Fatwa Explorer

Fatwa #424516 February 2020South Africa

Can i fast in this situation?

Question

Dear Mufti Saheb

If a person masturbates and is in a state of Janabat after Subh sadiq,and he intends to fast. Will it be Jaaiz for him to take a ghusl by not rinsing the mouth completely and putting just enough water in the nostrils? Or must he take a full ghusl and not fast

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

It must be noted that masturbating is an evil act which is Haram and a major sin.[1] One should make Tawbah and Istigfaar and quit this evil and harmful act of masturbating.

In the enquired situation, if one masturbated before Subah Sadiq, and was in the state of Janabat after Subah Sadiq then the fast for that day will be valid. However, one will have to perform a Fardh Ghusl.

Furthermore, when performing Fardh Ghusl whilst fasting, one should maintain caution and avoid placing water deep in the throat and nose.[2]

And Allah Ta’āla Knows Best

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.


[1] الفتاوى الهندية  (15/ 432)

 الاستمناء حرام ، وفيه التعزير

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 27) 

الاستمناء حرام، وفيه التعزير

بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية وشريعة نبوية(6/ 1) 

( وأما الاستمناء باليد ) أي بمعالجة يد نفسه ( فحرام ) لأنه استمتاع بالجزء

فتاوی رحیمیہ جلد 7 ص 263

استمناء بالید (مشت زنی) سے روذہ ٹوٹے گا یا نہیں ؟

(سوال ۳۲۶)رمضان کے روزے میں استمنا بالید (مشت زنی) کا ارتکاب ہوگیا تو اس کا کیا حکم ہے؟ روزہ ٹوٹے گا یا نہیں ، اگر ٹوٹ جائے تو صرف قضا کا حکم ہے یا کفارہ بھی واجب ہوگا ۔ بینوا توجروا۔

(الجواب)روزہ کی حالت میں استمنا بالید (مشت زنی) مکروہ تحریمی اور سخت گناہ کا کام ہے اس فعل سے اگر انزال نہ ہو تو روزہ فاسد نہ ہوگا ا ورگر انزال ہویا (منی نکل گئی ) تو روزہ فاسد ہوجائے گا ، قضا لازم ہے ، کفارہ واجب نہ ہوگا،درمختار میں ہے ۔(وکذا الا ستمناء بالکف) ای فی کونہ لا یفسد لکن ھذا اذا لم ینزل اما اذا انزل فعلیہ القضاء کما سیصرح بہ وھو المختار کما یأ تی الخ (درمختار و شامی ص ۱۳۶، ص ۱۳۷ ج۲) باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ) فقط واﷲ اعلم بالصواب

فتاوی دینیہ جلد 5 ص309

۲۹۴۲ - استمناء بالید کی حرمت

سوال: میں ایک بیس سال کا نوجوان ہوں کچھ دنوں سے مجھے استمناء بالید (مشت زنی) کی عادت ہوگئی ہے۔ (کتنے ہی نوجوان اس سے توبہ کرتے ہیں اور اسے گناہ سمجھتے ہیں لیکن جوانی کے جوش میں کچھ مدت بعد دو بارہ مشتِ زنی کرنے لگتے ہیں ) یہ گناہ کا کام ہے اسے جاننے کے بعد میں نے اللہ کے حضور توبہ کی لیکن پھر یہ عادت واپس شروع ہوگئی اس طرح میں توبہ کرتا رہتا ہوں اور پھر یہ عادت شروع ہو جاتی ہے تو کیا میں سخت گنہگار کہلاؤنگا؟ اور میری اصل توبہ قبول ہوگی یا نہیں ؟ اور کیایہ مشتِ زنی گناہ کا کام ہے؟

الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… علامہ حصکفیؒ در مختار میں ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ ’’ناکح الید ملعون‘‘ ترجمہ: مشتِ زنی کرنے والا ملعون ہے اور یہ کام خلاف فطرت ہے، دین وصحت دونوں اعتبار سے سخت نقصان دہ ہے لہٰذا ایسے گناہ کے کام چھوڑ دینا چاہئے، نیز ایسے کام کرنے والوں کے ہاتھوں میں جب وہ میدان حشر میں اٹھیں گے حمل ہوگا، لہٰذا اب کبھی یہ کام نہ کرنے کا پختہ ارادہ کر کے اور جو ہوگیا اس پر شرمندہ ہوکر توبہ کر لینی چاہئے کہ اس طرح اللہ کے یہاں توبہ قبول ہو جاتی ہے اور گناہ بھی بالکل معاف ہو جاتا ہے، توبہ کے بعد پھر یہ گناہ ہو جائے تو دوبارہ اسی طرح توبہ کر لینی چاہئے۔

[2] البحر الرائق شرح كنز الدقائق (1/ 114)

أن المبالغة في الاستنشاق لغير الصائم مسنونة

رد المحتار (1/ 304)

(والمبالغة فيهما ) بالغرغرة ، ومجاوزة المارن ( لغير الصائم ) لاحتمال الفساد

نور الإيضاح (ص: 22)

والمبالغة في المضمضة والاستنشاق لغير الصائم

فتاوی رحیمیہ جلد 7 ص 206

روزہ کی حالت میں غسل کرتے وقت غرغرہ کرنے اورناک کے اوپر کے

حصہ میں پانی پہنچانے کا حکم:

(سوال ۲۶۳)کسی شخص کو بحالت صوم احتلام ہوا روزہ کی حالت میں اس نے غسل کرتے وقت غرغرہ نہیں کیا اور نہ ناک کے نرم حصہ تک اس نے پانی پہنچایا تو ا س کا غسل ہوا یا نہیں ؟ اور ا س طرح غسل کر کے اس نے نماز پڑھائی تو نماز درست ہوئی یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

(الجواب)روزہ دار کے لئے غرغر ہ اور ناک کے نرم حصہ میں پانی پہنچانے کا حکم نہیں ہے کہ روزہ ٹوٹنے کا اندیشہ ہے۔مراقی الفلاح میں ہے (ویسن المبالغۃ فی المضمضۃ) وھی ایضال الماء لراس الحلق والمبالغۃ فی (الا ستنشاق) وھی ایصالہ الی ما فوق المارن(لغیر الصائم) والصائم لا یبالغ فیھما خشیۃ افساد الصوم لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام بالغ فی المضمضۃ والا ستنشاق الا ان تکون صائماً (مراقی الفلاح)(قولہ والمبالغۃ) فیھما ھی سنۃ فی الطہارتین علی المعتمد وقیل سنۃ فی الوضوء واجبۃ فی الغسل الا ان یکون صائماً(طحطاوی علی مراقی الفلاح ص ۳۹ فصل فی سنن الوضوء)لہذا جو نماز پڑھائی ہے وہ صحیح ہے اعادہ کی حاجت نہیں ۔ فقط واﷲ اعلم بالصواب۔

آپ کے مسائل اور اُن کا حل جلد 2 ص50

س… اگر کسی کو دن کے وقت غسل واجب ہوجائے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا کہ نہیں؟ اگر نہیں ٹوٹتا تو غسل کیسے کیا جائے؟

ج… اگر روزے کی حالت میں احتلام ہوجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، روزہ دار کو غسل کرتے وقت اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ پانی نہ تو حلق سے نیچے اُترے، اور نہ دماغ میں پہنچے، اس لئے اس کو کلی کرتے وقت غرغرہ نہیں کرنا چاہئے، اور ناک میں پانی بھی زور سے نہیں چڑھانا چاہئے۔

Follow Mufti Ebrahim Desai’s official Twitter handle: @MuftiEbrahim

Latest Tweet:

‘A student will remember your love & care more than your academics. Inspire with your conduct more than with your Knowledge.’ 

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.