Fatwa Explorer

Fatwa #4433618 March 2023United Kingdom

Drawing/Printing astronaut - Is this permissible?

Question

Assalamualaikum hadhrat,

Is it permissible to draw or print an image of a human wearing an astronaut suit? Such a suit consists of a round helmet on the head that hides all of the human's facial features, including the face shape. JazaakAllahu khair.

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

There are severe warnings mentioned in the Ahaadith for drawing pictures of animate objects. Rasulullah (Sallallahu Alaihi Wasallam) mentions:

سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ‏" ‏‏(صحيح البخاري: 5950/ صحيح مسلم: 2109)

Translation: Abdullah (Ibn Masud Radiyallahu Anhu) said that he heard Nabi (Sallallahu Alaihi Wasallam) saying, "The people who will receive the severest punishment from Allah on the Day of Qiyamah will be the picture makers.” (Sahih Al-Bukhari: 5950/Sahih Muslim: 2109)

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا ‏.‏ فَقَالَ لَهُ ادْنُ مِنِّي ‏.‏ فَدَنَا مِنْهُ ثُمَّ قَالَ ادْنُ مِنِّي ‏.‏ فَدَنَا حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ قَالَ أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يَجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ إِنْ كُنْتَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَاصْنَعِ الشَّجَرَ وَمَا لاَ نَفْسَ لَهُ  )صحيح مسلم: 5272)

Translation: A person came to Ibn 'Abbas (Radiyallahu Anhu) and said: I am the person who makes pictures; give me a religious verdict about them. Ibn 'Abbas (Radiyallahu Anhu) said to him: Come closer to me. He came near him so much so that he placed his hand upon his head and said: I am going to narrate to you what I heard from the Messenger of Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam). I heard him say: “All the picture makers will be in the fire (of Jahannum). A soul will be breathed into every picture he made and it shall punish him in Jahannum.” Ibn 'Abbas (Radiyallahu Anhu) said: If you insist on making pictures, then make pictures of trees and lifeless things. (Sahih Muslim: 5272)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: ‏مَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ

) سنن النسائى: 5360(

Translation: Abu Hurairah (Radiyallahu Anhu) narrates that Nabi (Sallallahu Alaihi Wasallam) said: 'Whoever makes an image will be commanded on the Day of Resurrection to breathe life into it but he will not be able to do so."(Sunan An-Nasai: 5360)

One must totally avoid drawing pictures of animate objects. In the enquired situation, one should not draw a human being wearing an astronaut suit.[1]

And Allah Ta’āla Knows Best

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.

(2020-03-31)


[1]مجمع الأنهر (1/ 390) 

( ولبس ثوب فيه تصاوير ) وهو في نفسه مكروه لأنه يشبه حامل الصنم فكيف في الصلاة ....... ( إلا أن تكون صغيرة ) جدا بحيث ( لا تبدو للناظر ) إليها إلا بعد تدقيق ، ( أو لغير ذي روح ) مثل الأشجار والأزهار ( أو مقطوعة الرأس ) أي ممحوة فإنها إذا كانت كذلك لا تعبد فلا تكره ، ولو قطع يداها أو رجلاها لا ترفع الكراهة وكذا لو أزيل الحاجبان والعينان ، واعلم أن الصلاة التي أديت مع الكراهة التحريمية تعاد على وجه غير مكروه .

وفي المضمرات إذا دخل فيه نقصان أو كراهة فالأولى الإعادة ، وقال الوبري إذا لم يتم ركوعه وسجوده يؤمر بالإعادة في الوقت لا بعده

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 362)

 "ولبس ثوب فيه تصاوير" ذي روح لأنه يشبه عبادتها وأشدها كراهة أمامه ثم فوقه ثم يمينه ثم يساره ثم خلفه "وأن يكون فوق رأسه أو خلفه أو بين يديه أو بحذائه صورة إلا أن تكون صغيرة" بحيث لا تبدو للقائم إلا بتأمل كالتي على الدينار لأنها لا تعبد عادة ولو صلى ومعه دراهم عليها تماثيل ملك لا بأس به لأن هذا يصغر عن البصر "أو" تكون كبيرة "مقطوعة الرأس" لأنها لا تعبد بلا رأس "أو" تكون "لغير ذي روح" كالشجر لأنها لا تعبد

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 648) 

(أو كانت صغيرة) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما وهي على الأرض، ذكره الحلبي (أو مقطوعة الرأس أو الوجه أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه (أو لغير ذي روح لا) يكره لأنها لا تعبد وخبر جبريل مخصوص بغير المهانة

درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 109)

(إلا أن تكون صغيرة أو مقطوعة الرأس أو لغير ذي روح) فإنها إذا كانت كذلك لا تعبد فلا يكره 

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 166)

(أو مقطوعة الرأس) أي ممحوة الرأس بخيط يخيطه عليه حتى لا يبقى للرأس أثر أو يطليه بمغرة أو نحوه أو ينحته فبعد ذلك لا يكره


جواہر الفقہ/٢٥٥-٢٣

خلاصہ یہ ہے کہ وہ ناقص تصویر جس میں سر نہ ہو اس کا بنانا جائز ہے، خواہ ہاتھ پاؤں یا تنہا آنکھ ناک وغیرہ اعضاء کی تصویر ہو یا علاوہ سر کے اور باقی سب بدن کی تصویر ہو…

قال عکرمه : کل شيء له رأس فهو صورة ) اتحاف السادة ٧/٥٩(

عن أبي هريرة رضي الله عنه ; الصورة الرأس فكل شيء ليس له رأس فليس بصورة )شرح معنى الأثار ٢/٣٦٦…..

 مذکور الصدر تمام روایات مرفوعہ اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہ سے بھی ثابت ہوا کہ صرف چہرہ یا سر کی تصویر یا ایسی ناقص تصویر جس میں سر موجود ہو، بنانا بھی حرام ہے اور اس کا استعمال بھی نا جائز ہے،

فتاوی قاسمیہ جلد 24/547

الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر تصویر میں آنکھ کے ساتھ ساتھ چہرے کا بھی کچھ حصہ شامل ہے، جس میں آنکھ لگی ہوئی ہو، اور اس میں آنسوں بہہ رہے ہوں ، تو شرعاً جائز نہیں ہے اور اگر چہرے کا کوئی حصہ شامل نہیں ہے صرف آنکھ ہے، تو وہ تصویر کے حکم میں شامل نہیں ہے اور محض آنکھ بنانے سے تصویر کا گناہ نہ ہوگا اور ا سطرح فرضی آنکھ کی تصویر بناکر اس سے آنسوں کا دیکھنا محض دھوکہ ہے؛ اس لئے اس سے گریز کرنا چاہئے

سوال -  کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : کہ کسی جاندار کی تصویر تو اس طرح ہوتی ہے، جس میں اس کے نقوش اور اعضاء پوری طرح ظاہر ہوتے ہیں ، اگر صرف جاندار چیز کی کٹنگ اس طرح ہو، جس سے صرف یہ معلوم پڑتا ہے کہ یہ مچھلی یا طوطا یا بکری، بھینس یابچہ، بچی ہے آدمی ہے یا جانور تو کیا ایسی عکاسی بھی تصویر کے حکم میں ہے، چاقو کا دستہ تصویر کے حکم میں ہے یا مستثنیٰ ہے؟
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:کسی بھی چیز کی اس طرح کٹنگ ہو کہ اس سے مچھلی، طوطا وغیرہ کسی بھی جاندار کی معرفت اور پہچان ہوتی ہو، اس میں سر اور چہرہ موجود ہو، تووہ تصویر کے حکم میں ہے، چاہے یہ تصویر یں چاقو کے دستہ میں ہوں یا کواڑوں کے دستہ اوربیڈ وغیرہ میں ہوں ، سب ناجائز اور حرام ہیں ،ہاں اگر سر کٹا ہوا ہو تو جائز ہے۔…

شریعت میں جس تصویر کی ممانعت ہے، اس کا حکم جاندار کے سر پر لگتا ہے اور جب سر ہی نہیں ہے، تو وہ تصویر ہی نہیں ہے

امداد  الاحكام
تصویر بنانا حرام خواہ وہ تصویر کپڑے پر بنائی جائے یا برتن پر یا دیوار پر کسی چیز پر بنانا جائز نہیں ہے۔ خواہ وہ تصویر چھوٹی ہو یا بڑی کما فی الشامی:(ج؍۱،ص؍۶۷۷)
پس تصویر بنانا ہرگز جائز نہیں ، نہ تعظیم کے لئے نہ غیر تعظیم نہ چھوٹی نہ بڑی اور کسی بھی چیز پر بنائی جائے ہر طرح ناجائز ہے (اور عکسی و دستی میں کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ تصویر کا مقصود دونوں طرح حاصل ہے) اور یہ جو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بت یعنی مجسمہ ناجائز ہے اور کاغذ وغیرہ پر تصویر جائز ہے یہ غلط ہے

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.