Fatwa Explorer

Fatwa #453844 June 2020Pakistan

Making a bequest for someone to perform your Janaza Salah - Is this permissible?

Question

Aslmz

Can a person include in his will or before he dies who is allowed only to make his janazah namaz? Will it be binding?

jzk

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

In principle, if one is living in an Islāmic state, the Ruler/Ameer has the right to perform the Janāza alāh. Alternatively, the Imām of the Masjid has the right to perform the Janāza alāh. [1]

If one makes a bequest for a specific person to lead his/her Janāza alāh, then it is not necessary to fulfil such a bequest. [2] The bequest may, however, be considered.

And Allah Ta’āla Knows Best

Ikraam Elias Gangat

Student Darul Iftaa
Zambia

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai


 الاختيار لتعليل المختار (1/ 94[1]

أَوْلَى النَّاسِ بِالْإِمَامَةِ فِيهَا السُّلْطَانُ، ثُمَّ الْقَاضِي، ثُمَّ إِمَامُ الْحَيِّ، ثُمَّ الْأَوْلِيَاءُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ، إِلَّا الْأَبَ فَإِنَّهُ يُقَدَّمُ عَلَى الِابْنِ، وَلِلْوَلِيِّ أَنْ يُصَلِّيَ إِنْ صَلَّى غَيْرُ السُّلْطَانِ أَوِ الْقَاضِي

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 90

 وأولى الناس بالصلاة على الميت السلطان إن حضر " لأن في التقدم عليه ازدراء به " فإن لم يحضر فالقاضي " لأنه صاحب ولاية " فإن لم يحضر فيستحب تقديم إمام الحي " لأنه رضيه في حال حياته.

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 589

لواجب تعظيمه "ثم نائبه" لأنه السنة "ثم القاضي" لولايته ثم صاحب الشرط ثم خليفة الوالي ثم خليفة القاضي "ثم إمام الحي" لأنه رضيه في حياته فهو أولى من الولي في الصحيح

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (2/ 205[2]

وفي «العيون» : إذا أوصى الميت أن يصلي عليه فلان، فالوصية باطلة إلا في رواية ابن رستم، فإنها جائزة في روايته، فيؤمر فلان بأن يصلي عليه.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 239

قَالَ الْكَمَالُ: وَلَوْ أَوْصَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فُلَانٌ فَفِي الْعُيُونِ أَنَّ الْوَصِيَّةَ بَاطِلَةٌ، وَفِي نَوَادِرِ ابْنِ رُسْتُمَ جَائِزَةٌ وَيُؤْمَرُ فُلَانٌ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ. قَالَ الصَّدْرُ الشَّهِيدُ: الْفَتْوَى عَلَى الْأَوَّلِ

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 666

أَوْصَى بِأَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فُلَانٌ أَوْ يُحْمَلَ بَعْدَ مَوْتِهِ إلَى بَلَدٍ آخَرَ أَوْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبِ كَذَا أَوْ يُطَيَّنُ قَبْرُهُ أَوْ يُضْرَبَ عَلَى قَبْرِهِ قُبَّةٌ أَوْ لِمَنْ يَقْرَأُ عِنْدَ قَبْرِهِ شَيْئًا مُعَيَّنًا فَهِيَ بَاطِلَةٌ

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 666

(قَوْلُهُ أَوْصَى بِأَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فُلَانٌ) لَعَلَّ وَجْهَ الْبُطْلَانِ أَنَّ فِيهَا إبْطَالَ حَقِّ الْوَلِيِّ فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهِ

کتاب النوازل ج-١٤ ص-٥٣

سوال:- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک شخص ایک مدرسہ کے مہتمم کئی سال تک رہے اور وہ بوڑھے ہوچکے ہیں، اَب وہ یہ وصیت کرنا چاہتے ہیں کہ میرے مرنے کے بعد میری قبر مدرسہ ہی میں بنے اور مجھے مدرسہ میں دفن کیا جائے، تو کیا یہ درست ہے؟ کیا کسی مدرسہ کے مہتمم کو ایسی وصیت کرنا اور مدرسہ کی زمین میں دفن ہونا جائز ہے؟ اگر بعد والوں نے اس پر عمل کیا اور مدرسہ میں دفن کردیا تو گناہ ہوگا یا نہیں؟ اگر گناہ وناجائز ہے تو قصور وار کون ہے؟ موصی یا تدفین کرنے والے رشتہ دار؟

الجواب وباللّٰہ التوفیق: مہتمم کے لئے اِس طرح کی وصیت کرنا صحیح نہیں ہے، اور نہ اس وصیت پر عمل کرنا جائز ہے، چوںکہ اِس میں مدرسہ کے حق کا ابطال لازم آتا ہے، اِس وصیت پر عمل کرنے کی شکل میںوصیت کرنے والا اور دفن کرنے والے سب گنہگار ہوںگے؛ اِس لئے کہ اس میں مدسہ کے لئے وقف شدہ زمین کو ناحق استعمال کرنا ہے۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ۵؍ ۴۰۸)

فتاوی حقانیہ، ج ۳، ص ۴۵۶، ناشر: جامعہ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک

سوال: اگر کوئ شخص یہ وصیت کرے کہ فلاں شخص ہی میری نماز جنازہ پڑھائے، کیا ایسی وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے یا نہیں

الجواب: میت کی اس قسم کی وصیت نافذ العمل نہیں ہوگی، اس لئے کہ مرنے کے بعد اس کی وصیت باطل ہو جائے گی۔ نماز جنازہ جو بھی پڑھائے ادا ہو جائے گی۔

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.