Fatwa #442764 March 2020Australia
Date of birth on passport is not correct - What should one do?
Question
Assalaam 'Alaikum Wa Rahmatullahi Wa barakaatuhu.
My query is as follows:
1) If someone finds that their date of birth (D.O.B) on their passport is not their actual date of birth, what should they do? If they try to change it, it may cause a lot of problems (such as legal issues, education related issues, license issues etc.). I was wondering if it would be permissible to give age related answers in accordance to the passport D.O.B. because actions are judged by their intentions. For e.g. someone says "The D.O.B is ... (And in their mind they say "according to the passport"), would it be permissble?
Jazakallahu Khairan.
Wassalaam
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
It is permissible to refer to one’s date of birth according to the passport (whilst clearly intending the passport) as this is not a lie.[1]
And Allah Ta’āla Knows Best
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.
[1] تحفة الملوك (ص: 280)
التعريض بالكذب فإن عرض بالكذب لغير ضرورة قيل يحرم وقيل لا يحرم مثل أن يقال له كل معنا فيقول أكلت ويعني به بالإمس
الاختيار لتعليل المختار (4/ 180)
ويكره التعريض بالكذب إلا لحاجة؛
ملتقى الأبحر (ص: 221)
ويكره التعريض به إلا لحاجة
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 552)
(والكذب حرام إلا في الحرب للخدعة وفي الصلح بين اثنين وفي إرضاء الأهل وفي دفع الظالم عن الظلم) لأنا أمرنا بهذا فلا يبالي فيه الكذب إذا كانت نيته خالصة (ويكره التعريض به) أي بالكذب (إلا لحاجة) كقولك لرجل كل فيقول أكلت يعني أمس فلا بأس به لأنه صادق في قصده وقيل يكره لأنه كذب في الظاهر.
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 84)
"وكذب الخ" وأما التعريض بالكذب لغير ضرورة قيل يحرم لأن اللفظ ظاهره الكذب وإن احتمل الصدق وقيل لا يحرم لأنه ليس
الفتاوى الهندية - ط. دار الفكر (5/ 352)
ويكره التعريض بالكذب إلا لحاجة كقولك لرجل كل فيقول أكلت يعني أمس
کتاب النوازل ج 16 ص382
اپنا جرم چھپانے کے لئے توریہ استعمال کرنا اور جھوٹی قسم کھانا؟
سوال(۸۴۷):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اپنے گناہ وجرم کو چھپانے کے لئے جھوٹ بولنا جائز ہے، اور جب جھوٹ بولنا جائز ہے تو اپنے گناہ کے چھپانے کے لئے اور عزت وآبرو بچانے کے لئے تو جھوٹی قسم بھی کھاسکتا ہے، بطور توریہ اختیار کرکے اگر قسم کھائے گا تو کیا گناہ تو نہیں ہوگا، اور کفارہ تو واجب نہیں ہوگا؟ اگر ایسا کرے گا تو اپنے گناہ اور عزت وآبرو بچانے کے لئے اگر کچھ گنجائش ہو تو شرعی حکم کے تحت مطلع کرنے کی زحمت گوارہ فرمائیں۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صریح جھوٹ بولنا اور جھوٹی قسم کھانا ہر حال میں گناہ ہے اور کسی حال میں جائز نہیں ہے؛ البتہ بعض صورتوں میں توریہ کی گنجائش ہے، یعنی ایسی بات بولنا جو اپنے اندر دو جہتیں رکھتی ہو، متکلم اُس سے ایک مطلب مراد لے اور مخاطب دوسرے معانی سمجھے۔
التعریض التلویح، وحقیقتہ إمالۃ الکلام إلی غرض یدل علی التعریض منہ، قولہ علیہ السلام: إن في المعاریض لمندوحۃ عن الکذب۔ (البنایۃ شرح الہدایۃ ۵؍۶۲۳)
الکذب مباح لإحیاء حقہ ودفع الظلم عن نفسہٖ، والمراد التعریض؛ لأن عین الکذب حرام وہو الحق۔ قال تعالیٰ: {قُتِلَ الْخَرَّاصُوْنَ}۔ (الدر المختار ۶؍۴۲۷ کراچی)
والأصل في جواز المعاریض قولہ تعالیٰ: {وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَآِء} [البقرۃ، جزء آیت: ۳۳۵] فقد جوّز اللّٰہ تعالیٰ المعاریض، ونہی عن التصریح بالخطبۃ بقولہ عزوجل: {وَلکِنْ لاَ تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا اِلاَّ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلاً مَعْرُوْفًا} [البقرۃ، جزء آیت: ۳۳۵] ثم بیان استعمال المعاریض من أوجہ … والثاني: أنہ یضمر في لفظ معنی سوی ما یظہرہ ویفہمہ السامع من کلامہ، وبیانہ فیما روي أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لتلک العجوز: إن الجنۃ لا یدخلہا العجائز فجعلت تبکي، فقال لہا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أہل الجنۃ جردٌ مردٌ مکحَّلون أخبرہا بلفظ أضمر فیہ سوی ما فہمت من کلامہ فدل أن ذٰلک لا بأس بہ۔ (المبسوط للسرخسي ۳۰؍۲۱۲)
جھوٹی قسم کھانے سے دنیا میں کفارہ لازم نہیں کرتا؛ البتہ آخرت میں سخت عذاب ہوگا، اگر جھوٹی قسم کھالی ہے تو بجز توبہ واستغفار کے کوئی چارہ نہیں۔
(قولہ: فتلزمہ التوبۃ) إذ لا کفارۃ في الغموس یرتفع بہا الإثم فتعینت التوبۃ للتخلص منہ۔ (شامي ۳؍۷۰۶ کراچی) فقط واللہ تعالیٰ اعلم