Fatwa Explorer

Fatwa #4367421 November 2019India

Kya shohar ke stylish raho bolna jayaz hi kya?Is ke kuch hudood hi kya?

Question

Assalamualikum Mufti sab,

Mere ahliya Aalima hi. Mere ahliya saadigi sey rahna pasand kartheen. My thodashariyath ke huddo me , stylish rahne ke liye kahtha rahthoon isliye ki My aisey jagah me kaam karthoon jahan aurathan bansawaar hokey aathey.

Kya shohar ke stylish raho bolna jayaz hi kya?Is ke kuch hudood hi kya?

Kya aurath sirf beech ka maang hi nikalna hi?Doosre hairstyles nahi daalsakthey kya?

Jazakallahukhair

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

Islam sadghi awr iffat kitalim deta hai. Dono mard awr awrat ko nigah neche rakhne ka hukm diya giya hai. Khususan us shakhs ke liye jo ikhtilaati mahuwl me kam karta ho. 

Agar koi awrat dindar hai awr mukammal parda karti ho toh ye bari saadat mandi ki bat hai. Shuhar agar chahta hai ke wo shari hudood me rahte huwe saaf surthri, ‘stylish’ rahe to ye jaiz hai awr jaiz zinat karne me koi guna nahi. Lekin busharte ke zinat faqat shuhur ke liye ho awr ghair maharim ke samne na ho.

Agar shuhar ye chahta hai ke biwi sar ke balu ko kat de, to ye na jaiz awr haram hai. Albatta dusre hairsyles upnana jaiz hai. Isi tarah nail polish wa gaira lagana bhi durust nahi kywn ke is se wudu awr ghusl durust nahi huwta hai.

Mankuha biwi ke liye shuhar ke hukam ke itaat mei thawab hai magar shari hudood me rehte huwe.[1]

And Allah Ta’āla Knows Best

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.

______


[1]فتاوی دینیة (۲۸۱۷/٥)

 شوہر کا اپنی بیوی کو اپنے سامنے فیشن کرنے کے لئے کہنا
سوال:ایک دیندار گھرانہ کی باعمل پردہ نشیں عورت جو کہ اپنے دیور وغیرہ سے بھی پردہ کرتی ہے ، نیز یہ گھرانہ عوام میں بھی مقتدی ،اہل علم اور دیندار سمجھا جاتا ہے ۔اور لوگوں کا رجوع

بھی ان کی طرف ہے ۔ ایسی دیندار عورت کو اس کا شوہر فیشن کرنے کو کہتا ہے ۔ حالانکہ شادی سے قبل کبھی بھی اس نے اپنے باپ کے یہاں فیشن نہیں کیا ۔ 
امور فیشن یہ ہیں : سرؔ کے بالوں کو تراشنا ، پلکوں ؔ پر رنگ لگانا ، لبوں ؔ پر لالی لگانا ، ناخنؔ پرنیل پالش لگانا ، سرؔکے بالوں کو مختلف ڈیزائن اور فیشن سے سنوارنا ، (ممکن ہے کہ تشبہ بالغیر یاتشبہ بالفساق لازم آئے )،بالوں ؔ کو سیاہ یا اور قسم کے رنگ سے رنگنا ۔اور مختلفؔ ڈیزائن اور فیشن کے کپڑے پہننا وغیرہ۔ 
کیا ایسے مقتدی اور دیندار گھرانہ کی عورت کے لئے اپنے شوہر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہر وقت مذکورہ اور اس کے علاوہ اور طرح سے فیشن کرنا جب کہ دوسری عورتیں بھی ان کے گھر آمد و رفت رکھتی ہوں ،اور اس دیندار گھرانہ کی عورتیں دوسرے کے گھروں پر جاتی ہوں ،اور عوام اس دیندار گھرانہ کی اس فیشن والی زندگی کو دیکھ کر ہر قسم کے فیشن کے جواز پر استدلال کر کے گھر میں اور باہرہر موقع پر بلا برقع کے فیشن کرتی ہے(بالخصوص جب کہ ایسی عورتیں مدرسہ یا دعوت وتبلیغ اور وعظ وغیرہ بھی کرتی ہوں اور ایسی حالت میں تدریس، ووعظ اور تبلیغ بھی کریں )جائز یا نہیں ؟
نوٹ : ناخن کی پالیش خشک ہونے کے بعدمجسم ہوجاتی ہے اوروصول پانی سے مانع ہے ۔لبوں پر لگائی جانے والی لالی اور پلکوں پر لگایا جانے والا رنگ میں خاص قسم کی چکناہٹ ہوتی ہے ۔
جس کی وجہ سے پانی ادھر ادھر سے گذرجاتا ہے ۔ مذکورہ لالی اور رنگ وغیرہ میں الکحل یا جانور کاتیل یا اور کوئی ناجائز چیز کی ملاوٹ نہیں ہوتی ہے ۔ غیر شادی شدہ عورت کوسوال نمبر ایک میں بیان کردہ فیشن کرنا جائز ہے یا نہیں ؟عورتوں کے لئے فیشن کی حدود کیا ہیں
؟مذکورہ فیشن اپنے جلوے خانہ (تنہائی)میں شوہر کے سامنے اس کو خوش کرنے کے لئے جائز ہے یا نہیں ؟ 
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً…عورت کے لئے شریعت نے پردہ لازم قرار دیا ہے ۔اگر کوئی عورت مکمل شرعی پردہ کرتی ہے ،دیندار ہے ،تو یہ بڑی سعادت مندی کی بات ہے ۔شوہر اگر چاہتا ہے کہ وہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے صاف ستھری رہے تو یہ جائز ہے اور جائز زینت کرے تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
عورت کے سر کے بالوں کو تراشنایاکٹوانا ناجائز اور حرام ہے ۔ اسی طرح نیل پالش وغیرہ لگانا بھی درست نہیں کیونکہ اس سے وضو اورغسل درست نہیں ہوتا ۔ اور جو چیز ناجائز ہو اس کو خود کرنا بھی جائز نہیں اور شوہر کہے تب بھی اس کی اطاعت کرنا درست نہیں ۔ زینت کے مسائل منکوحہ اور غیر منکوحہ دونوں کے لئے یکساں ہیں ۔ منکوحہ کے لئے شوہر کے حکم کی اطاعت میں اطاعت شوہر کا ثواب ہے ۔

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.