Fatwa #4429310 March 2020Saudi Arabia
Renting a shop out that will play Music - Is this permissible?
Question
Assalum Alaikum,
Is it halal earning to rent one's shop to a brand that is selling NON music items but still play music in background. This is a big mall and usually it is a norm that brand shops play music in background. It wouldnt be possible for the owner to restrict them, Not to do so. Please advise, what is ruling for me a
Answer
As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
In principle, if one leases his property, he is not responsible for the sinful activities, for example music etc of the tenant in the shop. If the tenant is a Muslim, you are responsible to at least advise him against the sin of playing music. [1]
And Allah Ta’ala Knows best
M. Akhtar
Student Darul Iftaa
South Africa
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.
[1] الأصل للشيباني ط قطر (4/ 17)
وإذا استأجر الرجل الذمي من المسلم بيتاً ليبيع فيه الخمر فإن هذا باطل لا يجوز. وليس في شيء من (1) هذا أجر قليل ولا كثير في قول أبي يوسف ومحمد
وكذلك رجل ذمي استأجر رجلاً مسلماً يحمل له خمراً فإن أبا يوسف ومحمداً قالا: لا يجوز ذلك، ولا أجر له. وقال أبو حنيفة: هو جائز، وله الأجر. وقال أبو حنيفة: هو مثل رجل حمل لرجل ميتة أو عذرة أو جيفة. وقال أبو يوسف ومحمد: لا يشبه هذا الميتة ولا الجيفة، إنما يحمل الميتة لتلقى (2) أو ليماط أذاها، وأما (3) الخمر إنما يحمل للشرب والمعصية. وكذلك (4) الدابة في هذا يستأجرها الذمي من المسلم (5) ليحمل عليها خمراً. وكذلك السفينة فهو مثل ذلك. وإن استأجره ذمي من ذمي يحمل له خمراً فهو جائز، أو استأجر منه بيتاً ليبيع فيه الخمر فهو جائز. وكذلك دابته وسفينته. وكذلك لو استأجره يرعى له خنازير. ولو استأجره ليبيع له ميتة لم يجز (6). وكذلك لو استأجره ليبيع له دماً لم يجز؛ لأن هذا ليس ببيع وليس له ثمن
وإذا استأجر الذمي من المسلم داراً ليسكنها فلا بأس بذلك. فإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير لم يلحق المسلم من ذلك شيء من الإثم؛ لأنه لم يؤاجرها لذلك. والإجارة جائزة لازمة له (7). وكذلك لو اتخذ فيها بيعة أو كنيسة أو بيت نار بعد أن يكون ذلك بالسواد فإن الإجارة جائزة، ولا يلحق المسلم من ذلك شيء. وكذلك لو باع فيها الخمر. وكذلك هذا في الأمصار. غير أني أحول بين أهل الذمة وبين أن يتخذوا في الأمصار أمصار المسلمين الكنائس والبيع، وأن يبيعوا فيها الخمر
(16/ 38) المبسوط للسرخسي
وإذا استأجر الذمي من المسلم بيتا ليبيع فيه الخمر لم يجز؛ لأنه معصية فلا ينعقد العقد عليه ولا أجر له عندهما، وعند أبي حنيفة - رحمه الله - يجوز والشافعي - رحمه الله - يجوز هذا العقد؛ لأن العقد يرد على منفعة البيت ولا يتعين عليه بيع الخمر فيه فله أن يبيع فيه شيئا آخر يجوز العقد لهذا، ولكنا نقول تصريحهما بالمقصود لا يجوز اعتبار معنى آخر فيه، وما صرحا به معصية، وكذلك لو أن ذميا استأجر مسلما يحمل له خمرا فهو على هذا عند أبي يوسف ومحمد - رحمهم الله - لا يجوزان العقد؛ لأن الخمر يحمل للشرب وهو معصية والاستئجار على المعصية لا تجوز والأصل فيه قوله - صلى الله عليه وسلم - «لعن الله في الخمر عشرا» وذكر في الجملة حاملها والمحمولة إليه وأبو حنيفة - رحمه الله - يقول يجوز الاستئجار وهو قول الشافعي - رحمه الله -؛ لأنه لا يتعين عليه حمل الخمر فلو كلفه بأن يحمل عليه مثل ذلك فلا يستوجب الأجر، ولأن حمل الخمر قد يكون للإراقة وللصب في الخل ليتخلل فهو نظير ما لو استأجره ليحمل ميتة، وذلك صحيح فهذا مثله إلا أنهما يفرقان فيقولان الميتة تحمل عادة للطرح وإماطة الأذى. فأما الخمر يحمل عادة للشرب والمعصية
(5/ 362) المحيط البرهاني في الفقه النعماني
ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها فلا بأس به؛ إذ ليس في نفس العمل معصية،
(7/ 482) المحيط البرهاني في الفقه النعماني
ولو استأجر الذمي مسلماً ليبني له بيعة أو كنيسة جاز، ويطيب له الأجر
كنز الدقائق (ص: 612)
وجاز بيع العصير من خمّارٍ
وإجارة بيتٍ ليتّخذه بيت نارٍ أو بيعةً أو كنيسةً أو يباع فيه خمرٌ بالسّواد
وحمل خمرٍ لذمّيٍّ بأجرٍ
(12/ 220) البناية شرح الهداية
قال: ولا بأس ببيع العصير ممن يعلم أنه يتخذه خمرا؛ لأن المعصية لا تقام بعينه، بل بعد تغييره بخلاف بيع السلاح في أيام الفتنة؛ لأن المعصية تقوم بعينه
(6/ 392) الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)
(و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح) وأما الأمصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها وخص سواد الكوفة، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي
فتاوى محموديہ، ج-٢٣، ص-٣٢٠
الجواب حامدا ومصليا: ا مام اعظم رحم الله تعالی کے نزدیک عمارت کرایہ پر دینا درست ہے ، مستاجر جس کام میں بھی استعمال کرے وہ اس کا فعل ہے ۔ صاحین رحمهما الله تعالی کے نزدیک نا جائز کام کے لئے کرایہ پر دینا مكروه اورممنوع ے ، کام مخلوط ہو تو غالب کا اعتبار ہوگا ۔ پس دوسرے قسم کے بینک کے لئے بالا تفاق درست ہے اور پہلی قسم کے بینک کے لئے عمارت کرایہ پر دینے میں امام صاحب رحمہ الله تعالی کے نزدیک گنجائش ہے، وهو الأوسع . اور صانبین رحمہما اللہ تعالی کے نزدیک مکروہ وممنوع ہے ۔ ” وهو الأورع
حلال یا غالب حلال مخلوط روپیہ کرایہ پر لینا درست ہے ۔ حرام یا غالب حرام مخلوط روپیہ لینا درست نہیں
فتاوى قاسميہ، ج-٢١، ص-٥٨١
الجواب وباللّٰہ التوفیق: زید نے اگر محض اپنی زمین کرایہ وصول کرنے کی نیت سے دی ہے، تو زید نہ گنہگار ہوگا اور نہ اس کے کرایہ میں کسی قسم کی قباحت آئے گی اور زمین کو کرایہ پر لینے والے اس زمین پر جائز کام کریں یا ناجائز کام کریں ، وہ ساری باتیں کرایہ دار کے ذمہ ہیں ، اگر ناجائز کام کریں گے، تو گنہگار ہوں گے۔ اور اگر جائز کام کریں گے تو گناہ سے بچیں گے۔ اور اگر زید نے ناجائز کام کرنے کی نیت سے کرایہ پر زمین دی ہے، تو تعاون علی المعصیۃ کی وجہ سے زید بھی گنہگار ہوگا؛ لیکن زمین کا کرایہ زید کے لئے بہر حال حلال ہوگا؛ اس لئے کہ جو کچھ کرایہ آتا ہے اس کی زمین کی کرایہ داری کا معاوضہ ہے، جو اس کے لئے بہر حال حلال ہے۔
كتاب النوازل، ج-١٢، ٢٨٤
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ATM مشین سے روپیہ نکالنے کا ہر عمل سودی نہیں ہے؛ لہٰذا ATM مشین لگانے کے لئے اپنی جگہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
فتاوى عباد الرحمن، ج-٦، ص-٢٤٤
سودی بینک کو مکان کرایہ پر دینا گناہ کا معاون اور سبب بنے کی وجہ سے نامناسب ہے ۔ لہذا ایسے ادارے جو سودی معاملات کرتے ہوں مکان کرایہ پر دینے سے احتراز کیاجائے ، ہاں جو سودی معاملات نہ کرتے ہوں انہیں مکان کرایہ پر دینا بلاشبہ جائز ہے
فتاوی رحیمیہ قدیم ۹/ ۲۷۶، جدید ۹/ ۲۹۱
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جس بینک کا معاملہ سود پر مشتمل ہو اور سود ہی اس کی آمدنی کا ذریعہ ہو، جیسا کہ آج کل اکثر بینکوں کا معاملہ ایسا ہی ہے، تو ایسے بینک کو بلڈنگ کرایہ پر دینا در پردہ معصیت پر تعاون ہے؛ اس لئے یہ غیر مناسب خلاف اولیٰ اور مکروہ تنزیہی کے درجہ میں ہے اور چونکہ سودی کاروبار فاعل مختار کا عمل ہے، جس میں مالک مکان کا کوئی دخل نہیں ہے؛ اس لئے اس کا گناہ صرف کرایہ دار پر ہوگا، مالک مکان پر نہیں ہوگا۔ اور بلڈنگ کا کرایہ مالک مکان کے حق میں حرام نہیں ہوگا؛ اس لئے کہ وہ اپنے مال کی اجرت لے رہا ہے۔
نظام الفتاوی جلد٤ حصہ دوم - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع ١٢٢
جواب وباللّٰہ التوفیق:بینک یا اے ٹی ایم کے لئے مکان یا کسی اور جگہ کو محض کرایہ وصول کرنے کی نیت سے کرایہ پر دینا جائز اور درست ہے، اب بعد میں کرایہ پر لینے والا جو بھی اس میں کرے گا، وہ اس کا خود ذمہ دار ہوگا، آپ کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔
Follow Mufti Ebrahim Desai’s official Twitter handle: @MuftiEbrahim
Latest Tweet:
‘The season of Taqwa has dawned upon us. Make adjustments in our schedules and prepare for Ramadaan. Increase our Tilawat and Zikr. Prepare our provisions for the everlasting hereafter.’