Fatwa Explorer

Fatwa #4651216 September 2022Pakistan

Traveling without a Mahram

Question

سلام عليكم ورحمة الله وبركاته

انشاء الله you are well

Is it permissible for me to travel with my niece and her husband to Durban to see my daughter?

I live in Johannesburg

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

It is prohibited in Shari’ah for a woman to travel the distance of Safar (which is 48 miles or 78 km) without a mahram. [1]

Rasulullah (Sallallahu Alayhi Wasallam) said:

لا تسافر المرأة ثلاثا إلا ومعها ذو محرم

Translation: “A woman cannot travel (a distance of) three days unless she has a mahram with her” (Sahih Muslim #3322)

« لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تسافر مسيرة ثلاث ليال إلا ومعها ذو محرم ».

Translation: “It is prohibited for a woman who believes in Allah and the Last Day to travel a distance of three nights unless with a mahram” (Sahih Muslim #3324)

Your niece’s husband is not your Mahram. It is not permissible for you to travel with your niece’s husband from Johannesburg to Durban.[2]

And Allah Ta’āla Knows Best

Ahmad Patel

Student Darul Iftaa

South  Africa


Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.

(2020-11-11)


[1]


 الفتاوى الهندية - ط. دار الفكر (1/ 142(

وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ بِغَيْرِ مَحْرَمٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وما فَوْقَهَا

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 464(

)قَوْلُهُ فِي سَفَرٍ) هُوَ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا فَيُبَاحُ لَهَا الْخُرُوجُ إلَى مَا دُونَهُ لِحَاجَةٍ بِغَيْرِ مَحْرَمٍ بَحْرٌ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَة وَأَبِي يُوسُفَ كَرَاهَةُ خُرُوجِهَا وَحْدَهَا مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَاحِدٍ، وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْفَتْوَى عَلَيْهِ لِفَسَادِ الزَّمَانِ شَرْحُ اللُّبَابِ وَيُؤَيِّدُهُ حَدِيثُ الصَّحِيحَيْنِ «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاَللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ عَلَيْهَا» وَفِي لَفْظٍ لِمُسْلِمٍ «مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ» وَفِي لَفْظٍ «يَوْمٌ»

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 6(

وَأَجْمَعُوا أَنَّهَا لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَسِيرَ مِنْ مَكَّةَ إلَى الْحِيرَةِ وَلَا مِنْ بَلَدٍ إلَى بَلَدٍ آخَرَ بِالْقِيَاسِ عَلَيْهِ وَلَا يَلْزَمُنَا خُرُوجُهَا إلَى مَا دُونَ السَّفَرِ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ مُبَاحٌ لَهَا بِغَيْرِ مَحْرَمٍ وَلَا زَوْجٍ لِأَيِّ حَاجَةٍ شَاءَتْ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ كَرَاهَةُ خُرُوجِهَا وَحْدَهَا مَسِيرَةَ يَوْمٍ، وَإِذَا وَجَدَتْ مَحْرَمًا فَلَيْسَ لِلزَّوْجِ أَنْ يَمْنَعَهَا مِنْ الْخُرُوجِ مَعَهُ إذَا خَرَجَتْ عِنْدَ خُرُوجِ أَهْلِ بَلَدِهَا أَوْ قَبْلَهُ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ وَقَبْلَهُ يَمْنَعُهَا وَيَمْنَعُهَا مِنْ الْإِحْرَامِ إلَى أَدْنَى الْمَوَاقِيتِ وَبِمَكَّةَ إلَى يَوْمِ التَّرْوِيَةِ.

[2]

سورة النساء : 23

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا –

4:23

624 /کتاب النوازل جلد 15

عورت بغیر محرم کے کتنی دور کا سفر کرسکتی ہے؟
سوال(۳۴۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عورت بغیر محرم کے کتنا لمبا سفر طے کرسکتی ہے، یعنی کتنی دور تک جاسکتی ہے؟ اِس میں بوڑھی اور جوان کی کوئی قید ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر فتنہ کا خوف اور معصیت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو مسافتِ سفر (تقریباً ساڑھے بیاسی کلومیٹر) سے کم مسافت کا سفر محرم کے بغیر بھی جائز ہے، خواہ عورت جوان ہو یا بوڑھی۔ اور ایک روایت حضرات شیخین سے یہ ہے کہ ایک دن اور ایک رات کی مسافت یعنی ۱۶؍میل سے زیادہ مسافت کا سفر عورت کے لئے محرم کے بغیر کرنا مکروہ ہے، اور یہی قول فسادِ زمانہ کی وجہ سے فتویٰ کے زیادہ مناسب ہے۔
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا یحل لامرأۃ مسلمۃٍ تُسافر مسیرۃَ لیلۃٍ، إلا ومعہا رجلٌ ذو حُرمۃٍ منہا۔
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا یحلُّ لامرأۃ تُؤمن باللّٰہ والیوم الآخر، تُسافر مسیرۃَ یومٍ، إلا مع ذي محرم۔
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا یحل لامرأۃٍ تُؤمن باللّٰہ والیوم الآخر، تُسافر مسیرۃَ یومٍ ولیلۃٍ، إلا مع ذي محرمٍ علیہا

 فتاوی قاسمیہ جلد 12/751

مشتہاۃ عورت کا بغیر محرم کے ۴۸؍ میل کا سفر کرنا

سوال ]۴۹۵۱[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: اگر کوئی محرم یا شوہر کسی عورت یا اپنی بیوی کو ایئر پورٹ یا اسٹیشن پر لاکر چھوڑ دے، یعنی رخصت کرکے خود لوٹ جائے، پھر وہ عورت یا بیوی وہاں ۴۸؍ میل یا اس سے زیادہ کی مسافت تنہا طے کرے بغیر محرم کے اور جہاں جارہی ہے وہاں کے ایئر پورٹ یا اسٹیشن پر پہنچ کر وہاں سے کوئی اور محرم اسے گھر تک لے جائے، تو کیا اس طرح سفر کرنا جائز ہے؟ نیز کسی عذر یا شدید مجبوری کے وقت کیا حکم ہے؟
المستفتی: محمد عمر فتح پور، سیتاپور
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: شریعت کا اصل حکم تو اس سلسلہ میں یہی ہے کہ بغیر محرم یا بغیر شوہر کے مشتہاۃ عورت کے لئے تین منزل (جس کی مسافت شرعی میل کے اعتبار سے ۴۸؍ میل ہے اور موجودہ زمانہ میں کلو میٹر کے حساب سے ۸۷؍ کلو میٹر ۷۸۲؍ میٹر ۴۰؍ سینٹی میٹر ہوتی ہے) یا اس سے زیادہ مسافت کا سفر کرنا جائز نہیں ہے، اور حضرت امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک سفر حج کے لئے بھی اس سے زائد مسافت کا سفر بغیر محرم یا بغیر شوہر کے عورت کے لئے کرنا جائز نہیں ہے؛ لیکن سوال نامہ میں یہ پوچھا گیا ہے کہ کسی خاص عذر یا  شدید مجبوری کے وقت کیا حکم ہوگا؟ تو اس کے لئے چند قیودات کے ساتھ حضرت امام مالکؒ، حضرت امام شافعیؒ، امام محمد بن سیرین، امام اوزاعی اور امام حماد کے قول پر عمل کی گنجائش ہے، ان حضرات کے نزدیک ایسی جماعت کے ساتھ اور ایسے لوگوں کے ساتھ یا ایسی عورتوں کی جماعت کے ساتھ بغیر محرم اور بغیر شوہر کے ضرورت کے وقت سفر کی گنجائش ہے جن سے کسی قسم کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو؛ لہٰذا اگر عورت کا شوہر سعودیہ عربیہ یا یورپ یا امریکہ یا دور دراز کے ایسے ممالک میں ہوجہاں پہنچنے کے لئے بھاری اخراجات لازم ہیں اور محرم کا خرچ برداشت کرنا دشوار ہو اور عورت کا شوہر حقوق زوجیت کے لئے عورت کے پاس خود نہیں آ پا رہا ہے، تو ایسی صورت میں جہاں عورت ہے، وہاں کے ایئر پورٹ تک محرم پہنچا دے اور جہاں جانا ہے، وہاں کے ایئر پورٹ سے شوہر یا محرم جاکر کے ساتھ میں لے آئے، اسی طرح اگر عورت کو شوہر وہاں سے بھیج دے اور دوسری جگہ کے ایئر پورٹ سے محرم آکرکے لے جائے تو درمیان میں ہوائی جہاز میں سفر کے دوران عورت کے کسی غیر مرد کے ساتھ فتنہ میں مبتلا ہونے کا کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے، لہٰذا ایسی صورت میں مذکورہ ائمہ کے مسلک پر عمل کرتے ہوئے اس کی گنجائش ہے، کہ عورت دونوں جانب کے ایئر پورٹ تک محرم یا شوہر کے ساتھ سفر کرے اور درمیان میں صرف ہوائی جہاز میں بغیر محرم یا بغیر شوہر کے اس بات پر اطمینان کے ساتھ سفر کرے کہ ہوائی جہاز میں کسی نامحرم مرد کے ساتھ برائی اور فتنہ میں مبتلا ہونے کا کوئی خطرہ اور اندیشہ نہ ہو، ڈائرکٹ فلائٹ سے سفر بہتر ہے۔
قال حماد: لا بأس للمرأۃ أن تسافر بغیر محرم مع الصالحین۔ (ہندیۃ زکریا قدیم ۵/ ۳۶۶، جدید ۵/ ۴۲۳)
فقال مالک: تخرج مع جماعۃ النساء، وقال الشافعيؒ: تخرج مع ثقۃ، حرۃ، مسلمۃ، وقال ابن سیرین: تخرج مع رجل من المسلمین، وقال الأوزاعي: تخرج مع قوم عدول۔ (إعلاء السنن کراچی ۱۰/ ۱۴، بیروت ۱۰/ ۱۷)
إن المحرم لیس بشرط في الحج الواجب، قال الأثرم: سمعت أحمد یسأل ہل یکون الرجل محرما لأم امرأتہ یخرجہا إلی الحج؟ فقال: أما في حجۃ الفریضۃ فأرجو؛ لأنہا تخرج إلیہا مع النساء ومع کل من أمنتہ، وأما في غیرہا فلا، والمذہب الأول وعلیہ العمل، وقال ابن سیرین ومالک، والأوزاعي، والشافعي: لیس المحرم شرطا في حجہا بحال، وقال ابن سیرین تخرج مع رجل من المسلمین لا بأس بہ، وقال مالک: تخرج مع جماعۃ النساء، وقال الشافعی: تخرج مع حرۃ، مسلمۃ، ثقۃ، وقال الأوزاعي: تخرج مع قوم عدول۔ (أوجز المسالک قدیم ۳/ ۷۳۷، جدید بیروت ۸/ ۶۴۸) فقط و الله سبحانہ وتعالیٰ اعلم

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
۱۷؍ شعبان ۱۴۲۵ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۷/ ۸۵۵۲)

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.
Traveling without a Mahram | Fatwa Explorer