Fatwa Explorer

Fatwa #4393411 September 2025United Kingdom

What is 'Khatme-khwâjgân' ?

Question

As salamu alaykum wa rahmathullahi wa brakathuhh

What is the saheeh khatme khawajgan?

Jazakallah 

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

Khatme-khwâjgân is the practise of the Mashaikh (Pious Elders) for many centuries. They would recite certain Azkaar/Wazifas  during times of difficulties and problems and thereafter make Duaa for safety from these trials and tests. This procedure is called khatme-khwâjgân

It is important to note that khatme-khwâjgân is not a Sunnah, but rather a practise of our Mashaikh which they initiated through experience.  Therefore, there are different methods of performing it according to the experience of the different Mashaikh. No one way is right or wrong.

One may read the khatme-khwâjgân alone or take part in it on condition he does not regard it as a Sunnah nor regards those who do not participate in it as sinful.

One method of khatme-khwâjgân according to the Mashaikh of Chisht is as follows:

(1) Firstly, recite Durûd Sharîf 11 times.

(2) Then recite “لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ اِلاَّ بِاللهِ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَأَ مِنَ اللهِ إِلاَّ إِلَيْهِ” 360 times.

(3) Then recite Surah الم نشرح together with بسم الله الرحمن الرحيم 360 times.

(4) Then recite again “لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ اِلاَّ بِاللهِ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَأَ مِنَ اللهِ إِلاَّ إِلَيْهِ” 360 times.

(5) Thereafter recite Durûd Sharîf 11 times.

One should continue reciting this daily at a specific time and thereafter make Duaa. In sha Allah, one’s Duaa will soon be accepted.

If the khatme-khwâjgân is done in a gathering, then generally a long cloth is spread and 360 date seeds are scattered on it. All those participating sit around the cloth and recite the respected Zikr on each seed.When they have finished reciting, one pious person from those present will make a collective Duaa.

Note: If the khatme-khwâjgân is done in a gathering, then it is advisable to inform all those participating of the object of the Khatam and that it is a tried and tested practice of the pious and not a Sunnah.[i]

And Allah Ta’āla Knows Best 

Checked and Approved by,

Mufti Ebrahim Desai

03-02-2020


[i] فتاوی قاسمیہ578/4

سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: ایک علاقہ کے مشہور بزرگؒ کا انتقال ہوا جو کہ نقشبندی سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے یہاں ہفتہ میں ایک دن ختم خواجگان کا معمول تھا۔ حضرت کے سیکڑوں مریدین ہیں، جب کہ خلیفہ صرف ایک ہے، ختم خواجگان کا سلسلہ اسی طرح آج بھی جاری ہے، جیسا کہ حضرت کی حیات میں تھا، اب حضرت کی جگہ ان کے خلیفہ ومجاز بیٹھتے ہیں، حضرت کے جوخلیفہ ہیں، انہوں نے ان کلمات میں (جو حضرت کے حیات میں) ختم خواجگان میں پڑھے جاتے تھے، کچھ کمی اور کچھ زیادتی کردی، مثلا: ’’یاغیاث المستغیثین اغثنا‘‘ جیسے کلمات کا اضافہ کردیا، تو اب کچھ لوگوں کو ان کے اس عمل پر اعتراض ہے کہ جو کلمات حضرت کی زندگی میں پڑھے جاتے تھے، ان میں زیادتی کا کسی کو حق نہیں ہے، جب کہ دوسرے لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ وہ مجاز ہیں، ان کو اس کا حق ہے، تو اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا کسی پیر کے خلیفہ کو اس طرح کا حق حاصل ہے؟ کیا ان کلمات میں کمی زیادتی کی جاسکتی ہے یانہیں؟ کسی طرح کا کوئی جھگڑا نہیں ہے، صرف اختلاف ہوگیا ہے، جس میں علماء کرام کی رہنمائی کی ضروت ہے؟

الجواب وباللّٰہ التوفیق: ختم خواجگان قرآن وحدیث سے منقول نہیں ہے؛ بلکہ سلسلاتی بزرگوں کے معمولات میں سے ایک عمل ہے۔ اور ختم خواجگان کے مختلف طریقے اور مختلف الفاظ بزرگوں سے منقول ہیں، اس میں جو دعائیہ الفاظ ہیں، وہ بھی بزرگوں اور مشائخ کے مرتب کئے ہوئے ہیں اور بعد کے بزرگوں اور مشائخ کے اس میں مناسب الفاظ کے بڑھانے اور گھٹانے میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے؛ لیکن بڑھانے گھٹانے والے صاحب نسبت عالم دین ہونے چاہئے۔ اور اگر خود عالم دین نہیں ہے، تو کسی صاحب نسبت عالم دین کے مشورہ سے گھٹانا بڑھانا چاہئے، جو الفاظ کے معانی اور عربیت سے بھی خوب واقف ہو۔ اور اگر عالم دین نہیں ہے، تو بغیر گھٹائے بڑھائے اپنے مشائخ سے جس طرح ملے اسی طرح پڑھتے رہنا چاہئے، ورنہ غلطیوں کے شکار ہونے کا خطرہ ہے۔ اور سوال نامہ میں جو الفاظ لکھے گئے ہیں: ’’یاغیاث المستغیثین اغثنا‘‘ یہ الفاظ بھی بعض بزرگوں کے ختم خواجگان کے الفاظ میں پہلے سے شامل ہیں؛ اس لئے اس کے بڑھانے میں کوئی حرج نہیں؛ کیوں کہ یہ اضافہ پہلے ہی سے مشائخ کے معمولات میں شامل ہے۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

امدادالفتاویٰ 4/606

سوال :  ختم خواجگان کا (جوصوفیوں کاایک طریقہ ہے قضائے حاجات دینی وجائز حاجات دنیاوی کے لئے )پڑھنا مسجد میں جائز ہے یانہیں ؟
الجواب: بااجرت ناجائز ہے اور بلااجرت اتفاقاً(یعنی احیاناً،کبھی کبھی) جائز اور اعتیاداً (یعنی ختم خواجگان کو پابندی کے ساتھ عادت بناکر کرنا)  ناجائز۔ یہ تفصیل حاجات دنیویہ کے متعلق ہے ، اور حاجات دینیہ میں مثال کی ضرورت ہے ۔

 سوال: کسی شخص واحد کی دعاکے لئے اس عمل کو یعنی ختم خواجگان کو مسجد میں پڑھنا دنیاوی حاجات کے لئے جائز ہے یانہیں ؟
جواب:وہی بالا ئی تفصیل ہے ۔
سوال : جائز دنیاوی ضروریات کے لئے مسجد میں دعاکرنا کیسا ہے ؟جائز یاناجائز؟
جواب: جائز ، کیونکہ دعاء عبادت ہے اگرچہ دنیائے مباح ہی کے لئے ہو۔

فتاوى رحيميه  228/2

ختم خواجگان کا اجتماعی طور پر دوامی معمول بنانا:
(سوال ) بعض جگہ ختم خواجگان اجتماعی طور پر پڑھا جاتا ہے ، اس کا کیا حکم ہے ؟ کیا ہمیشہ پڑھنا بدعت و مکروہ نہ ہوگا؟ بینوا توجروا۔
(الجواب)اس سلسلہ کا ایک سوال احقر نے حضرت مفتی محمد یحییٰ صاحب نور اﷲ مرقدہ‘ (مظاہر علوم سہارنپور) سے کیا تھا ، مفتی یحییٰ صاحب نے حضرت مفتی محمود حسن گنگوھی قدس سرہ‘ سے اس کے متعلق دریافت کیا ، حضرت نے اس کا جواب املاء فرمایا ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ سوال و جواب ہی نقل کر دیا جائے انشاء اﷲ اس سے آپ کے سوال کا بھی جواب ہوجائے گا ۔

سوال :   ہمارے بزرگوں کے یہاں ختم خواجگان کا معمول ہے اور جو حضرات ان سے متعلق ہیں ان میں سے بعض اپنے مقام پر اس پر عمل پیرا ہیں ، اسی طرح سورہ یٓسین شریف کا اجتماعی ختم ہوکر اس کے بعد اجتماعی دعا ہوتی ہے اس پر شرح صدر نہیں ہے ، آپ کو تو اس کے جواز کے دلائل معلوم ہی ہوں گے تحریر فرما کر ممنون فرمائیں ۔وجہ اشکال حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ کا وہ واقعہ ہے جو فتاویٰ رحیمیہ ص ۳۰۶، ص۳۰۷ جلد اول میں بحوالہ ازالۃ الخفاء ، الا عتصام اور مجالس الا برار مذکور ہے بعض حضرات نے فتاویٰ رحیمیہ کے مطالعہ کے بعد اشکال کیا کہ آپ کے فتاویٰ رحیمیہ میں یہ لکھا ہوا ہے اور سہارنپور دہلی وغیرہ مقامات پر ہمارے بزرگوں کے یہاں ختم خواجگان اور ختم سورۂ یٓسین شریف کا معمول ہے ،کیا یہ عمل حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ کے واقعہ کے خلاف نہیں ہے ؟ اور یہ التزام مالا یلزم نہیں ہے ؟ دونوں میں وجہ فرق کیا ہے ؟ … اگر یہ علاجاً یا دفع آفات کے لئے تجویز کیا گیا ہے تو علاج یا آفات وقتی چیز ہے ، جس طرح قنوت نازلہ ہنگامی حالات میں پڑھا جاتا ہے اس پر مداومت نہیں ہوتی اسی طرح یہاں بھی ہونا چاہئے، فقط والسلام بینوا توجروا۔
(جواب)حامداً ومصلیاً ومسلماً۔د و چیزیں ہیں ، ایک تو مداومت اورایک اصرار ، دونوں کا حکم الگ الگ ہی ۔ امر مندوب پر مداوت قبیح نہیں ہے ۔ فقہاء نے امر مندوب پر اصرار کو مکروہ قرار دیا ہے ۔
اصرار یہ ہے کہ کسی عمل کو ہمیشہ کیا جائے اور نہ کرنے والے کو گنہگار سمجھا جائے اس کی تحقیر و تذلیل کی جائے تو یہ مکروہ ہے ، اگر امر مندوب پر مداوت ہو اصرار نہ ہو تو مندوب مندوب ہی رہتا ہے، مثلاً کوئی شخص وضو کے بعد تحیۃ الوضو پڑھتا ہے اوراس کو ضروری نہیں سمجھتا اور نہ پڑھنے والوں کو گنہگار نہیں سمجھتا اور ان کو ملامت نہیں کرتا تو اس میں کوئی کراہت نہیں ، اب جو اعمال علاجاً کئے جائیں یا کسی سبب کی وجہ سے کئے جائیں تو جب علاج کی ضرورت ہوگی یا وہ سبب پایا جائے گا اس عمل کو کیا جائے گا ۔
قنوت نازلہ اول تو امام شافعی رحمہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک روزانہ نماز فجر میں پڑھا جاتا ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالیٰ نے ابتلائے عام کے وقت اجازت دی ہے اس کا سبب ابتلائے عام ہے ، لہذ اجب تک ابتلائے عام رہے گا اس کو پڑھا جائے گا اور جب یہ سبب ختم ہوجائے گا نہیں پڑھا جائے گا۔
ختم خواجگان حصول برکت کے لئے پڑھا جاتا ہے مشائخ کا مجرب عمل ہے کہ اس کی برکت سے دعاء قبول ہوتی ہے اور کون سا وقت ایسا ہے کہ برکت کی خواہش نہیں ہوگی ، لہذا جب اس کا مقصد حصول برکت ہے تو جب جب حصول برکت کی خواہش ہوگی اس کو پڑھا جائے گا اور ہر وقت برکت کی خواہش ہوتی ہے اس لئے مداومت کرتے ہیں مگر اصرار نہیں کرتے ہیں ، فقط ۔ املاء الشیخ محمود حسن۔
رئیس المفتیین مظاھر علوم ۔باستدعاء یحییٰ غفرلہ، ۱۰/۵/۱۴۰۲ھ فقط واﷲ اعلم۔

Ma’moolaate Naafiah by Shafiqul Ummah Hazrat Molana Muhammed Farouq Saheb Rahimahullah pg.10

فيضان رحمت (Abundance of Mercy) by Molana Muhammed Abdullah Darkwasti Rahimahullah pg.91

Khatme-khwâjgân A detailed discussion by Molana Moosa Kajee Damat Barakatuhu

Follow Mufti Ebrahim Desai’s official Twitter handle: @MuftiEbrahim

Latest Tweet:

‘Assess your attitude and sensitivity to people & correct yourself. Your attitude & insensitivity to people around you could affect their lives in more ways than you think. Do not cause pain to the people around you.’ 

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.