Fatwa #4639615 July 2023Pakistan
A deceased has debts outstanding - Who is responsible for his debts (if anybody)?
Question
As Salaamu Alaikum
A deceased has debts outstanding but apparently has very little or no assets. He has 3 sons 1 daughter and wife.
Who is responsible for his debts (if anybody)?
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
In principle, the debts of the deceased will be settled from his estate once burial expenses have been settled. [1]
In the situation, where there is no wealth left behind, family members will not be liable to pay off the debts of the deceased. [2][3]
However, it will be preferable for the heirs to settle the debts of the deceased.[4][5]
And Allah Ta’āla Knows Best
Abu ‘Umar Muhammad bin Zayn Patel
Student Darul Iftaa
South Africa
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.
(2020-10-26)
سراجي (ص3)
قال علماءنا رحمه الله تتعلق بتركة الميت حقوق اربعة مرتبة الاول بتكفينه و تجهيزه من غير تبذير و لا تفتير ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله ثم تنفذ من وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين ثم يقسم الباقي بين ورثته
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 7)
لَوْ مَاتَ وَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا لَا يَلْزَمُ الْوَرَثَةَ شَيْءٌ
منحة السلوك في شرح تحفة الملوك (ص: 424)
(رجل ابتلع درة أو ذهباً لغيره، ثم مات ولم يترك شيئاً: لا يشق بطنه) لأنه أتلفه بابتلاعه، والحكم في المتلف أن يضمن قيمة ما تلف، فإن ترك شيئاً: فعليه قيمته، وإن لم يترك: فلا شيء في الدنيا.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 558)
لِأَنَّ هَذِهِ الدُّيُونَ تَسْقُطُ بِالْمَوْتِ فَلَا يَلْزَمُ الْوَرَثَةَ أَدَاؤُهَا إلَّا إذَا أَوْصَى بِهَا أَوْ تَبَرَّعَتْ الْوَرَثَةُ بِهَا مِنْ عِنْدِهِمْ
فتاوى محمو دية ( 30 /68 )
میت کے ذمہ قرض ہو تو اس کا حکم
سوال : - ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس حال میں کہ اس کے اوپر کافی قرض تھا ۔ اس کی اولا کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمارا باپ فلاں کا مقروض تھا ۔ اب قرض خواہ اپنا دیا ہوا قرض اس کی والدہ سے مانگتا ہے ۔ تو اولا دن تو انکار ہی کرتی ہے اور نہ ہی اقرار ۔ بتایا جائے کہ اسمتو في مقرنس کا آخرت میں کیا حال ہوگا ۔ نیز اولا د کا سب کچھ جانتے ہو ئے کیا ہوگا ؟ اور ان کی شرعی حیثیت اب کیا ہوگی ؟
الجواب حامد أ و مصلي
قرض خواہ کے پاس اگر قر ضہ کا شرعی ثبوت ہے یا میت کی اولاد کو قرض کا علم ہے میت کے ترکہ سے اولا قرض ادا کرنا ضروری ہے ۔ قرض ادا ہونے کے بعد جو کچھ پے اس کے ایک تہائی سے میت کی وصیت پوری کی جائے اگر کوئی وصیت کی ہو ۔ اس کے بعد ورثاء شرعی طریقہ پر تقسیم کرنے کے حقدار ہوں گے اس سے پہلے حقدار نہیں ہوں گے اگر قرض ادا نہیں کریں گے تو نکالم ہوں گئے کہ اگر میت نے کچھ نہیں چھوڑا تو ورثاء کے ذمہ اس قرض کا ادا کرنا ضروری نہیں ۔ تاہم اگر اولا کو اپنے والد کو آخرت کے مواخذہ سے بچانے کی فکر ہو تو اس کا قرض ادا کر دیں ۔ اگر اتنا ترکہ چھوڑا جس سے قرضہ ادا کیا جائے تو آخرت میں اس میت کی پر نہیں ہوگی ۔ اگر اتنا ترک نہیں چھوڑا تو پکڑ ہوگی کے فنا والله سبحانہ تعالی اعلم