Fatwa Explorer

Fatwa #444042 March 2020Pakistan

Partaking of 'Fatiha' food - Is it permissible?

Question

sometimes thres a mayyit and u go it’s far from home now people tend to keep Fatiha of food same day so those coming shld also eat is it ok to partake from it or if one forced to eat then shld go home and take out that much sadqa

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

The practise of Fatiha of food when a person passes away has no basis in Shariah. However, it is permissible to make arrangements to feed people that come from far and wide to attend the Janazah. If such feeding is regarded as the customary practise of Fatiha of food, then one should avoid partaking in such food. [1]

And Allah Ta’āla Knows Best

Mudassir Benish

Student Darul Iftaa
Houston, TX, U.S.A

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.


فتاوی محمودیۃ (ج-5 ص-292 ) [1]

دفن کے بعد مکان پر مخصوص فاتحہ

سوال: میت کے دفن کے بعد  اعزہ و غیرہ کا میت کے گھڑ  پہنچ کر کھڑے  ہو کر ہاتھ باندھ کر کھانے پر فاتحہ پڑھنا  اور  دوسروں   کو   بھی ہاتھ باندھنے پر مجبور کرنا اور  جو نہ شریک ہو اس کو برا بھلا کہنا کیسا ہے؟

جواب: بلکل بے اصل اور  خلاف سنت ہے اس کو ترک کرنا لازم ہے ۔۔۔

فتاوی محمودیۃ (ج-5 ص-294 )

۔۔۔البتہ کھانا   سامنے رکھ کر محض سورتوں اور آیتوں کو پڑھنا ثابت نہیں

فتاوی قاسمیہ (ج10- ص- 237)

مروجہ فاتحہ خوانی کے بعد کھانا کھانا کیسا ہے؟
سوال:]۴۰۵۳[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ(۱) فاتحہ مروجہ یعنی سامنے کھانا یاکچھ شیرینی رکھ کر اس پر ’’ الم ذلک الکتاب لاریب فیہ‘‘ سے لیکر ’’مفلحون ‘‘ تک اورسورہ حشر کی آخری تین آیات اورچار قل پڑھتے ہیں پھر ہاتھ اٹھاکر دعا مانگتے ہیں اس کے بعد کھانے کو تناول فرماتے ہیں یہ امر کیسا ہے ؟
(۲)فاتحہ مروجہ کی ابتدا کہاں سے ہوئی اور کس نے اس کام کو شروع کیاہے؟
(۳)ایسے کھانے کو کھانا کیساہے ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میںمدلل تحریر فرمائیں ؟
المستفتي:محمد عبد الصمد ، بلاسپور گیٹ ، امام کھیر والی مسجد ، ضلع :رامپور
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہٰ التوفیق:(۱) فاتحہ خوانی کا مروجہ طریقہ بے اصل ہے اور اس کا ثبوت نہ تو قرآن سے ہے ، اور نہ ہی حدیث نبوی سے اور نہ فقہ کی کتابوں سے ہے ، بلکہ حضرات فقہاء نے اسکو بدعت لکھا ہے ۔(مجموعۃالفتاویٰ ۱/۸۱، احیاء العلوم /۱۴۸، فتاویٰ محمودیہ قدیم ۱/۲۲۹، جدید ڈابھیل ۳/۶۸، امداد المفتیین /۱۵۷)
قراء ۃ الفاتحۃ والإخلاص والکافرون ، علی الطعام بدعۃ۔( فتاویٰ سمر قندی بحوالہ فتاویٰ رحیمیہ قدیم ۳/۱۹۳، جدید زکریا۲/۱۱۶)
  فاتحہ مروجہ کی ابتداء کہاں سے ہوئی ہے ، اس کا کہیں سے ثبوت نہیں ملتاہے ، البتہ ہندوستانی مسلمانوں نے ہندوانی تہذیب سے متأثر ہوکر ان کے افعال کو اپنا لیاہے ،(۲)

جیسا کہ ’’ تحفۃ الہند‘‘ کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتاہے، کہ جب ان غیر مسلموں میں سے کوئی مرجاتا تھا تو اس کے مرنے پر کھانا پکا کر پنڈت سے اس پر وید پڑھواتے تھے ، اسی رسم کو مسلمانوں نے بھی اپنا لیا ۔( تحفۃالہند/۵ ۸)
نیز جوہدیۃ الحرمین کے حوالہ سے بعض لوگوں نے کہا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے کا انتقال ہوا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دسواں اور چالیسواں کیا اور کھجور پر فاتحہ دی تویہ غلط اور بے ثبوت بات ہے ، کتب معتبرہ سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ (فتاوی رشیدیہ قدیم /۱۵۲، جدید زکریا/۱۲۷)
(۳) فاتحہ کا یہ طریقہ ناجائز ہے مگر نفس کھانا حرام نہیں ہے، بلکہ اسکی حلیت باقی رہتی ہے ، اور اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اسکو ضروری جاننا براہے ، اور بہتر یہ ہیکہ جو کچھ پڑھناچاہیں پڑھ کر اس کا ثواب میت کو پہونچا دیں اورکھانے کو تصدق کی نیت سے فقراء کو کھلا دیں ۔ ( فتاویٰ رشیدیہ قدیم /۱۵۳، جدید زکریا /۱۲۷، احیاء العلوم /۱۴۸)
صرح علماؤنا فی باب الحج عن الغیر بأن للإنسان أن یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ أو صوماً أو صدقۃ أو غیر ہا کذا فی الہدایۃ ۔ (شامی ، کتاب الصلاۃ، ، باب صلاۃ الجنازۃ ، مطلب فی القرأۃ للمیت واہداء ثوابہا لہ، زکریا ۳/۱۵۱، کراچی ۲/۲۴۳) فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.