Fatwa #464341 November 2020Pakistan
Is it permissible to accept gifts from apostates?
Question
One of my father's friend died an apostate. Before his death while he was still an atheist previously a muslim when he became an atheist he gifted some gold to me which is about 20 tolas. I would like to know is it permissible to accept gifts from apostates, gifts that were given to me while the man who was apostate and died in the condition will it be halal for me?
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
We apologise for the belated response.
At the outset, we wish to point out that a devoted Mu’min is sensitive to his Iman and averse to anyone or anything that goes against his Imaani values. It is precisely for this reason that Allah Ta’ala prohibits people of Iman from keeping a close relationship (Muwalaat) with non-muslims.
It is unfortunate that your fathers friend died as an apostate. Nevertheless, the gift given by him will be permissible for you.[i]
And Allah Ta’āla Knows Best
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai
[i] الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 408)
قَالَ وَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ عَلَى رِدَّتِهِ انْتَقَلَ مَا اكْتَسَبَهُ فِي إسْلَامِهِ إلَى وَرَثَتِهِ الْمُسْلِمِينَ، وَكَانَ مَا اكْتَسَبَهُ فِي حَالِ رِدَّتِهِ فَيْئًا) وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ (وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ: كِلَاهُمَا لِوَرَثَتِهِ)…قال: " وما باعه أو اشتراه أو أعتقه أو وهبه أو رهنه أو تصرف فيه من أمواله في حال ردته فهو موقوف فإن أسلم صحت عقوده وإن مات أو قتل أو لحق بدار الحرب بطلت " وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله وقال أبو يوسف ومحمد يجوز ما صنع في الوجهين.
اعلم أن تصرفات المرتد على أقسام: نافذ بالاتفاق كالاستيلاد والطلاق لأنه لا يفتقر إلى حقيقة الملك وتمام الولاية.
وباطل بالاتفاق: كالنكاح والذبيحة لأنه يعتمد الملة ولا ملة له.
وموقوف بالاتفاق: كالمفاوضة لأنها تعتمد المساواة ولا مساواة بين المسلم والمرتد مالم يسلم.
ومختلف في توقفه وهو ما عددناه
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 247)
(وَيَزُولُ مِلْكُ الْمُرْتَدِّ عَنْ مَالِهِ زَوَالًا مَوْقُوفًا، فَإِنْ أَسْلَمَ عَادَ مِلْكُهُ، وَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ عَلَى رِدَّتِهِ) أَوْ حُكِمَ بِلَحَاقِهِ (وَرِثَ كَسْبَ إسْلَامِهِ وَارِثُهُ الْمُسْلِمُ) وَلَوْ زَوْجَتَهُ بِشَرْطِ الْعِدَّةِ زَيْلَعِيٌّ… (وَ) اعْلَمْ أَنَّ تَصَرُّفَاتِ الْمُرْتَدِّ عَلَى أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍ فَ (يَنْفُذُ مِنْهُ) اتِّفَاقًا مَا لَا يَعْتَمِدُ تَمَامَ وِلَايَةٍ، وَهِيَ خَمْسٌ: (الِاسْتِيلَادُ وَالطَّلَاقُ وَقَبُولُ الْهِبَةِ وَتَسْلِيمُ الشُّفْعَةِ وَالْحَجْرُ عَلَى عَبْدِهِ) الْمَأْذُونِ (وَيَبْطُلُ مِنْهُ) اتِّفَاقًا مَا يَعْتَمِدُ الْمِلَّةَ وَهِيَ خَمْسٌ (النِّكَاحُ، وَالذَّبِيحَةُ، وَالصَّيْدُ، وَالشَّهَادَةُ، وَالْإِرْثُ. وَيَتَوَقَّفُ مِنْهُ) اتِّفَاقًا مَا يَعْتَمِدُ الْمُسَاوَاةَ، وَهُوَ (الْمُفَاوَضَةُ) أَوْ وِلَايَةٌ مُتَعَدِّيَةٌ وَ) هُوَ (التَّصَرُّفُ عَلَى وَلَدِهِ الصَّغِيرِ. وَ) يَتَوَقَّفُ مِنْهُ عِنْدَ الْإِمَامِ وَيَنْفُذُ عِنْدَهُمَا كُلُّ مَا كَانَ مُبَادَلَةَ مَالٍ بِمَالٍ أَوْ عَقْدِ تَبَرُّعٍ كَ (الْمُبَايَعَةِ) وَالصَّرْفِ وَالسَّلَمِ (وَالْعِتْقِ وَالتَّدْبِيرِ وَالْكِتَابَةِ وَالْهِبَةِ) وَالرَّهْنِ (وَالْإِجَارَةِ) وَالصُّلْحِ عَنْ إقْرَارٍ، وَقَبْضِ الدَّيْنِ لِأَنَّهُ مُبَادَلَةٌ حُكْمِيَّةٌ (وَالْوَصِيَّةُ) وَبَقِيَ أَمَانُهُ وَعَقْلُهُ وَلَا شَكَّ فِي بُطْلَانِهِمَا. وَأَمَّا إيدَاعُهُ وَاسْتِيدَاعُهُ وَالْتِقَاطُهُ وَلُقَطَتُهُ فَيَنْبَغِي عَدَمُ جَوَازِهَا نَهْرٌ (إنْ أَسْلَمَ نَفَذَ، وَإِنْ هَلَكَ) بِمَوْتٍ أَوْ قَتْلٍ (أَوْ لَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ وَحُكِمَ) بِلَحَاقِهِ (بَطَلَ) ذَلِكَ كُلُّهُ (فَإِنْ جَاءَ مُسْلِمًا قَبِلَهُ) قَبْلَ الْحُكْمِ (فَكَأَنَّهُ لَمْ يَرْتَدَّ)
اللباب في شرح الكتاب (4/ 151)
وما باعه أو اشتراه أو تصرف فيه من أمواله في حال ردته موقوف: فإن أسلم صحت عقوده، وإن مات أو قتل أو لحق بدار الحرب بطلت
و في الشرح: (بطلت) عقوده كلها، لأن بطلان عصمته أوجب خللاً في الأهلية، وهذا عند أبي حنيفة، وقالا: يجوز ما صنع في الوجهين، لوجود الأهلية، لكونه مخاطباً، والملك لقيامه قبل موته، والصحيح قول الإمام كما سبق
امداد الأحكام 4/393
مرتد سے معاملات تجارت رکھنے کا حکم
سوال:۔ مرتد سے معاملات تجارت قائم رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
دارالحرب کے مرتدین کا حکم حربی مسالم کا حکم ہے، فقہاء نے جو مرتد کی ملکیت کے زوال کا حکم کیا ہے وہ دارالاسلام کے ساتھ خاص ہے، کیونکہ علت زوال ملک کی اس کا بحکم میت ہوتا ہے۔ للأمر بقتلہ اور دارالحرب میں مرتد قتل نہیں ہوتا۔
لعدم الولایۃ الامام علیہ فکان کالمرأۃ إذا ارتدّت قال فی البحر وقید فی المرتد لأن المرتدۃ لایزول ملکھا عن مالھا بلاخلاف فیجوز تصرفاتھا بالاجماع لانھا لاتقتل فلم تکن ردتھا سببا لزوال ملکھا کذا فی البدائع۔ و ینبغی ان یلحق بھا المرتد اذا لم یقتل من کان فی السلامہ شبہۃ کما قدمناہ بجامع عدم القتل ولم أرہ صریحًا اھ (ج؍۵،ص؍۱۳)
وفیہ ایضاً لانہ باللحاق (بدارالحرب) صار من اھل الحرب۔
ان تمام جزئیات کا مقتضا یہی ہے کہ مرتدین دارالحرب کا وہی حکم ہے جو دوسرے حربیین کا حکم ہے البتہ ان سے نفرت وکراہت زیادہ ظاہر کرنا چاہئے۔
لکون کفرھم اشدٌ
باقی شراء وبیع ان کے ساتھ جائز ہے البتہ ان کی دعوت وضیافت نہ قبول کی جائے نہ ان کے ساتھ مدارات وملاطفت کی جائے مگر یہ کہ تالیف قلب سے یہ امید ہو کہ اسلام کی طرف عود کر آئے گا۔ واللہ اعلم
احسن لافتاوى 8/250
شیعہ کی جملہ اقسام ، قادیانی ، ذکری ، منکرین حدیث اور انجمن دینداراں سب زندیق ہیں ، جن کے احکام دوسرے کفار بلکہ مرتدین سے بھی زیادہ سخت ہیں ان کے ساتھ خرید فروخت کرنا وغیرہ ہر قسم کا لین دین ناجائز ہے ، اور ان سے دوستانہ تعلق رکھنا اور محبت سے پیش آنا غیرت ِ ایمانیہ کے خلاف ہے ، حتی الامکان ان کے ساتھ ہر قسم کے معاملات سے بچنا فرض ہے اگر کسی نے ان کے ساتھ کوئی معاملہ بیع واجارہ وغیرہ کرلیا تو منعقد نہیں ہوگا البتہ صاحبین کے نزدیک عدم جواز کے باوجود نافذ ہوجائے گا بوقت ابتلاء ِ عام وضرورت ِ شدیدہ اس قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے
فتاوى دار العلوم زكريا 1/112
…معلوم ہوا کہ عدم جواز کے باوجود صاحبین کے نزدیک عقد نافذ ہوجائے گا بوقتِ ضرورت شدیدہ صاحبین کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے اور چونکہ یہاں (جنوبی افریقہ) دار الاسلام نہیں ہے اور نہ ہی مرتد کے لئے شرعی قانون موجود ہے لہذا صاحبین کے قول کے مطابق اس کے ساتھ کیا ہوا معاملہ منعقد ہوگا لیکن غیرت ِ ایمانی کے خلاف ہونے کی وجہ سے اس سے معاملہ نہ کیا جائے البتہ اگر مرتد کے خاندان والے فرہوں تو ان کے ساتھ معاملات کرسکتے ہیں ۔واللہ اعلم
فتاوى دار العلوم زكريا 5/123
الجواب : بصورت مسئولہ صاحبین کے نزدیک بیع نافذ ہو جائیگی اور اسی پرفتوی ہے