Fatwa #4417426 February 2020Oman
Is my husbands income Halaal?
Question
Assalamalaikum wa rahmatullahi wa barakatuh . 1.My friend’s husband is working as a chartered accountant in Citi bank . Is his income halal ? 2. She gifted me chocolates but I didn’t consume it as her husband is working in a bank and i think his income is haram so she said this to me ,“Don't worry u don't think it's haram whatever I buy for u v don't just have income from his salary I have my own income of building rents which dad gave during my wedding DTS my own earning .” So in this case does the money become halal , when her rents and his salary get mixed ? In these situations what should one do ? Can i take gifts from her ? Jazakamullah khairan.
Answer
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa rahmatullāhi wa-barakātuhu.
Your questions are answered below:
1) If the job does not require him to be involved in any sinful transaction, for example, taking part in interest bearing transactions, and the major source of the bank’s income is non-interest based, his income will be permissible.[i] However, if his job requires him to be involved in sinful transactions, or the major source of the bank’s income is interest-based, his income will be impermissible.[ii]
2) You were correct to doubt the permissibility of the gift you received, and your abstinence from consuming the gift, is a sign of your Allah-consciousness. [iii]
3) Mixed wealth will be ruled according to the majority unless the source is clarified. Your friend has clarified to you that she is gifting you from permissible sources.
4) This rule ‘that wealth will be ruled according to the majority source’ is only for the person who is unaware. Once the source is clarified, Halal will not become Haram, and Haram will not become Halal.
5) Unless you have external reasons to doubt your friend’s clarification, it is permissible for you to accept her gifts. [iv]
And Allah Ta ‘āla Knows Best
Bayazeed
Student – Darul Iftaa
UK
Checked and approved by,
Mufti Ebrahim Desai
25-06-1441 | 19-02-2020
[i] الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار (6/ 360)
لما فيه من الإعانة على ما لا يجوز وكل ما أدى إلى ما لا يجوز لا يجوز وتمامه في شرح الوهبانية
الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار (6/ 391)
(قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (5/ 362)
ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها فلا بأس به؛ إذ ليس في نفس العمل معصية
المبسوط للسرخسي (16/ 38)
وَالِاسْتِئْجَارُ عَلَى الْمَعْصِيَةِ لَا تَجُوزُ
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 238)
قال: "ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح، وكذا سائر الملاهي"؛ لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد
کتاب النوازل (12/290)
ویب سایٹ پر اشتہار کلک کرنے کی اجرت لینا…: اگر شرط کے مطابق یہ معاملہ نا جائز باتوں سے متعلق ہو.....تو گناہ پر تعاون کی وجہ سے یہ عمل جائز نہ ہو گا
فتاویٰ دارالعلوم زکریّا ( 5 /662)
مسلمان شخص کا کسی غیر مسلم کی دکان پر ملازمت کرنا جائز اور درست ہے،بشرطیکہ مسلمان شخص شراب یا خزير کہلا نے پلانے يا ديگر محرمات کو غیر مسلموں کے سامنے پیش کر نے یا براہ راست خرید و فروخت کر نے کا عمل نہ کرتا ہو کیونکہ مباشرۂً یہ کام کرنا مسلمان شخص کے لیے نا جائز ہے ۔
[ii] فقه البيوع (2/ 1032)
أما إذا كانت الوظيفة ليس لها علاقة مباشرة بالعمليات الربويّة ، مثل : وظيفة الحارس ، أو سائق السيارة ، أو العامل على الهاتف ، أو الموظف المسؤول عن صيانة البناء ، أو المعدات ، أو الكهرباء ، أو الموظف الذي يتمحض عمله في الخدمات المصرفية المباحة ، مثل : تحويل المبالغ ، والصرف العاجل للعملات ، وإصدار الشيك المصرفي ، أو حفظ مستندات الشحن ، أو تحويلها من بلد إلى بلد ، فلا يحرم قبولها إن لم يكن بنيّة الإعانة على العمليات المحرّمة ، وإن كان الاجتناب عنها أولى ، ولا يُحكَم في راتبه بالحُرمة ، لما ذكرنا من التفصيل في الإعانة والتسبّب ، وفي كون مال البنك مختلطاً بالحلال والحرام ، ويجوز التعامل مع مثل هؤلاء الموظفين هبة أو بيعاً أو شراء
فتح الباري لابن حجر (4/314)
وَقَالَ بن التِّينِ لَيْسَ فِي حَدِيثَيِ الْبَابِ ذِكْرٌ لِكَاتِبِ الرِّبَا وَشَاهِدِهِ وَأُجِيبَ بِأَنَّهُ ذَكَرَهُمَا عَلَى سَبِيلِ الْإِلْحَاقِ لِإِعَانَتِهِمَا لِلْآكِلِ عَلَى ذَلِكَ وَهَذَا إِنَّمَا يَقَعُ عَلَى مَنْ وَاطَأَ صَاحِبَ الرِّبَا عَلَيْهِ فَأَمَّا مَنْ كَتَبَهُ أَوْ شَهِدَ الْقِصَّةَ لِيَشْهَدَ بِهَا عَلَى مَا هِيَ عَلَيْهِ لِيَعْمَلَ فِيهَا بِالْحَقِّ فَهَذَا جَمِيلُ الْقَصْدِ لَا يَدْخُلُ فِي الْوَعِيدِ الْمَذْكُورِ وَإِنَّمَا يَدْخُلُ فِيهِ مَنْ أَعَانَ صَاحِبَ الرِّبَا بِكِتَابَتِهِ وَشَهَادَتِهِ فَيُنَزَّلُ مَنْزِلَةَ مَنْ قَالَ إِنَّمَا البيع مثل الرِّبَا
تقریر ترمذی (1/ 39)
وکاتبہ… اس کی تفصیل میں حافظ ابن حجر نے یہ لکہا ہے کہ کاتب سود سے مراد وہ شخص ہے جو کہ عقد سود کے وقت سود وغیرہ کا حساب لکہ کر عاقدین میں معاونت کرتا ہے، وہ اس وعید میں داخل ہے- لیکن اگر کوئی شخص عقد سود کے انعقاد کے وقت یہ حساب و کتاب نہیں لکہتا بلکہ عقد کے بعد جب وہ پچہلے عرصہ کی تمام حسابات اور کارگزاری اور رپورٹیں وغیرہ لکہتا ہے گو اس کے ذیل میں سود کے حسابات بہی اسے لہنے پڑ تے ہیں، غرض یہ کہ اس حساب و کتاب سے عقد سود مین معاونت نہیں ملتی، تو وہ شخص اس وعید میں داخل نہیں ہو گا- اگر اس تفصیل کو پیش نظر رکہا جاۓ تو اس سے ان حضرات کی الجہن دور ہو سکتی ہے جن کا کام اکاؤنٹس اور آڈٹ وغیرہ کا ہے، ان لوگوں کو مختلف فرموں، اداروں اور کمپنیوں کے پورے سال کے حسابات لکہنے پڑتے ہیں اور اس کی چیکنک کرنی ہوتی ہے، اس میں انہیں سود وغیرہ جس کا کمپنی نے عقد کیا ہو تا ہے، اسے بہی لکہنا پڑتا ہے، لیکن ان کا یہ لیکہنا محض ایک سالانا رپورٹ اور کار گزاری کی حیثیت رکہتا ہے، اس سے کمپنی کی سودی لین دین میں کوئی معاونت نہیں ہو تی- لہذا یہ حضرات اس وعید میں داخل نہیں ہوں گے-
امداد الاحکام (4/ 399)
اس نصوص سے معلوم ہوا کہ جس شخص کی امدنی حلال اور حرام سے مخلوط ہےاس میں غالب کا ایتبار ہوگا۔
فتاوی عثمانی (3/396)
بینک کی ملازمت کا تفصیلی حکم… در اصل بینک کی ملازمت نا جائز ہونےکی دو وجہیں ہو سکتی ہیں،ایک وجہ یہ ہے کہ یہ ہے کہ ملازمت میں سود وغیرہ کے نا جائز معاملات میں اعانت ہے،دوسرے یہ کہ تنخاہ حرام مال سے ملنے کا احتمال ہےان میں سے پہلی وجہیں یعنی حرام کاموں میں مدد کا جہاں تک تعلق ہے،شریعت میں مدد کے مختلف درجے ہیں،ہر درجہ حرام نہیں،بلکہ صرف وہ مدد ناجائز ہےجو براہ راست حرام کام میں ہوں،مثلا سودی معاملہ کرنا،سود کا معاملہ لکھنا،سود کی رقم وصول کرنا وغیرہ-لیکن اگر براہ راست سودی معاملہ میں انسان کو ملوث نہ ہونا پڑے، بلکہ اس کام کی نوعیت ایسی ہو جیسے ڈرائیور،چپراسی،یا جائز ریسرچ وغیرہ تو اس میں چونکہ براہ راست مدد نہیں ہے،اس لئے اس کی گنجا ئش ہے-
جہاں تک حرام مال سے تنخاہ ملنے کا تعلق ہے، اس کے بارے مین شریعت کا اصول ہے کہ اگرایک مال جلال وھرام سے مخلوط ہو اور حرام مال زیادہ ہو تو اس سے تنخواہ یا ہدیہ لینا ناجائز نہیں، لیکن اگر حرام مال کم ہو تو جائز ہے-بینک کا صورت حال یہ ہے کہ اس کا مجموعی مال کئی چیزوں سے مرکب ہوتا ہے،1-اصل سرمایہ2-ڈپازیٹرز کے پیسے3-سود اور حرام کاموں کی آمدنی،4-جائز خدمات کی آمدنی،اس سارے مجموعے میں صرف نمبر3 حرام ہے،باقی کو حرام نہیں کہا جا سکتا، اور چونکہ ہر بینک میں نمبر 1 اور نمبر دو کی کثرت ہوتی ہے،اس لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجموعہ غالب ہے،لہذاکسی جائز کام کی تنخاہ اس سے وصول کی جاسکتی ہے-
یہ بنیاد ہےجس کی بناٰء پرعلماء نے یہ فتوی دیا ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس میں خود کوئی حرام کام کرنا نہ پڑتا ہو، جائز ہے، البتہ احتیاط اس سے بھی اجتناب کیا جائے.
أحسن الفتاوی (329/7)
اگر حلال وحرام آمدن کو خلط کر دیا جاتا ہے اور حلال کو الگ رکھنے پر ادارہ تیار نہ ہو تو اس کا حکم یہ ہے: حلال وحرام مخلوط ہوں لیکن حلال غالب ہو تو اس سے اجرت لینا جائز ہے اور اگر حلال وحرام دونوں برابر ہوں یا حرام غالب ہوں تو جائز نہیں.
[iii] القرآن الكريم
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا (الحجرات/ 12)
أحاديث شريفة
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صلى الله علية وسلم -، قَالَ: "إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلاَ تَحَسَّسُوا، وَلاَ تَجَسَّسُوا، وَلاَ تَحَاسَدُوا، وَلاَ تَدَابَرُوا، وَلاَ تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا (صحيح البخاري)
فتاویٰ محمودیہ (18/132)
ہدیہ دینے والے کے مال کی تفتیش کہ مال حرام ہے یا حلال … اگر حرام و حلال میں شبہ ہو تو اس کے دفعیہ کے لئے دریافت کرنا درست ہے اور بلا وجہ دریافت کرنا کہ اس کو اذیت ہو نہیں کرنا چاہیے ۔
[iv] مجمع الأنهر (7/ 96)
وهي أمر مندوب وصنع محمود محبوب قال صلى الله تعالى عليه وسلم { تهادوا تحابوا } وقبولها سنة ، { فإنه عليه الصلاة والسلام قبل هدية العبد } وقال { في حديث بريرة : هو لها صدقة ولنا هدية } ، وقال عليه السلام : { لو أهدي إلي طعام لقبلت ، ولو دعيت إلى كراع لأجبت } ، وإليها أي الإجابة الإشارة بقوله تعالى { فإن طبن لكم عن شيء منه نفسا فكلوه هنيئا } أي مسرورا مريئا أي راضيا على الأكل وهي نوعان تمليك وإسقاط ، وعليهما الإجماع كما في الاختيار ، وسببها إرادة الخير للواهب دنيوي كالعوض وحسن الثناء والمحبة من الموهوب له ، وأخروي قال الإمام أبو منصور يجب على المؤمن أن يعلم ولده الجود والإحسان كما يجب عليه أن يعلمه التوحيد والإيمان إذ حب الدنيا رأس كل خطيئة كما في النهاية
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 222)
الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك. وقال مالك: يثبت الملك فيه قبل القبض اعتبارا بالبيع، وعلى هذا الخلاف الصدقة. ولنا قوله عليه الصلاة والسلام: "لا تجوز الهبة إلا مقبوضة" والمراد نفي الملك، لأن الجواز بدونه ثابت، ولأنه عقد تبرع، وفي إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به، وهو التسليم فلا يصح
عمدة الرعاية (6/ 451)
قوله: هي تمليك عين بلا عوض؛ فالتمليكُ إشارة إلى أنَّ الهبة لا تصحُّ إلاَّ ممَّن يقعُ عنه التمليك، وهو الحرُّ العاقلُ البالغُ المالك، فلا تصحُّ من القِنِّ والمكاتبِ والمدبَّر وأمِّ الولد والمجنون والصغير وغيرِ المالك.
الفتاوى الهندية (5/ 343-342)
أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه، إن كان غالب ماله من الحلال، فلا بأس، إلا أن يعلم بأنه حرام. فإن كان الغالب هو الحرام، ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام، إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته.
عيون المسائل للسمرقندي الحنفي (478)
ولو أن رجلاً أهدى إليه إنسان يكتسب من ربا أو رجل ظالم يأخذ أموال الناس أو اضافة فإن كان غالب ماله من حرام فلا ينبغي له أن يقبل ولا يأكل من طعامه ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه أو نحو ذلك. فإن كان غالب ماله حلال فلا بأس بأن يقبل هديته ويأكل منه ما لم يتبين عنده أنه من حرام.
المحيط البرهاني (5/ 230)
وفي «عيون المسائل»: رجل أهدى إلى إنسان أو أضافه إن كان غالب ماله من حرام لا ينبغي أن يقبل ويأكل من طعامه ما لم يخبر أن ذلك المال حلال استقرضه أو ورثه، وإن كان غالب ماله من حلال فلا بأس بأن يقبل ما لم يتبين له أن ذلك من الحرام؛ وهذا لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام وتخلو عن كثيره، فيعتبر الغالب ويبنى الحكم عليه.
منحة السلوك في شرح تحفة الملوك (477)
(والمختار: أنه إن كان أكثر ماله حلالاً) بأن كان صاحب تجارة أو زرع (حل قبول هديته، وأكل طعامه) ولا جرم أن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام وتخلو عن كثير، فكانت العبرة للغالب، والأحوط ألا يقبل، لأن شبهة الحرام ربما توقعه في أخذ الحرام.
فتاوى قاضيخان (3/ 244)
قال الناطفي رحمه الله تعالى إذا أهدى الرجل إلى إنسان أو أضافه إن كان غالب مال المهدي من الحرام ينبغي له ألا يقبل الهدية ولا يأكل من طعامه ما لم يخبر أنه حلال ورثه أو استقرضه من غيره، وإن كان غالب مال المهدي من الحلال لا بأس بأن يقبل الهدية ويأكل ما لم يتبين عنده أنه حرام لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فيعتبر الغالب
فتاوی دار العلوم زکریا (7/714)
. اگر غالب حلال ذرائع سے ہے تو اس کی دعوت قبول کرنا اور ہدیہ قبول کرنا جائز اور درست ہے....
فتاوی محمودیہ (27/ 126-125)
. اگر ایسا آدمی حلال مال سے دعوت کرے، تو اس کا قبول کرنا درست ہے