Fatwa #468426 January 2021United Kingdom
Do the relics in Turkey actually belong to the Messenger of Allāh (Ṣallallāhu Alayhi wa Sallam)?
Question
SALAAM are belongings of our prophet muhammad s.a.w in turkey are they real like teeth and hair
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu 'alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
In principle, any relic attributed to the Messenger of Allāh (Ṣallallāhu Alayhi wa Sallam) must have a ṣaḥīḥ sanad (authentic chain) to be considered the Messenger of Allāh's (Ṣallallāhu Alayhi wa Sallam). If the relics do not have an authentic chain, we do not affirm nor deny its attribution to the Messenger of Allāh (Ṣallallāhu Alayhi wa Sallam).[1]
It is reported that the Messenger of Allāh (Ṣallallāhu Alayhi wa Sallam) shaved his blessed head, and distributed half his hair to the Ṣaḥābah (Raḍiya Allāhu ʿanhum) and gave the other half to Abū Ṭalḥa (Raḍiya Allāhu ʿanhu).[2]
We cannot comment on the relics in Turkey as we do not know the authenticity of the attribution of these particular relics to the Messenger of Allāh (Ṣallallāhu Alayhi wa Sallam).
And Allah Ta'āla Knows Best
Abrar Habib
Student - Darul Iftaa
New York City, New York, USA
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.
[1] الفتاوى الرحيمية
حضورﷺکے موئے مبارک کا وجود:
(سوال ۲۷) یہ مشہور ہے کہ اکثر بڑے شہروں مین اور دیہات میں حضور پر نور ا کے موئے مبارک ہیں ۔ کیا یہ درست ہے ؟ اور کیا اس کی تعظیم کی جائے ؟
(الجواب)حدیث شریف سے ثابت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے موئے مبارک صحابہ ٔ کرام کو تقسیم فرماتے تھے ۔ فتاویٰ ابن تیمیہ میں ہے ۔فان النبی ﷺحلق راسہ واعطیٰ نصفہ لا بی طلحۃ ونصفہ قسمہ بین الناس! تو اگر کسی کے پاس ہو تو تعجب کی بات نہیں ۔ اگر اس کی صحیح اور قابل اعتماد سند ہو تو اس کی تعظیم کی جائے ۔ا گر سند نہ ہو اور مصنوعی ہونے کا بھی یقین نہیں تو خاموشی اختیار کی جائے نہ اس کی تصدیق کرے اور نہ جھٹلائے ۔ نہ تعظیم کرے اور نہ اہانت کرے ۔فقط۔
الفتاوى الدينية
بال مبارک کی زیارت کرنا
سوال: ربیع الاول کے مہینہ میں ہمارے یہاں بال مبارک کی زیارت سب کرتے ہیں ۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ بال مبارک ہمارے نبی ﷺ کے سر مبارک کے ہیں ۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ بال مبارک کی زیارت کرنا کیسا ہے؟ یہ بال مبارک حضور ﷺ کے ہیں اس کا ثبوت کیا ہے؟
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً... اگر صحیح اور مستند سند سے یہ ثابت ہو جائے کہ یہ بال مبارک حضور ﷺ ہی کے ہیں تو ان کی زیارت کرنا خوش قسمتی اور ان کا ادب لازم ہے۔
[2] حجة الوداع لابن حزم (ص: 123)
ثم حلق عليه السلام رأسه المقدس وقسم شعره فأعطى نصفه الناس الشعرة والشعرتين، وأعطى نصفه الثاني كله أبا طلحة الأنصاري