Fatwa Explorer

Fatwa #4412530 January 2020United Arab Emirates

Can I do an abortion considering my situation?

Question

As Salam Alaikum, 

I am mother of 3 kids with 3 c section And 1 miscarriage.  When it was my last delivery my gynecologist who was operating me said that I have a very thin uterine segment and it can be dangerous if I conceive again as uterus cannot withstand theweight.So I have to go for tubal ligation. Irefused. In my followup another gynecologist told me the same thing. Anyways it's been 5 years and I thought things must have gone better. I conceived again and it's my 5 thweek. I went to check if my uterus is in better healthfor this pregnancy to another gynecologist and she said the lower uterine segment is very thin and new tissue formed on c section scar is just scar tissue and not healthy tissue. it's a risky pregnancy. I have a risk uterine rupture or immature delivery . it's not yet 40 days thar I conceived. Is it allowed to go for Medical termination on pregnancy due to health risk involved? what is the ruling on this? 

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

Sister in Islam,

We take note of your distress and anxiety. May Allah Ta’ala grant you courage to overcome your challenge. Aameen

In principle it is not permissible to abort ones pregnancy. However, if there is a valid Sharee reason, then it will be permissible to abort one’s pregnancy before 120 days.[1]

We have consulted a Muslim gynaecologist regarding your specific situation. We were advised that the risk of uterine rupture is unpredictable and to obviate this risk one needs to do the delivery a bit earlier (at 36 weeks).

Therefore we advise that you to forward us the contact details of the gynaecologists which you have consulted. The Muslim gynaecologist that we have consulted will communicate with your gynaecologists and inform us the details pertaining to your specific situation. Thereafter, we will be able to give a Sharee ruling accordingly.

You may email the contact details of the gynaecologists you have consulted to: admin@daruliftaa.net Ref: Ahmed-Ur-Rahmaan Patel

And Allah Ta’āla Knows Best

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.


[1] المحيط البرهاني في الفقه النعماني (5/ 374) دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان

 إن أرادت ذلك بعد مضي مدة ينفخ فيه الروح، فليس لها ذلك؛ لأنها تصير قاتلة؛ فإنه اعتبر هنا على غلبة الظاهر، فلا يحل لها كما بعد الانفصال،

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 176) دار الفكر-بيروت

(قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح.

عمدة الرعاية بتحشية شرح الوقاية (10/ 76) مركز العلماء العالمي للدراسات وتقنية المعلومات

حكم إسقاط الحمل: قال في ((النهر)): يباح إسقاط الحمل ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مئة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط؛ لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة. وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج . وفي (كراهة) ((الخانية)): ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه؛ لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقَها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها. قال ابن وهبان : ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن ((الذخيرة)): لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا ؟ اختلفوا فيه: وكان الفقيه علي بن موسى يقول : إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم ونحوه في ((الظهيرية))، قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأث حمل گرانے کا حکم

فتاوی قاسمیہ جلد 23 صفحہ 280

سوال ]۱۰۴۱۰[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : زید جو کہ پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر ہے، اس کے پاس کچھ خطاکار مسلم خواتین آئیں ، کہ ان کی خطا کی نشانی یعنی ناجائز حمل ساقط کردیا جائے، ایسی صورت میں جاننا یہ ہے کہ مسلم عورت کی عزت کا مسئلہ ہے، حمل کے ضیاع کے متعلق حکم کیا ہے؟ زید کا ایسا کرنا کیسا ہے؟ جبکہ ذہن میں یہ بات ہے کہ یہ دوا نہ کرے تو کوئی دیگر ڈاکٹر اس کام کو انجام دے گا، شرعی حکم واضح کریں ؟

المستفتی: محمد ملیح مہراج گنج

باسمہ سبحانہ تعالیٰ

الجواب وباللّٰہ التوفیق: حمل کا گرانا بلا عذر شدید کے جائز نہیں ہے، چاہے حمل حلال نطفہ سے ہو یا بدکاری کے حرام نطفہ کا ہو، دونوں صورتوں میں جائز نہیں ہے، ہاں البتہ اگر عورت کی جان کا خطرہ ہے یا دودھ پیتے بچے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے تو حمل پر ۱۲۰؍ دن گذرنے سے پہلے پہلے انتہائی مجبوری کی وجہ سے گرانے کی گنجائش ہے، اور ۱۲۰؍ دن گذرنے کے بعد شدید مجبوری کے باوجود بھی جائز نہیں ہے، اور ناجائز حمل کا اسقاط کرنے والا ڈاکٹر اور کروانے والے دونوں گنہگار ہوں گے۔

ویکرہ أن تسقی لإسقاط حملہا، وجاز لعذر حیث لایتصور، قال الشامی: وقدروا تلک المدۃ بمائۃ و عشرین یوما و جاز لأنہ لیس بآدمی وفیہ صیانۃ الآدمی، خانیۃ: (حیث لا یتصور) قال الشامی: قید لقولہ وجاز لعذ والتصور کمام إثم القتل. وبما في ((الذخيرة)) تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه. والله تعالى الموفق انتهى كلام ((النهر)).

فی القنیۃ: أن یظہر لہ شعر أو إصبع أو رجل أو نحو ذٰلک۔ (در مختار مع الشامی، کتاب الحظر والإباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، زکریا ۹/۶۱۵، کراچی ۶/۴۲۹)

العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقہ کالشعر والظفر ونحوہما لایجوز، وإن کان غیر مستبین الخلق یجوز وخلقہ لا یستبین إلا بعد مائۃ و عشرین یوما۔ (ہندیہ، الباب الثامن عشر فی التداوی والمعالجات زکریا قدیم ۵/۳۵۶، جدید ۵/۴۱۲)

امرأۃ عالجت فی إسقاط ولدہا لا تأثم مالم یستبن شیئ من خلقہ۔ (البحر الرائق، کتاب الکراہیۃ زکریا ۸/۳۷۶، کوئٹہ ۸/۲۰۵)فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ

۴؍ ذی قعدہ ۱۴۳۳ھ

(الف فتویٰ نمبر: ۳۹/۱۰۸۱۶)

الجواب صحیح

احقر محمد سلمان منصور پوری غفر لہ

۱۵؍۱۱؍۱۴۳۳ھ

 نجم الفتاوی جلد 5 صفحہ 381

سؤال
میری بیوی کو حمل ٹھہرے ہوئے دس دن سے کچھ زیادہ ہوئے ہیں۔ میرا ایک ڈیڑھ سال کا بچہ ہے۔ ماں کا دودھ پیتا ہے۔ میرے گھریلو مسائل ہیں اور میںاپنے بچوں کی اچھی دینی اور دنیوی تربیت کرنا چاہتا ہوں۔ میرے کل ۴ بچے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ میں دودھ پیتے بچے کیلئے الگ سے دودھ کا انتظام نہیں کرسکتا ماں کا دودھ ضروری ہے اور حمل کی وجہ سے دودھ کا مسئلہ متاثر ہورہا ہے۔ کیا میں دس سے پندرہ دن کے اس حمل کو ضائع کراسکتا ہوں اس دودھ پیتے بچے کی وجہ سے یا میرے مسئلے کا کیا حل ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب
اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الاَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتَابٍ مُّبِيْنٍ
’’زمین پر چلنے والی کوئی مخلوق ایسی نہیں کہ اللہ تعالیٰ پر اس کا رزق مہیا کرنا ضروری نہ ہو اور اللہ تعالیٰ ان سب کے ٹھکانوں کو جانتا ہے۔“(ھود:۱۱)

اس آیت میں واضح طور پر ارشاد باری تعالیٰ موجود ہے کہ دنیا کی ہر مخلوق کی رزق کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے لہٰذا انسان کیلئے مالی تنگی یا معاشی مسائل کی وجہ سے کوئی بھی ایسا طریقہ اختیار کرنا جس سے بچے کی پیدائش متاثر ہو درست نہیں مثلاً ضبطِ تو لید یا اسقاطِ حمل اس وجہ سے کرانا کہ زیادہ بچے ہوگئے تو ان کی کفالت کون کرے گا یہ بات درست نہیں۔
حمل کو جب چار ماہ گزر جائیں تو اس میں روح پھونک دی جاتی ہے چار ماہ پورے ہونے سے قبل ابتدائی چالیس دن نطفے کی شکل میں ہوتا ہے پھر دوسرے چالیس دن وہ علقہ (خون کے لوتھڑے) کی صورت میں رہتا ہے اور آخری چالیس دن مضغہ (گوشت کے لوتھڑے) کی شکل میں ہوتا ہے اور پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے لہٰذا گناہ کے اعتبار سے بھی ان کے مراتب مختلف ہیں۔ نطفے کی شکل میں گناہ کم ہے، علقہ میں اس سے زیادہ اور مضغہ کے اسقاط میں گناہ اس سے بھی زیادہ ہے اور روح پھونک دیئے جانے یعنی چار ماہ کے بعد اسقاطِ حمل کا گناہ قتل نفس کے برابر ہے، یعنی گویا اس نے ایک زندہ انسان کو جان سے مار دیا جس کا بدترین گناہ ہونا کسی پر مخفی نہیں۔ الغرض حتی الامکان اس فعل سے اجتناب لازمی ہے البتہ اگر کوئی واقعی شرعاً معتبر عذر ہو تو(چار ماہ سے قبل کے عرصے میں) اسقاط کی گنجائش ہے مثلاً عورت حمل کابوجھ برداشت نہ کرسکتی ہو جان کا خطرہ ہو یا حمل سے عورت کا دودھ بند ہوجائے جس سے پہلے بچے کا نقصان ہو وغیرہ تو اس صورت میں حمل کو چار ماہ گزرنے سے قبل تک اسقاط کرا دیناجائز ہے۔
صورت مسئولہ میں چونکہ پہلے بچے کے دودھ کا مسئلہ ہے اور حمل کو ابھی چند دن ہی گزرے ہیں لہٰذا آپ کیلئے اس عذر کی بنا پر اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے۔
لما فی البخاری(۱۱۱۰/۲)باب قوله تعالى: {ولقد سبقت كلمتنا لعبادنا المرسلين} [الصافات]: سمعت عبد الله بن مسعود رضي الله عنه، حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق: " أن خلق أحدكم يجمع في بطن أمه أربعين يوما أو أربعين ليلة، ثم يكون علقة مثله، ثم يكون مضغة مثله، ثم يبعث إليه الملك فيؤذن بأربع كلمات، فيكتب: رزقه، وأجله، وعمله، وشقي أم سعيد، ثم ينفخ فيه الروح، فإن أحدكم ليعمل بعمل أهل الجنة حتى لا يكون بينها وبينه إلا ذراع، فيسبق عليه الكتاب، فيعمل بعمل أهل النار فيدخل النار، وإن أحدكم ليعمل بعمل أهل النار، حتى ما يكون بينها وبينه إلا ذراع، فيسبق عليه الكتاب، فيعمل عمل أهل الجنة فيدخلها "
وفی الشامیۃ(۱۷۶/۳): مطلب في حكم إسقاط الحمل قوله ( وقالوا الخ ) قال في النهر بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج وفي كراهة الخانية ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا أسقطت بغير عذر اھ قال ابن وهبان ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه۔

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.