Fatwa Explorer

Fatwa #4369622 November 2019United Kingdom

Are jeans or skin tight jeans جائز for men?

Question

Assalam alaikum

Are jeans or skin tight jeans جائز for men? Jazakallah

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

Jeans come in many different styles such as straight, skinny, slim, distressed, ripped and narrow.

In principle, it is impermissible to wear jeans/trousers that outline the private parts of a man due to tightness.[i] Distressed/ripped jeans that expose the knees or other parts of the ‘awrah will also be impermissible.[ii]

Loose-fitting jeans that do not contain such rips and tears will be permissible to wear.

And Allah Ta’āla Knows Best

Hasan Ahmed Razzak

Student - Darul Iftaa

Paterson, New Jersey, USA

Checked and Approved by,

Mufti Ebrahim Desai.

20-03-1441| 11-18-2019

______


[i]

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 410)

(قوله ولا يضر التصاقه) أي بالألية مثلا، وقوله وتشكله من عطف المسبب على السبب. وعبارة شرح المنية: أما لو كان غليظا لا يرى منه لون البشرة إلا أنه التصق بالعضو وتشكل بشكله فصار شكل العضو مرئيا فينبغي أن لا يمنع جواز الصلاة لحصول الستر. اهـ. قال ط: وانظر هل يحرم النظر إلى ذلك المتشكل مطلقا أو حيث وجدت الشهوة؟ . اهـ. قلت: سنتكلم على ذلك في كتاب الحظر، والذي يظهر من كلامهم هناك هو الأول

احسن الفتاوی ج=8 ص=64

یہ تفصیل اس لباس کے بارے میں ہے جسے واجب الستر اعضاء کی بناوٹ اور جحم نظر نہ آتا ہو، اگر پتلون اتنی چست اور تنگ ہو تو اس سے اعضاء کی بناوٹ اور جحم نظر آتا ہو  جیسا کہ آج کل  ایسی پتلون کا کثرت سے رواج ہو گیا ہے تو اس کا پہننا اور لوگوں کو دکھانا اور دیکھنا سب حرام ہے جیسا کہ ننگے آدمی کو دیکھنا حرام ہے

امداد الفتاوی ج=4 ص=268

سوال- اس ملک میں ان لوگوں کا لباس اور وضع اختیار کرنا کس قسم کا گناہ ہی، اگر آدمی شوق سے نہی بلکہ اس ضرورت سے ان کا ظاہری لباس اور وضع اختیار کرے کہ عوام کی نظر میں ایک انوکھا اور برا نہ معلوم ہو، اور لوگوں کو اسکی طرف انگشت نمای نہ ہو اور شہر کے بچے اس پر ہنسے نہیں، تو کیا اس سے گناہ کی اہمیت کم ہو جاتی ہی، کس حد تک اجازت ہے؟

الجواب- میں اس باب میں یہ سمجھے ہوے ہوں کہ جس جگہ یہ لباس قومی ہے، جیسے ہندوستان میں وہاں اس کا پہننا من تشبہ بقوم میں داخل ہوتا ہے، اور جہاں ملکی ہے جس کی علامت یہ ہے کہ وہاں سب قومیں اور سب مذاہب کے لوگ ایک ہی لباس پہنتے ہیں وہاں پہننا کچھ حرج نہیں، اب اس معیار پر آپ وہاں کی حالت خود ملاحظہ فرمائیں

جدید فقہی مسائل ج=1 ص=232

اور دوسری صورتوں میں تشبہ کا حکم اسی وقت تک رہے گا جب تک کہ اس کا عموم نہ ہو جائے اور اس وضع قطع سے خاص انہی لوگوں کی طرف ذہن جاے، جیسا کہ ہیٹ، کوٹ، پینٹ، سے ایک زمانہ میں ذہن اس طرف جاتا تھا کہ وہ عیسائی ہے،ساڑی خاص ہند و خواتین کا شعار تھا اور دھوتی اب بھی بہت سے مقالات پر ہندوں کا امتیاز ہے، کہ اس کو دیکھ کر ذہن اس کے ہندو ہی ہونے کی طرف منتقل ہو تا ہے - اب ساڑی چونکہ ایک عمومی لباس ہوگیا ہے، اس لیے اس کے پہننے میں کوی حرج نہیں کیونکہ تشبہ اب باقی نہیں رہا، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں

[ii]

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 222)

قال - رحمه الله - (أو يدخل الحمام بغير إزار)؛ لأن كشف العورة حرام وقال - عليه الصلاة والسلام - «لعن الله الناظر، والمنظور» ورأى أبو حنيفة - رحمه الله - رجلا في الحمام بغير إزار فقال ألا أيها الناس خافوا إلهكم ولا تدخلوا الحمام من غير مئزر وذكر الكرخي أن من يمشي في الطريق بالسراويل وحده ليس عليه غيره لا تقبل شهادته؛ لأنه تارك للمروءة قال - رحمه الله - (أو يأكل الربا)؛ لأنه من الكبائر

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 231)

(قَوْلُهُ وَلَا مَنْ يَدْخُلُ الْحَمَّامَ بِغَيْرِ إزَارٍ) لِأَنَّ كَشْفَ الْعَوْرَةِ حَرَامٌ مُسْتَقْبَحٌ بَيْنَ النَّاسِ وَكَذَا مَنْ يَمْشِي فِي الطَّرِيقِ بِسِرْوَالٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ كَذَا فِي النِّهَايَةِ.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (5/ 330)

فنقول: يجوز أن ينظر الرجل إلى الرجل، إلا إلى عورته، وعورته ما بين سرته حتى يجاوز ركبته، والأصل فيه حديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده؛ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «عورة الرجل ما دون سرته حتى تجاوز ركبته

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.