Fatwa Explorer

Fatwa #468924 January 2021South Africa

Making Zikr in Chorus

Question

Hadhrat Mufti Sahib 

Making duaa Mufti Sahib is well 

I would like to find out, for the sake of clarity, wether it is permissible to make zikr in unison (like a chorus) where the Shaikh leads and the murids follow? I have read that some Muftis say it is makruh and that the correct form of congregational zikr is that brothers should sit at the same time and recite their azkaar individually. Please advise

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu 'alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

When people gather to make loud Zikr, each person should make his own Zikr. 

Loud Zikr should not be done in unison in the form of a chorus. [i] 

And Allah Ta'āla Knows Best

Checked and Approved by,

Mufti Ebrahim Desai. 



[i] فتاویٰ محمودیہ 4/442 

في نفسہ ذکر اللہ بہت مبارک ہے ، قرآن کریم اور حدیث شریف میں اس کی کثرت سے ترغیب آئی ہے...  ان کو آہستہ اور جہر سے پڑھنا ہرطرح ٹھیک مگر مناسب یہ ہے کہ ان کو آہستہ پڑھا جائے اور انفرادی طور پر پڑھا جائے حلقہ کی صورت سے آواز ملا کر پڑھنے سے پرہیز کیا جائے ، بسا اوقات اس میں تان کی صورت پیدا ہو جاتی ہے ، اپنا اپنا الگ پڑھیں ،

فتاوى دار العلوم زكريا 

کیا ذکر جہری یعنی اللہ اللہ کرنا بدعت ہے؟
سوال: بعض حضرات ذکر جہری یعنی صوفیہ حضرات کا اللہ اللہ پڑھنے کو بدعت یا بے دلیل و بے ثواب سمجھتے ہیں کیا یہ بات درست ہے؟
جواب: کفایۃ المفتی میں ہے :
ذکر جلی جائز ہے اور مشائخ صوفیہ کا معمول و متوارث ہے احادیث کثیرہ سے اس کا ثبوت ہوتا ہے جن مواقع میں شریعت نے خود ذکر جلی مقرر فرمایا ہے اس کے اندر تو کوئی کلام ہی نہیں کر سکتا جیسے اذان، تکبیر، تلبیہ، حج، تکبیر، تشریق وغیرہ کہ یہ سب اذکار ہیں اور جہر سے ثابت ہیں۔ ہاں جن مواقع میں کہ شریعت سے ثبوت نہیں وہاں اگر کوئی وجہ عارضی مانع نہ ہو تو نفس حکم یہی ہے کہ کسی سونے والے کو تکلیف ہو یا کسی نماز پڑھنے والے کی نماز میں خلل پڑتا ہو یا ذکر کرنے والا جہر کو ضروری یا لازم سمجھے وغیرہ۔ اور جہاں یہ موانع موجود نہ ہوں وہاں ذکر جلی جائز مگر ذکر خفی اولی ہے۔ (کفایت المفتی۲/۷۷)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
فی نفسہ ذکراللہ بہت مبارک ہے، قرآن کریم اور حدیث شریف میں اس کی کثرت سے ترغیب آئی ہے۔ جو کلمات سوال میں مذکور ہیں(سبحان اللہ،الحمد للہ،لاالہ الا اللہ) ان کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ان کو آہستہ اور جہر سے پڑھنا ہر طرح ٹھیک ہے۔ مگر مناسب یہ ہے کہ ان کو آہستہ پڑھا جائے۔ (فتاویٰ محمودیہ۱۵/۱۰۲)

نیز مذکورہے:
اما الذکر فی قولہ تعالیٰ {فاذا قضیتم الصلوٰۃ فاذکروا اﷲ قیاما وقعودا وعلی جنوبکم}ھوالصلوۃ ولکنہ علی احد الوجھین اما الذکربالقلب وھوالفکرفی عظمۃ اﷲ تعالیٰ وجلالہ وقدرتہ فی خلقہ وصنعہ من الدلائل علیہ وحکمہ وجمیل صنعہ والذکر الثانی:الذکرباللسان بالتعظیم والتسبیح والتقدیس وروی عن ابن عباس رضی اﷲ عنھما قال أحد فی ترک الذکرالا تعلو باعلی عقلہ (احکام القرآن۲/۳۲۳) قال أبو سعود فی قولہ تعالیٰ {فاذکروا اﷲ قیاما وقعودا وعلی جنوبکم}ای فداوموا علی ذکراﷲ تعالیٰ وحافظوا علی مراقبتہ ومناجاتہ ودعائہ فی جمیع الاحوال حتی فی حال المسابقۃ والقتال کما فی قولہ تعالیٰ {اذا لقیتم فئۃ فاثبتوا واذکروا اﷲ کثیرا لعلکم تفلحون}(تفسیرابی السعود۳/۹)۔(فتاویٰ محمودیہ ۶ /۳۹)

معارف القرآن میں ہے :
{واذکر اسم ربک}اس آیت کریمہ میں ذکر اللہ کے حکم کو لفظ اسم کے ساتھ مقید کرکے واذکر اسم ربک فرمایا ہے واذکر ربک نہیں فرمایا اس میں اشارہ اس طرف نکلتاہے کہ اسم رب یعنی اللہ اللہ کا تکرار بھی مطلوب ومأمور بہ ہے۔(مظہری)بعض علماء نے جو صرف اسم ذات اللہ اللہ کے تکرار کو بدعت کہدیاہے اس سے معلوم ہوا کہ اس کو بدعت کہنا صحیح نہیں۔(معارف القرآن۸/۵۹۴)
مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: ذکر اجتماعی وجہری شریعت کے آئینہ میں ص۱۶۱۔۱۶۵۔واللہ اعلم

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.