Fatwa #442844 March 2020Canada
Is it permissible to attend a wedding of a close relative if it is a mixed gathering?
Question
Asalamualaikum I was wondering if it is permissible to attend a wedding of a close relative if it is a mixed gathering where there will be music, dancing, and mixing between genders and possibly alcohol. Is it permissible to attend this even if it’s a close family member (brother/sister,uncle/aunt etc.)? Jazakallah
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
According to Shariah, the principle is one cannot obey people and fulfill their requests which are against the commands of Allah Ta'ala.
Nabi (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) said:
لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ(الطبراني:1/155)
Translation: “There is to be no obedience to anyone in the disobedience of Allah”(Tabrani:1/155)
Our responsibility and commitment is to Allah Ta'ala first before anyone else. It is not permissible to violate the laws of Allah Ta'ala while pleasing family.
Allah Ta'ala says:
وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ(سورة هود:113)
Translation: " And do not incline toward those who do wrong, lest you be touched by the Fire".(Surah hud:113)
You should excuse yourself from such gatherings and politely explain the reason for that. Insha-Allah, that will be a means of changing the family and bringing Deen in their lives.[1] [2] [3] [4]
And Allah Ta’āla Knows Best
Ahmad Patel
Student Darul Iftaa
South Africa
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.
الدر المختار(6/348)
و ان علم أولا باللعب لا يحضر أصلا سواء كان ممن يقتدي به أو لا لأن حق الدعوة انما يلزمه بعد الحضور لا قبله
خلاف شرع شادی میں دعوت کھانا
سوال۷۴۰:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ جوشادی رسومات کے سا تھ کی جائے مثلاً شریعت کے خلاف آدمی زیادہ بلانا، سلامی دکھاوا کرنا ، بھات وغیرہ وغیرہ اس کی دعوت کی جاتی ہے برادری غیر برادری میں دعوت دی جاتی ہے تو کیا اس دعوت کا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟
المستفتي: محمدیامین میرٹھ
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جو شادیاں رسوم ورواج اور خلاف شرع امور کے ساتھ کی جائیں ان میں شریک ہونا ممنوع ہے۔ مستفاد: بہشتی زیور ۶/۲۷، امداد الفتاویٰ ۴/۱۱۸
بڑے ہوٹلوں میں شادی کی دعوت کرنا اور ۳۰-۴۰ ؍قسم کے کھانے تیار کرنا؟
سوال(۵۸۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: آج کل خصوصاً بڑے شہروں میں شادی بیاہ کے موقع پر باراتی اور دیگر مہمانوں کے لئے بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانے پینے کا نظم کیا جاتا ہے، جس میں اَشیاء خورد ونوش کی ۳۵-۴۰؍ اَقسام تک تیار کی جاتی ہیں، ظاہر ہے کہ قلت کے خوف سے ہر اشیاء مدعوئین کے حساب سے ہی تیار کی جاتی ہیں، اور ہر شخص اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیزیں کھاکر چلتا بنتا ہے، اور اس طرح بہت سا کھانا کوڑا دان کی نذر ہوجاتا ہے، کیا یہ اقدام صحیح ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سوال میں جس طرح کی دعوت کا ذکر ہے ، وہ بلاشبہ اسراف وتبذیر میں داخل ہے، اِس سے احتراز لازم ہے، بہترین تقریب وہی ہے جس میں سادگی ہو اور رزق اور پیسہ کا ضیاع نہ ہو
[3]
بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية وشريعة نبوية لمحمد أبي سعيد الخادمي – مطبعة حلبي – ج = ٤، ص = ١٥٢
وَصِلَةُ الرَّحِمِ بِالْمَالِ وَنَحْوِ عَوْنٍ عَلَى حَاجَةٍ وَدَفْعِ ضُرٍّ وَطَلَاقَةِ وَجْهٍ وَدُعَاءٍ وَالْمَعْنَى الْجَامِعُ إيصَالُ الْمُمْكِنِ مِنْ خَيْرٍ وَدَفْعُ الْمُمْكِنِ مِنْ شَرٍّ وَهَذَا إنَّمَا يَطَّرِدُ إنْ اسْتَقَامُوا وَإِلَّا ، فَإِنْ فَجَرُوا فَقَطِيعَتُهُمْ فِي اللَّهِ صِلَتُهُمْ بِشَرْطِ بَذْلِ الْجَهْدِ فِي وَعْظِهِمْ وَمِنْ ثَمَّةَ قَتَلَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبَاهُ كَافِرًا غَضَبًا لِلَّهِ وَنُصْرَةً لِدِينِهِ
بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية وشريعة نبوية لمحمد أبي سعيد الخادمي – مطبعة حلبي – ج = ٤، ص = ١٥٣
(اعْلَمْ أَنَّ قَطْعَ الرَّحِمِ حَرَامٌ ) كَبِيرَةٌ ( وَوَصْلُهَا وَاجِبٌ وَمَعْنَاهُ ) أَيْ الْوَصْلُ ( أَنْ لَا يَنْسَاهَا ) أَيْ الرَّحِمَ ( وَيَتَفَقَّدَهَا بِالزِّيَارَةِ ) وَبِالْوُصُولِ إلَى الْمَنْزِلِ ( أَوْ الْإِهْدَاءِ ) لَمَّا قَدَرَ عَلَيْهِ ( أَوْ الْإِعَانَةِ بِالْيَدِ أَوْ الْقَوْلِ وَأَقَلُّهُ ) أَدْنَاهُ ( التَّسْلِيمُ ) بِنَفْسِهِ عَلَيْهِ ( أَوْ إرْسَالُ السَّلَامِ ) إنْ بَعِيدًا ( أَوْ الْمَكْتُوبُ وَلَا تَوْقِيتَ فِيهِ ) وَقْتًا مُعَيَّنًا بَلْ الْمُعْتَبَرُ الْعُرْفُ الْمَأْلُوفُ لَا كَمَا يَقُولُ بَعْضُ أَبْنَاءِ الزَّمَانِ إنَّهُ مُقَدَّرٌ بِثَلَاثَةِ أَعْوَامٍ كَمَا فِي الْحَاشِيَةِ ،
درر الحكام شرح غرر الأحكام لبملا خسرو – دار إحياء الكتب العربية - ج = ١، ص = ٣٢٣
(صِلَةُ الرَّحِمِ وَاجِبَةٌ) وَلَوْ بِسَلَامٍ وَتَحِيَّةٍ وَهَدِيَّةٍ