Fatwa #466344 January 2021Bangladesh
Mahram due to Breastfeeding
Question
Dear Respected Mufti Sab and students,
My uncle and aunt have 3 children – 2 sons (age 15 and 1.5 years) and a daughter (age 13 yrs)
I would like to inquire - if my wife breastfeeds my cousin brother, will I become the mahram to his elder sister?
Consequently, will my wife become the mahram to his elder brother?
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu 'alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
When a woman breastfeeds a child within two years of birth, a foster relationship (Mahram) is created.
This will result in the foster child becoming a Mahram to the woman who breastfed him and to her family (i.e. her husband, children, siblings, parents etc.).
However, the laws of a foster relationship are confined to the child and does not apply to his family.[i]Therefore, the family of the foster child (his siblings, parents etc.) will not become a Mahram to the foster parents. Transfer
Accordingly, in the enquired situation, only the child that your wife breastfeeds will be a Mahram to you and your wife. His siblings will remain Haram upon both of you.[ii]
And Allah Ta'āla Knows Best
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.
[i] فتاوى عثمانيه 5/282
رضاعت سے حرام ہونے والے رشتوں کی تفصیل :
ان رشتوں کی تین قسمیں ہیں
(1) شیر خوار (رضیع) پر حرام ہونے والے رشتے ۔
( 2 ) مرضعہ ( رضاعی ماں ) پر حرام ہونے والے رشتے ۔
(3) مرضعہ کے شوہر (شیرخوار کے رضاعی والد) پر حرام ہونے والے رشتے ۔
ذیل میں ہر ایک کی نصیل ملاحظہ ہو ۔
(1) شیر خوار پر حرام ہونے والے رشتوں کی تفصیل :
اس سلسلے میں بنیادی اصول یہ حدیث مبارک ہے " يحرم من الرضاع مايحرم من النسب لهذا جو سات بنیادی رشتے ( ماں ، می بان ، پھوپھی ، خالہ کی ، بھائی ) سوره نساء آیت نمبر ۴۳ میں ہی قرابت کی وجہ سے حرام ہوئے ہیں ، وہ سب کے سب رضیع کے لیے رضاعی ماں کے خاندان میں بھی حرام ہوں گے ، چاہے یہ رشتے رضاعی ماں کے حقیقی رشتہ ہو یا رضاعی ہوں ۔...
(2) مرضعہ پر حرام ہونے والے رشتوں کی تفصیل:
مرضعہ کے لیے صرف اور صرف رضیع اور اس کے فروع حرام ہیں ، یعنی رضاعی ماں کے لیے اپنے رضاعی بیٹے اور اس کی اولاد سے نکاح کرنا جائز نہیں ۔ اس کے علاوہ رضاعی بیٹے کے اصول ( باپ ، دادا ، پرادا ) اور حواشی ( بھائی ، چچا ، ماموں ) سب کے سب مرضعہ کے لیے جائز ہیں ۔
یعنی حرمت رضاعت مرضعہ کے خاندان میں تو پھیلتی ہے لیکن رضیع کے خاندان میں صرف رضیع اور اس کی اولاد تک محدود رہتی ہے ۔
(3)رضائی باپ پر حرام ہونے والے رشتوں کی تفصیل :
چونکہ مرضعہ میں دودھ کا سبب اس کا شوہر ہے ، اس لیے وہ شیر خوار کا رضائی باپ ہے ، لہذا اگر شیر خوار لڑکی ہو تو وہ اس سے نکاح نہیں کر سکتا ، اس لیے کہ وہ اس کا بیٹی ہے ۔ اسی طرح رضاعی باپ کی وہ اولاد بھی اس سے نکاح کرنے کے قابل نہیں ، جو کسی اور بیوی سے ہو اس لیے کہ اس لڑکی ( شیر خوار ) کے رضاعی علاتی بھائی ہیں ۔
[ii] الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 218)
ويجوز أن يتزوج أخت ابنه من الرضاع ولا يجوز ذلك من النسب
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 215)
إنَّمَا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ أُخْتُ ابْنِهِ وَبِنْتُهُ نَسَبًا لِكَوْنِهَا بِنْتَه أَوْ بِنْتَ امْرَأَتِهِ وَهَذَا الْمَعْنَى مَفْقُودٌ فِي الرَّضَاعِ
فتاوی قاسمیہ جلد 14/56
الجواب وباللّٰہ التوفیق: زید کی شادی اپنی خالہ زاد بہن کے ساتھ درست ہے؛ اس لئے کہ خالہ کا زید نے دودھ نہیں پیاہے؛ بلکہ زید کے بھائی نے پیاہے؛ لہٰذا زید کے بھائی کے ساتھ خالہ کی لڑکی کا نکاح جائز نہ ہوگا، مگر زید نے دودھ نہیں پیاہے؛ اس لئے زید کے ساتھ حرمت کا ثبوت نہیں ہوگا اور اس کے ساتھ نکاح بلا تردد درست ہوجائے گا۔