Fatwa #467698 March 2024Germany
Intentionally accruing interest with the intention of helping the poor
Question
I need to know about a situation.
One of our close known family is having so tough time even to survive.
I want to help but even m not so well off to provide with basic necessities each month.
So in that case m thinking to put my all savings in fd n each month the interest that will come at least they could eat 3three times n survive well.
That interest amount I won't use for any of my personal use but if it could help some to eat n live so will that be a sin?
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykumwa-rahmatullāhiwa-barakātuh.
In principle, no Muslim by his free choice should deposit or invest his money into an interest-bearing account or scheme.
The Qur’ān is explicit regarding the serious consequences one faces by engaging in interest bearing transactions despite the apparent benefit perceived. [i]
Consider the following:
Allāh Ta’ālā states in the Holy Qur’ān:
يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ
Transaltion: Allah destroys interest and nourishes charities (Baqarah : 276)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ۔
(سورۃ البقرة، الایة: ،279,278)
Translation: those who believe fear Allah and give up what still remains of the riba if you are believers. If you do not, then beware of a war with Allah and His Messenger! But if you repent, you may retain your principal—neither inflicting nor suffering harm. (Baqarah: 278,279)
Therefore one should at all costs stay away from deliberately depositing money into an interest bearing account or scheme.
However, if one used the bank facility due to necessity and accrued interest through that, he should dispose it to the needy and poor.
Regarding helping your close family who are poor, other avenues maybe used such as dispensing your zakāt, sadaqah or giving them hampers etc.
And Allah Ta’āla Knows Best
Ikraam Elias Gangat
Student - Darul Iftaa
Zambia
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.
2020
Contemporary Fatāwā, Muftī Taqī ‘Uthmānī Hafiẓahullāh ( Pg 160, Publisher: offset plate & printing services)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 292 دار الفكر
رجل دفع إلى فقير من المال الحرام شيئا يرجو به الثواب يكفر
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 99 دار الفكر
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه
دارالافتاء دارالعلوم دیوبند
عنوان:میرا سوال یہ ہے کہ کیا اگر بینک میں پیسہ کرینٹ اکاؤنٹ میں جمع ہو، لیکن اسے جان بوجھ کر سیونگ اکاؤنٹ میں اس لیے کرالے کہ اس سے جو سود ملے گا اسے غریبوں کی مدد یا تعلیم میں خرچ کریں گے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
سوال:میرا سوال یہ ہے کہ کیا اگر بینک میں پیسہ کرینٹ اکاؤنٹ میں جمع ہو، لیکن اسے جان بوجھ کر سیونگ اکاؤنٹ میں اس لیے کرالے کہ اس سے جو سود ملے گا اسے غریبوں کی مدد یا تعلیم میں خرچ کریں گے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
بسم الله الرحمن الرحيم : غریبوں کی مدد اور ان کی تعلیم پر خرچ کا جذبہ نیک ہے، لیکن اس مقصد کے لیے جان بوجھ کر سود
جواب نمبر: 59635:
حاصل کرنا غلط ہے لہٰذا تحصیل سود کی نیت سے روپیہ سیونگ اکاوٴنٹ میں جمع کرانا درست نہیں۔
فتاوی قاسمیہ جلد ٢٠ ص ٣٢٢ مکتبہ اشرفیہ دیوبند الھند
سؤال: آج کل مدارس اسلامیہ، اوقاف دینیہ کی بڑی بڑی رقوم بینکوں میں کرنٹ کھاتہ میں جمع کی جاتی ہیں اور کرنٹ کھاتہ میں جمع شدہ رقم پر بینک سے سود نہیں ملتا، مگر اپنی ان رقوم سے بینک والے سو دی کاروبار کے ذریعہ پورا فائدہ اٹھا تے ہیں اور ان رقوم کو بطور قرض دیکر لوگوں سے بہت زیادہ سود وصول کرتے ہیں تو بجائے اس کے کہ ہماری ان بڑی بڑی رقوم سے صرف بینک والے فائدہ اٹھائیں گے، اگر ہماری یہ رقم بینک سیونگ کھاتہ میں جمع کی جائے اور بینک سے جو سود ملے، اس سے غریب محتاج مسلمانوں کے لئے خرچ کیاجائے تو ہمارے ان مذہبی اداروں کی رقوم سے غریب مسلمانوں کو بھی بہت فائدہ ہوگا، تو کیا اس طرح بینک میں سیونگ کھاتہ میں پیسے جمع کرنا جائز ہے یانہیں ؟
چونکہ عام طور پر سیونگ میں پیسے جمع کرناناجائز سمجھا جارہا ہے، اور فتاوی کی کتابوں میں یہ مسئلہ بھی نظر سے گذرا ہے کہ بینک سے ملنے والا سود بینک میں نہ چھوڑنا چاہئے؛ بلکہ اس کو وصول کرلینا چاہئے۔ امید کہ تفصیلی جواب سے مطلع فرمائیں
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سودی رقم حاصل کرنے کی نیت سے بینک میں رقم جمع کرنا ناجائز اور حرام ہے اوربنص حدیث مستحق لعنت ہے؛ اگرچہ سودی رقم سے غریبوں کی مدد کرنا مقصود ہو؛ بلکہ سودی رقم غریبوں کو دیتے وقت اگر ثواب کا ارادہ کیاجائے، تو ایمان کے چلے جانے کا خطرہ ہے؛ کیونکہ حرام چیز سے ثواب کی امید حرام کو حلال سمجھنے کے مرادف ہے، جو بہت خطرناک ہے؛ اس لئے غریبوں کی مدد کی نیت سے سودی رقم حاصل کرنے کے لئے بینک میں رقم جمع کرنا ہرگز جائز نہیں ہے۔
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ