Fatwa Explorer

Fatwa #447169 April 2020Pakistan

Is a wife’s right to separate housing restricted to a bedroom only?

Question

What are the husband's obligations regarding providing separate shelter for his wife? She has a separate room. However, she shares the other household facilities such as the kitchen and bathroom. This is impeding on her privacy. The husband can provide separate facilities to his wife.

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

The Shari’ah has allocated specific rights to husbands and wives. Failure in fulfilling these rights results in unnecessary conflict and turmoil in the marriage.

The wife has the right to live separately. If the husband has the financial ability, then the shelter must be such that it includes a separate bathroom and kitchen which is free of interferences from other family members. If he does not have the financial ability to give a separate bathroom and kitchen, then a separate room which the wife only has access to will be fine.[i]

And Allah Ta’āla Knows Best

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.


 الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 262 دار الكتب العلمية)[i]

 (وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره بقدر حالهما كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق . زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الافتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 23 دار الكتب العلمية)

ولو أراد الزوج أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأم الزوج وأخته وبنته من غيرها وأقاربه فأبت ذلك؛ عليه أن يسكنها في منزل مفرد؛ لأنهن ربما يؤذينها ويضررن بها في المساكنة وإباؤها دليل الأذى والضرر ولأنه يحتاج إلى أن يجامعها ويعاشرها في أي وقت يتفق ولا يمكنه ذلك إذا كان معهما ثالث حتى لو كان في الدار بيوت ففرغ لها بيتا وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا: إنها ليس لها أن تطالبه ببيت آخر، ولو كانت في منزل الزوج وليس معها أحد يساكنها

الفتاوى الهندية (1/ 556 دار الفكر)

امرأة أبت أن تسكن مع ضرتها، أو مع أحمائها كأمه وغيرها، فإن كان في الدار بيوت فرغ لها بيتا، وجعل لبيتها غلقا على حدة ليس لها أن تطلب من الزوج بيتا آخر، فإن لم يكن فيها إلا بيت واحد فلها ذلك، وإن قالت: لا أسكن مع أمتك ليس لها ذلك، وكذلك لو قالت: لا أسكن مع أم ولدك كذا في الظهيرية، وبه أفتى برهان الأئمة كذا في الوجيز للكردري..

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 600 دار الفكر )

 (قوله ومفاده لزوم كنيف ومطبخ) أي بيت الخلاء وموضع الطبخ بأن يكونا داخل البيت أو في الدار لا يشاركها فيهما أحد من أهل الدار. قلت: وينبغي أن يكون هذا في غير الفقراء الذين يسكنون في الربوع والأحواش بحيث يكون لكل واحد بيت يخصه وبعض المرافق مشتركة كالخلاء والتنور وبئر الماء ويأتي تمامه قريبا (قوله لحصول المقصود) هو أنها على متاعها؛ وعدم ما يمنعها من المعاشرة مع زوجها والاستمتاع

عمدة الرعاية بتحشية شرح الوقاية (5/ 104 مركز العلماء العالمي )

ويجبُ سكناها في بيتٍ ليس فيه أحدٌ من أهلِه، ولو ولدِهِ من غيرِها برضاها، وبيتٌ مفردٌ من دارٍ له غلقٌ كفاها (وزاد في ((الاختيار))(3: 239)، و((رمز الحقائق))(1: 232)، و((الدر المختار))(2: 663): أن يكون له مرافق: أي لزوم كنيف ومطبخ، وفي ((البحر))(4: 211) ينبغي الافتاء به. وفي ((رد المحتار))(2: 663) تفصيل في المسألة يحسن الاطلاع عليه.)

(فتاویٰ محمودیہ،13 /،448،447  (جامعہ فاروقیہ کراچی

’’مردکے ذمہ واجب ہے کہ عورت کوایک مکان علیحدہ رہنے کے لیے دےکہ اس مکان میں شوہرکے ماں باپ بہن بھائی وغیرہ نہ رہتے ہوں،بلکہ وہ پورابیوی کے قبضہ وتصرف میں ہو،اورمکان سے مرادایک کمرہ یاکوٹھاہے جس کوعربی میں’’بیت‘‘کہتے ہیں ،لہذااگرصحن وغیر ہ مشترک ہوجس کوشوہرکے دوسرے عزیزبھی استعمال کرتے ہوں اوربیوی بھی تواس کومطالبے کاحق نہیں کہ میراصحن بھی مستقل ہوناچاہیے،اس میں بھی کسی کی شرکت نہ ہو۔یہ اس وقت ہے جب کہ شوہراوربیوی دونوں زیادہ مالدارنہ ہوں،بلکہ متوسط درجے کے ہوں،اگرمالدارہوں اورشوہرمیں اس قدراستطاعت ہوکہ کوئی مستقل گھرعلیحدہ بیوی کودے سکتاہے ،خواہ خریدکر،خواہ کرایہ پر،خواہ عاریت پرجس کاصحن وغیرہ بھی علیحدہ ہو جس کوعربی میں ’’دار‘‘کہتے ہیں،توعورت کواس مطالبے کاحق حاصل ہے۔"

(آپ کے مسائل اوران کاحل، ،(جلد:8،صفحہ:572،ط:مکتبہ لدھیانوی کراچی

'بیوی کوعلیحدہ جگہ میں رکھنا(خواہ اسی مکان کاایک حصہ ہو،جس میں اس کے سوادوسرے کاعمل دخل نہ ہو)شوہرکے ذمے شرعاً واجب ہے،بیوی اگرخوشی سے شوہرکے والدین کے ساتھ رہناچاہے اوران کی خدمت کواپنی سعادت سمجھے توٹھیک ہے،لیکن اگروہ علیحدہ رہائش کی خواہش مند ہوتواسے والدین کے ساتھ رہنے پرمجبورنہ کیاجائے،بلکہ اس کی جائزخواہش کاجواس کا شرعی حق ہے ،احترام کیاجائے.....والدین کی خوشی کے لیے بیوی کی حق تلفی کرناجائزنہیں۔قیامت کے دن آدمی سے اس کے ذمے کے حقوق کامطالبہ ہوگااورجس نے ذرابھی کسی پرزیادتی کی ہوگی یا حق تلفی کی ہوگی مظلوم کواس سے بدلہ دلایاجائے گا۔بہت سے وہ لوگ جویہاں اپنے کوحق پرسمجھتے ہیں ،وہاں جاکران پرکھلے گاکہ وہ حق پرنہیں تھے،اپنی خواہش اورچاہت پرچلنادین داری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پرچلنادین داری ہے'۔

كتاب النوازل  (ج:8  ص:321)

سوال(۴۳۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میرے شوہر آصف نے بچپن سے اپنے گھر اپنی آمدنی خرچ کی، اپنی بہنوں بھائیوں کا پورا شادی کا خرچہ کیا، شوہر ایکسپورٹر ہیں، میری شادی کو چھ سال ہوگئے، ساس نندوں نے شوہر کو ہمیشہ میرے خلاف چڑھایا، شوہر نے مجھے ان کے کہنے میں آکر بہت بہت مارا بھی، ساس نندوں نے میرا زیور اور اُن کے روپئے نکالے، میری اَمی پہ چوری لگائی، مجھے گھر سے نکلوانے کے لئے، میری تین سال کی ایک بچی بھی ہے، اب ظلم سہنے کی طاقت نہیں رہی، کیا میرا اَپنے شوہر کی کمائی پر اِتنا حق ہے کہ شوہر مجھے الگ گھر میں رکھیں یانہیں؟ اپنی اَمی کو خوش کرنے کے لئے شوہر نے میرے اوپر ظلم کئے، کیا یہ صحیح کیا، جواب تحریر فرمادیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ

الجواب وباللّٰہ التوفیق:شوہر پر شرعاً واخلاقاً لازم ہے کہ بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، جائز حدود میں والدین کی اطاعت لازم ہے، لیکن ان کے کہنے میں آکر بیوی پر ظلم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے، اگر کوئی شخص ایسا کرے گا، تو آخرت میں اس سے سخت مؤاخذہ ہوگا، نیز شوہر پر ضروری ہے کہ وہ بیوی کے لئے علیحدہ کمرے میں رہائش کا نظم کرے، اور گنجائش ہو تو الگ گھر کا انتظام کرے؛ تاکہ حقوق زوجیت مکمل طور پر ادا ہوسکیںاور مشترک مکان میں رہنے کی وجہ سے روز روز جونا چاقیاں ہوتی ہیں، اُن سے بچاجاسکے

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.