Fatwa Explorer

Fatwa #436624 February 2020India

Is it permissible to rent out ones property to the bank & ATM?

Question

Is it permissible to rent out the property to the bank and ATM ?

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

There are differences of opinions among our Fuqahā’ in leasing ones property to a tenant who would use the property in sinful activities. According to Imam Abu Hanifah (rahimahullah), it is permissible as the income is due to the rent of the property.[1] The landlord is not responsible for the sinful activities of the tenant. According to Imam Abu Yusuf and Imam Muhammad (rahimahumallah), it is not permissible as that is assisting in sin which is prohibited in the Quran. Allah Taʿālā says:

ولا تعاونوا على الإثم (سورة المائدة، الآية ٢)

Translation: “And do not assist in sin” (Sūrah al-Māidah, verse 2)

According to Imam Abu Yusuf and Imam Muhammad (rahimahumallah), if the act is mixed (i.e. the tenant will conduct both halal and haram activities in the property), then the majority will be taken into consideration. If the majority of the tenant’s activities will be permissible then renting out the property to him will be permissible and if the majority of the tenant’s activities will be impermissible then renting out the property to him will be impermissible.

Considering the challenges of Muslims living in non-Muslim majority countries, the Fuqahā’ have granted leeway to practice upon the opinion of Imam Abu Hanifah (rahimahullah). Accordingly, it is permissible to rent out ones property to a bank and/or an ATM machine.

And Allah Ta’āla Knows Best

Abrar Habib

Student - Darul Iftaa

New York City, New York, USA

Checked and Approved by,

Mufti Ebrahim Desai.

05-06-1441|30-01-2020


[1]  كنز الدقائق (ص: 612)

وجاز بيع العصير من خمار وإجارة بيت ليتخذه بيت نار أو بيعة أو كنيسة أو يباع فيه خمر بالسواد

ملتقى الأبحر (ص: 186)

ولا تكره إجارة بيت بالسواد ليتخذ بيت نارا وكنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 661)

(و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الاصح) وأما الامصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الاسلام فيها، وخص سواد الكوفة لان غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا: لا ينبغي ذلك لانه إعانة على المعصية، وبه قالت الثلاثة

فتاوى محموديہ،  ج-٢٣، ص-٣٢٠

الجواب حامدا ومصليا:   ا مام اعظم رحم الله تعالی کے نزدیک عمارت کرایہ پر دینا درست ہے ، مستاجر جس کام میں بھی استعمال کرے وہ اس کا فعل ہے ۔ صاحین رحمهما الله تعالی کے نزدیک نا جائز کام کے لئے کرایہ پر دینا مكروه اورممنوع ے ، کام مخلوط ہو تو غالب کا اعتبار ہوگا ۔ پس دوسرے قسم کے بینک کے لئے بالا تفاق درست ہے اور پہلی قسم کے بینک کے لئے عمارت کرایہ پر دینے میں امام صاحب رحمہ الله تعالی کے نزدیک گنجائش ہے، وهو الأوسع . اور صانبین رحمہما اللہ تعالی کے نزدیک مکروہ وممنوع ہے ۔ ” وهو الأورع

حلال یا غالب حلال مخلوط روپیہ کرایہ پر لینا درست ہے ۔ حرام یا غالب حرام مخلوط روپیہ لینا درست نہیں

فتاوى قاسميہ، ج-٢١، ص-٥٨١

الجواب وباللّٰہ التوفیق: زید نے اگر محض اپنی زمین کرایہ وصول کرنے کی نیت سے دی ہے، تو زید نہ گنہگار ہوگا اور نہ اس کے کرایہ میں کسی قسم کی قباحت آئے گی اور زمین کو کرایہ پر لینے والے اس زمین پر جائز کام کریں یا ناجائز کام کریں ، وہ ساری باتیں کرایہ دار کے ذمہ ہیں ، اگر ناجائز کام کریں گے، تو گنہگار ہوں گے۔ اور اگر جائز کام کریں گے تو گناہ سے بچیں گے۔ اور اگر زید نے ناجائز کام کرنے کی نیت سے کرایہ پر زمین دی ہے، تو تعاون علی المعصیۃ کی وجہ سے زید بھی گنہگار ہوگا؛ لیکن زمین کا کرایہ زید کے لئے بہر حال حلال ہوگا؛ اس لئے کہ جو کچھ کرایہ آتا ہے اس کی زمین کی کرایہ داری کا معاوضہ ہے، جو اس کے لئے بہر حال حلال ہے۔

كتاب النوازل، ج-١٢، ٢٨٤

الجواب وباللّٰہ التوفیق: ATM مشین سے روپیہ نکالنے کا ہر عمل سودی نہیں ہے؛ لہٰذا ATM مشین لگانے کے لئے اپنی جگہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

فتاوى عباد الرحمن، ج-٦، ص-٢٤٤

سودی بینک کو مکان کرایہ پر دینا گناہ کا معاون اور سبب بنے کی وجہ سے نامناسب ہے ۔ لہذا ایسے ادارے جو سودی معاملات کرتے ہوں مکان کرایہ پر دینے سے احتراز کیاجائے ، ہاں جو سودی معاملات نہ کرتے ہوں انہیں مکان کرایہ پر دینا بلاشبہ جائز ہے

فتاوی رحیمیہ قدیم ۹/ ۲۷۶، جدید ۹/ ۲۹۱

الجواب وباللّٰہ التوفیق: جس بینک کا معاملہ سود پر مشتمل ہو اور سود ہی اس کی آمدنی کا ذریعہ ہو، جیسا کہ آج کل اکثر بینکوں کا معاملہ ایسا ہی ہے، تو ایسے بینک کو بلڈنگ کرایہ پر دینا در پردہ معصیت پر تعاون ہے؛ اس لئے یہ غیر مناسب خلاف اولیٰ اور مکروہ تنزیہی کے درجہ میں ہے اور چونکہ سودی کاروبار فاعل مختار کا عمل ہے، جس میں مالک مکان کا کوئی دخل نہیں ہے؛ اس لئے اس کا گناہ صرف کرایہ دار پر ہوگا، مالک مکان پر نہیں ہوگا۔ اور بلڈنگ کا کرایہ مالک مکان کے حق میں حرام نہیں ہوگا؛ اس لئے کہ وہ اپنے مال کی اجرت لے رہا ہے۔

نظام الفتاوی جلد٤ حصہ دوم - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع ١٢٢

جواب وباللّٰہ التوفیق:بینک یا اے ٹی ایم کے لئے مکان یا کسی اور جگہ کو محض کرایہ وصول کرنے کی نیت سے کرایہ پر دینا جائز اور درست ہے، اب بعد میں کرایہ پر لینے والا جو بھی اس میں کرے گا، وہ اس کا خود ذمہ دار ہوگا، آپ کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔

Follow Mufti Ebrahim Desai’s official Twitter handle: @MuftiEbrahim

Latest Tweet:

‘A student will remember your love & care more than your academics. Inspire with your conduct more than with your Knowledge.’  

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.