب الرہن / باب الانتفاع بالمرہون ۱۸؍۷۴ رقم: ۵۸۱۹ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
قال العلامۃ العثماني: قلت: ہٰذان الأثران یدلان علی أنہ لا یجوز للمرتہن الانتفاع بالمرہون؛ لأنہ ربا۔ (إعلاء السنن، کتاب الرہن / باب الانتفاع بالمرہون ۱۸؍۷۳-۷۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت، کذا في الشامي / کتاب الرہن ۱۰؍۸۳ زکریا، طحطاوي علی الدر المختار / کتاب الرہن ۴؍۲۳۶ دار المعرفۃ بیروت، شرح المجلۃ لخالد الأتاسي ۳؍۱۹۶ رقم المادۃ: ۸۵۰ کوئٹہ)
وقد اغترّ کثیرٌ من علماء عصرنا ومن سبقنا بظاہر عبارات الفقہاء أنہ یجوز الانتفاع للمرتہن بالإذن، فأفتوا بہ مطقًا من دون أن یفرقوا بین المشروط وغیرہ، ومن دون أن یتأملوا في أن المعروف کالمشروط، فضلّوا وأضلّوا۔ وقد التزمتُ أنا من مدۃ مدیدۃ أني کلما سُئلت من الانتفاع بالإذن، أجبت الکراہۃ، لعلمی منہم أن الإذن عندہم یکون مشروطًا حقیقۃً أو عرفًا، والإذن المجرد عن شوب الاشتراط الحقیقي والعرفي نادرٌ قطعًا۔ (مجموعۃ رسائل اللکنوي / الفلک المشحون في الانتفاع بالمرہون ۳؍۱۲ إدارۃ القرآن کراچی، الفتاویٰ الکاملیۃ / کتاب الرہن ۲۴۴ المکتبۃ الحقانیۃ پشاور) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
فتاویٰ دار العلوم زكريا 3/129
ڈپوزٹ کی رقم قرض کی طرح ہے