Fatwa #464645 August 2022Pakistan
Is it permissible for me to ask these questions to a potential spouse?
Question
Is it permissible for me to ask a woman the following questions before marriage.
1. Does she want kids after marriage? How many? When?
2. What's her preference regarding birth control (OCP/birth control pills)?
3. What's her sexual preference/expectations?
4. If it's not permissible for me to discuss these before Nikah, can an elder ask on my behalf?
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
Prior to marriage, a man and woman who are considering marriage are regarded as ghair mahrams to each other. Thus, the rules that apply to ghair mahram people will apply to them as well. The only thing that is permissible and sunnah for potential couples is to have a look at their potential spouse. [i]
Therefore, you may enquire all other relevant questions through a female member of your family. However, it is not appropriate to discuss the third point.
And Allah Ta’āla Knows Best
Ikraam Elias Gangat
Student Darul Iftaa
Zambia
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.
(2020-12-21)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 18 بولاق)
ولو أراد أن يتزوج امرأة فلا بأس بأن ينظر إليها، وإن خاف أن يشتهيها
البناية شرح الهداية (12/ 135 دار الكتب العلمية)
ومن أراد أن يتزوج امرأة فلا بأس بأن ينظر إليها
المجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 541 دار احياء التراث العربي)
وفي الاختيار إذا أراد الرجل الشراء يباح له النظر مع الشهوة دون المس انتهى فعلى هذا يلزم للمصنف التفصيل (أو النكاح) فلا بأس أن ينظر إليها مع الشهوة لما روي أن «المغيرة أراد أن يتزوج امرأة فقال - عليه الصلاة والسلام - انظر إليها فإنه أحرى أن يدوم بينكما» .
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 370 دار الفكر)
ولو أراد أن يتزوج امرأة فلا بأس أن ينظر إليها، وإن خاف أن يشتهيها لقوله - عليه الصلاة والسلام - للمغيرة بن شعبة حين خطب امرأة «انظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما» رواه الترمذي والنسائي وغيرهما ولأن المقصود إقامة السنة لا قضاء الشهوة
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 370 دار الفكر)
(امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة وإلا فحرام وهذا في زمانهم، وأما في زماننا فمنع من الشابة قهستاني وغيره (إلا) النظر لا المس (لحاجة) كقاض وشاهد يحكم (ويشهد عليها) لف ونشر مرتب لا لتتحمل الشهادة في الأصح (وكذا مريد نكاحها) ولو عن شهوة
الفتاوى الهندية (5/ 330 دار الفكر)
ولو أراد أن يتزوج امرأة فلا بأس بأن ينظر إليها، وإن خاف أن يشتهيها، كذا في التبيين.
آپ کے مسائل اور ان کا حل ج:٥ ص:٢٦ (إدارة تعليمات اسلام ديوبند)
س… شادی سے قبل ایک دُوسرے کو چاہنے والے لڑکی اور لڑکے کے تعلقات آپس میں کیسے ہونے چاہئیں؟ یعنی ایک دُوسرے سے میل جول یا بات چیت کرسکتے ہیں، لیکن کوئی غیراخلاقی حرکت کے مرتکب نہ ہونے پائیں۔ ایسی صورت میں ان کا ملن کیا شرعی حیثیت رکھتا ہے؟
ج… جس عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اس کو ایک نظر دیکھ لینا جائز ہے، خواہ خود دیکھ لے یا کسی معتمد عورت کے ذریعہ اطمینان کرلے، اس سے زیادہ ”تعلقات“ کی نکاح سے قبل اجازت نہیں، نہ میل جول کی اجازت ہے نہ بات چیت کی، اور نہ خلوَت و تنہائی کی۔ نکاح سے قبل ان کا ملنا جلنا بجائے خود ”غیراخلاقی حرکت“ ہے
نجم الفتاوى ج٤ غير موافق للمطبوع
سؤال - جناب والا میں آپ کی توجہ معاشرے میں پھیلتے ہوئے ایک ایسے زہر کی طرف کرانا چاہتا ہوں جو ہر گھر میں سرایت کرتا جارہا ہے اور لوگ معلوم نہیں اس پر توجہ کیوں نہیں دیتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ منگنی میری معلومات کے مطابق بے معنی چیز ہے اس سے شرعاً لڑکی نامحرم ہی رہتی ہے اگر میری یہ معلومات درست ہیں اور منگنی کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں تو پھر یہ جو عام رواج ہے کہ لڑکا لڑکی منگنی کے بعد گھومتے پھرتے ہیں گھر میں بغیر پردے کے ملتے ہیں کبھی تو خلوت بھی ہوجاتی ہے۔ مفتی صاحب کیا یہ غلط نہیں یا میں غلط سمجھا ہوں، منگیتر کو شریعت کیا درجہ دیتی ہے ؟ کیا بندہ والدین کے ساتھ اس سے مل سکتا ہے۔ تفصیلی جواب عنایت فرما دیں تاکہ جو حق ہو میںخود بھی اتباع کروں اور اپنے خاندان کی حد تک اسے پھیلائوں
الجواب بعون الملک الوھاب - منگنی وعدہ نکاح کانام ہے، منگنی کرنے سے عورت نامحرم اور اجنبی ہی رہتی ہے جب تک کہ نکاح نہ ہوجائے لہٰذا منگنی کرنے کے بعد لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لئے اجنبی (نامحرم) کے حکم میں ہیں اور نامحرم اجنبی عورت کو دیکھنا بلا ضرورت باتیں کرنا، خلوت یعنی تنہائی اختیار کرنا یہ سب ناجائز ہے اور والدین کی موجودگی میں بھی منگیتر سے ملنا صحیح نہیں کیونکہ ملنے کے وقت ایک دوسرے پر نظر پڑے گی اور بغیر ضرورت(اجنبی عورت) نامحرم کو دیکھنا جائز نہیں
۔