Fatwa #4380331 January 2020Canada
If both parties agree, can one party take on more financial burden?
Question
Assalamu alaikum,
I have a question regarding shariah compliant contract/transaction. If both parties agreed upon a clause that might cause financial burden to one party but both parties will be benefitied in future, will it be shariah compliant? For example, if the leese wish to pay the utility and tax of the property will it still be shariah compliant?
zazakallah khairan.
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
In order for a transaction to be Shariah Complaint, all the rules and regulations of the proposed mode of transaction must be implemented. If for example, the parties decide to enter into a lease agreement, the expenses pertaining to the ownership of the property will be the responsibility of the landlord. That expense cannot be imposed to the tenant.[1]
The tenant will pay only running expenses for example, water and light bills. The utility and property tax is an ownership expense which is the responsibility of the landlord that cannot be imposed on the tenant.
And Allah Ta’āla Knows Best.
Hasan Ahmed Razzak
Student - Darul Iftaa
Paterson, New Jersey, USA
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.
21-05-1441| 16-1-2020
______
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 169)
(وَمِنْهَا) شَرْطٌ لَا يَقْتَضِيهِ الْعَقْدُ وَفِيهِ مَنْفَعَةٌ لِلْبَائِعِ أَوْ لِلْمُشْتَرِي أَوْ لِلْمَبِيعِ إنْ كَانَ مِنْ بَنِي آدَمَ كَالرَّقِيقِ وَلَيْسَ بِمُلَائِمٍ لِلْعَقْدِ وَلَا مِمَّا جَرَى بِهِ التَّعَامُلُ بَيْنَ النَّاسِ نَحْوَ مَا إذَا بَاعَ دَارًا عَلَى أَنْ يَسْكُنَهَا الْبَائِعُ شَهْرًا ثُمَّ يُسَلِّمَهَا إلَيْهِ أَوْ أَرْضًا عَلَى أَنْ يَزْرَعَهَا سَنَةً أَوْ دَابَّةً عَلَى أَنْ يَرْكَبَهَا شَهْرًا أَوْ ثَوْبًا عَلَى أَنْ يَلْبَسَهُ أُسْبُوعًا أَوْ عَلَى أَنْ يُقْرِضَهُ الْمُشْتَرِي قَرْضًا أَوْ عَلَى أَنْ يَهَبَ لَهُ هِبَةً أَوْ يُزَوِّجَ ابْنَتَهُ مِنْهُ أَوْ يَبِيعَ مِنْهُ كَذَا وَنَحْوَ ذَلِكَ أَوْ اشْتَرَى ثَوْبًا عَلَى أَنْ يَخِيطَهُ الْبَائِعُ قَمِيصًا أَوْ حِنْطَةً عَلَى أَنْ يَطْحَنَهَا أَوْ ثَمَرَةً عَلَى أَنْ يَجُذَّهَا أَوْ رَبْطَةً قَائِمَةً عَلَى الْأَرْضِ عَلَى أَنْ يَجُذَّهَا أَوْ شَيْئًا لَهُ حَمْلٌ وَمُؤْنَةٌ عَلَى أَنْ يَحْمِلَهُ الْبَائِعُ إلَى مَنْزِلِهِ وَنَحْوَ ذَلِكَ؛ فَالْبَيْعُ فِي هَذَا كُلِّهِ فَاسِدٌ؛ لِأَنَّ زِيَادَةَ مَنْفَعَةٍ مَشْرُوطَةٍ فِي الْبَيْعِ تَكُونُ رِبًا لِأَنَّهَا زِيَادَةٌ لَا يُقَابِلُهَا عِوَضٌ فِي عَقْدِ الْبَيْعِ وَهُوَ تَفْسِيرُ الرِّبَا
وَالْبَيْعُ الَّذِي فِيهِ الرِّبَا فَاسِدٌ أَوْ فِيهِ شُبْهَةُ الرِّبَا، وَإِنَّهَا مُفْسِدَةٌ لِلْبَيْعِ كَحَقِيقَةِ الرِّبَا عَلَى مَا نُقَرِّرُهُ إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى وَكَذَا لَوْ بَاعَ جَارِيَةً عَلَى أَنْ يُدَبِّرَهَا الْمُشْ
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 48)
قال: "ومن باع عبدا على أن يعتقه المشتري أو يدبره أو يكاتبه أو أمة على أن يستولدها فالبيع فاسد"؛ لأن هذا بيع وشرط وقد نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع وشرط. ثم جملة المذهب فيه أن يقال: كل شرط يقتضيه العقد كشرط الملك للمشتري لا يفسد العقد لثبوته بدون الشرط، وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع؛ لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا،
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 19)
وَكُلُّ شَرْطٍ لَا يَقْتَضِيهِ الْعَقْدُ وَفِيهِ مَنْفَعَةٌ لِأَحَدِ الْمُتَعَاقِدَيْنِ يُفْضِي إلَى الْمُنَازَعَةِ فَيُفْسِدُ الْإِجَارَةَ، وَفِي الْغِيَاثِيَّةِ الْفَسَادُ قَدْ يَكُونُ لِجَهَالَةِ قَدْرِ الْعَمَلِ بِأَنْ لَا يُعَيِّنَ مَحَلَّ الْعَمَلِ، وَقَدْ يَكُونُ لِجَهَالَةِ قَدْرِ الْمَنْفَعَةِ بِأَنْ لَا يُبَيِّنَ الْمُدَّةَ، وَقَدْ يَكُونُ لِجَهَالَةِ الْبَدَلِ أَوْ الْمُبْدَلِ، وَقَدْ يَكُونُ لِشَرْطٍ فَاسِدٍ مُخَالِفٍ لِمُقْتَضَى الْعَقْدِ، فَالْفَاسِدُ يَجِبُ فِيهِ أُجْرَةُ الْمِثْلِ لَا يُزَادُ عَلَى الْمُسَمَّى إنْ سَمَّى وَإِلَّا فَأَجْرُ الْمِثْلِ بَالِغًا مَا بَلَغَ وَفِي الْبَاطِلِ لَا تَجِبُ الْأُجْرَةُ وَالْعَيْنُ غَيْرُ مَضْمُونَةٍ فِي يَدِ الْمُسْتَأْجِرِ سَوَاءٌ كَانَتْ صَحِيحَةً أَوْ فَاسِدَةً أَوْ بَاطِلَةً
الاختيار لتعليل المختار (2/ 25)
والجملة في ذلك أن البيع بالشرط ثلاثة أنواع: نوع: البيع والشرط جائزان، وهو كل شرط يقتضيه العقد ويلائمه كما إذا اشترى جارية على أن يستخدمها، أو طعاما على أن يأكله أو دابة على أن يركبها؛ ولو اشترى أمة على أن يطأها فهو فاسد لأن فيه نفعا للبائع لأنه يمتنع به الرد بالعيب، وقالا: لا يفسد لأنه شرط يقتضيه العقد، وجوابه ما قلنا
ونوع كلاهما فاسدان، وهو كل شرط لا يقتضيه العقد ولا يلائمه، وفيه منفعة لأحد المتعاقدين، وهو ما مر من الشروط في هذه المسائل ونحوها، أو للمعقود عليه إذا كان من أهل الاستحقاق كعتق العبد، فلو أعتقه انقلب جائزا، فيجب الثمن عند أبي حنيفة لأنه ينتهي به، والشيء يتأكد بانتهائه. وعندهما تجب القيمة، وهو فاسد على حاله لأن به تقرر الشرط الفاسد
ونوع: البيع جائز والشرط باطل، وهو كل شرط لا يقتضيه العقد، وفيه مضرة لأحدهما، أو ليس فيه منفعة ولا مضرة لأحد، أو فيه منفعة لغير المتعاقدين والمبيع كشرط أن لا يبيع المبيع ولا يهبه، ولا يلبس الثوب، ولا يركب الدابة، ولا يأكل الطعام، ولا يطأ الجارية، أو على أن يقرض أجنبيا دراهم، ونحو ذلك، فإنه يجوز البيع ويبطل الشرط لأنه لا يستحقه أحد فيلغو بخلوه عن الفائدة، ويبتنى على هذه الأصول مسائل كثيرة تعرف بالتأمل إن شاء الله تعالى
فتاوى قاسمية ج=19
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : زید نے خالد سے ایک زمین دس لاکھ روپئے میں خریدی، دو لاکھ روپئے زید نے خالد کو دے دئیے، باقی آٹھ لاکھ روپئے کے بارے میں خالد نے زید کو یہ سہولت دی کہ آپ یہ آٹھ لاکھ روپئے ۲۰۱۵ء تک یعنی پانچ سال کے اندر اندر ادا کردینا، چاہے تھوڑا تھورا کرکے چاہے یکبارگی دونوں بخوشی اس بیع اور معاملہ پر رضامند ہوگئے، پھر خالد جو بائع ہے، یوں کہتا ہے کہ اگر آپ نے یعنی زید نے اگر پانچ سال کے اندر اندر یہ آٹھ لاکھ کی رقم ادا نہیں کی اور زید پھر منع کرنے لگے کہ میں زمین نہیں لیتا مجھ سے آٹھ لاکھ کی رقم ادا نہیں ہو پارہی ہے، تو خالد کہتا ہے کہ میں پانچ سال کے بعد زمین کی جو قیمت ہوگی وہ قیمت لگاؤں گا؛ کیوں کہ پانچ سال تک میری زمین آپ کو بیچنے کی وجہ سے بیکار پڑی رہی اور اس قیمت کو میں آپ کی دی ہوئی دو لاکھ کی رقم سے وضع کرلوں گا، خالد کی اس بات پر زید رضا مند ہوگیا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا خرید وفروخت کی یہ شکل درست ہے، خالد کا یہ شرط لگانا اور زید کا اس پر رضا مند ہوجانا درست ہے؟ شرعاً جو فیصلہ ہو تحریر فرمائیں ۔
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سوال میں خرید وفروخت سے متعلق جو معاملہ لکھا گیا ہے وہ جائز نہیں ہے؛ اس لئے کہ اس معاملہ کو اس بات پر معلق کیا گیا ہے کہ پانچ سال میں اگر زید بقیہ آٹھ لاکھ روپیہ ادا نہ کرسکے تو زمین کی طے شدہ قیمت (دس لاکھ روپیہ) باقی نہیں رہے گی؛ بلکہ پانچ سال کے بعد مذکورہ زمین کی جو قیمت ہوگی وہی قیمت ادا کرنی ہوگی اور وہ قیمت مجہول ہے؛ لہٰذا یہ معاملہ بیع فاسد اور واجب الاسترداد ہے اور جو دو لاکھ روپیہ ادا کیا گیا ہے اس کو پورا کا پورا واپس کرنا لازم ہوگا۔ اور پانچ سال کے بعد اگر طرفین آپسی رضا مندی سے نئے سرے سے دوسرا معاملہ کرتے ہیں ، تو اس کی اجازت ہے۔
عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ أن النبي ﷺ نہی عن بیع وشرط
فتاوى فريدية ج=7
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے چار کنال زمین بائیس ہزار روپے میں فروخت کی اوریہ شرط لگائی کہ اگر میں پشیمان ہو گیا تو میں دو ہزار روپے تجھے دوںگا اور اگر آپ پشیمان ہوگئے تو آپ دو ہزار روپے مجھے دو گے خریدنے والے نے دو ہزار روپے بیچنے والے کے پاس جمع کئے، اب بیچنے والا پشیمان ہوگیا تو کیا یہ زمین وہ واپس لے سکتا ہے؟ اور کیا پشیمانی دو ہزار روپے دینے حلال ہیں یا حرام؟ بینواتوجروا
{۱} وفی شرح المجلۃ: وفی العرصۃ تدخل الاشجار المغروسۃ علی ان تستقر لان جمیع المذکورات لا تفصل عن المبیع فتدخل فی البیع بدون ذکر ولا تصریح۔
(شرح المجلۃ ۲:۱۴۶ المادۃ ۲۳۱)
وقال العلامۃ الحصکفی: ویدخل الشجر فی بیع الارض بلا ذکر مثمرۃ کانت اولا صغیرۃ او کبیرۃ اذا کانت موضوعۃ فیہا للقرار۔
(الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ۴:۳۹ فصل فیما یدخل فی البیع تبعا الخ)
{۲}وفی شرح المجلۃ: المدعی من یلتمس خلاف الظاہر والمدعی علیہ من یتمسک بالظاہر۔ (شرح المجلۃ ۵:۵ الکتاب الرابع عشر فی الدعویٰ)
المستفتی: بخت حسین متعلم حقانیہ مصری بانڈہ…۲۳/صفر المظفر۱۴۰۲ھ
الجواب : یہ بیع شرط کی وجہ سے فاسد ہے اور ہر ایک طرف اس عقد کو فسخ کر سکتا ہے، لما فی ردالمحتار ۴:۱۲۱{۱} وہدایۃ۳:۶۴{۲} اور یہ پشیمانی رشوت اور حرام ہے۔ وھوالموفق