Fatwa Explorer

Fatwa #4246618 February 2020South Africa

Is it permissible to take out a life insurance policy to cover taxes?

Question

Is it permissible to take out a life insurance policy for the sole purpose of covering your estate duty taxes?

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

One should not take out life insurance even if it is only for the purpose of covering estate duty taxes, as it contains Haram elements such as interest, gambling etc.[1] Why pass away while having Haram dealings on one’s shoulders? Rather do all your dealings according to Shariah and place your Trust in Allah Ta’ala. He Alone is the True Provider.

And Allah Ta’āla Knows Best

Muhammad Fayyaadh

Student - Darul Iftaa

South Africa

Checked and Approved by,

Mufti Ebrahim Desai

15-02-2020


[1] العناية شرح الهداية، 3/662 دار الكتب العلمية

أَنَّ الرِّبَا هُوَ الْفَضْلُ الْمُسْتَحَقُّ لِأَحَدِ الْمُتَعَاقِدَيْنِ فِي الْمُعَاوَضَةِ الْخَالِي عَنْ عِوَضِ شَرْطٍ فِيهِ) أي في العقد

البناية شرح الهداية، 1/387  المكتبة الحقانية

وقال علماؤنا: هو نوع بيع فيه فضل مستحق لأحد المتعاقدين خال عما يقابله من عوض شرط في هذا العقد، وعلى هذا سائر أنواع البيوع الفاسدة من قبيل الربا، وفي جميع المعلوم الربا شرعا عبارة عن عقد فاسد وإن لم يكن زيادة. لأن بيع الدراهم بالدراهم نسيئة ربا، وإن لم يتحقق فيه زيادة

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 402)

(إنْ شُرِطَ الْمَالُ) فِي الْمُسَابَقَةِ (مِنْ جَانِبٍ وَاحِدٍ وَحَرُمَ لَوْ شُرِطَ) فِيهَا (مِنْ الْجَانِبَيْنِ) لِأَنَّهُ يَصِيرُ قِمَارًا

(قَوْلُهُ لِأَنَّهُ يَصِيرُ قِمَارًا) لِأَنَّ الْقِمَارَ مِنْ الْقَمَرِ الَّذِي يَزْدَادُ تَارَةً وَيَنْقُصُ أُخْرَى، وَسُمِّيَ الْقِمَارُ قِمَارًا لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ الْمُقَامِرَيْنِ مِمَّنْ يَجُوزُ أَنْ يَذْهَبَ مَالُهُ إلَى صَاحِبِهِ، وَيَجُوزُ أَنْ يَسْتَفِيدَ مَالَ صَاحِبِهِ وَهُوَ حَرَامٌ بِالنَّصِّ، وَلَا كَذَلِكَ إذَا شُرِطَ مِنْ جَانِبٍ وَاحِدٍ لِأَنَّ الزِّيَادَةَ وَالنُّقْصَانَ لَا تُمْكِنُ فِيهِمَا بَلْ فِي أَحَدِهِمَا تُمْكِنُ الزِّيَادَةُ، وَفِي الْآخَرِ الِانْتِقَاصُ فَقَطْ فَلَا تَكُونُ مُقَامَرَةً لِأَنَّهَا مُفَاعَلَةٌ مِنْهُ زَيْلَعِيٌّ

بذل المجهود، کتاب الطہارۃ، باب فرض الوضوء،  بیروت۱/۳۵۹، تحت رقم الحدیث: ۵۹

إذا کان عند رجل مال خبیث، ولا یمکنه أن یردہ إلی مالكه، ویرید أن یدفع مظلمته عن نفسه فلیس له حيلة إلا أن یدفعه إلی الفقراء۔

 فتاوی دینیہ جلد 342/4

 ڈیتھ ٹیکس کے لئے بیمہ کروانا
سوال: فی الحال حکومتی قانون کے مطابق انسان کے انتقال کے بعد اس کے ورثاء کے پاس سے لازمی طور پر ’’ڈیتھ ٹیکس (Death Tex)‘‘ لیا جاتا ہے جس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، یہ ٹیکس اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ کئی مرتبہ آدمی کے انتقال کے بعد ’’ڈیتھ ٹیکس‘‘ میں ورثاء کے حصے میں آئی ہوئی جائداد بھی بیچنی پڑتی ہے یا یہ کہ اس کے انتقال کے بعد مرحوم نے جو تجارت چھوڑی ہے وہ بیچ کر اس کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ ان حالات میں اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اس کے مرنے کے بعد جو ڈیتھ ٹیکس بھرنا ہوگا اس کی ادائیگی کے لئے بیمہ کروا لے اور اس بیمہ کی رقم سے اس کے ورثاء ڈیتھ ٹیکس ادا کر دیں تو یہ جائزہے یا نہیں ؟اور اس مقصد کے لئے بیمہ کروانا جائزہے یا نہیں ؟
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… سوال میں مذکور ہ مصیبت کو دور کرنے کے لئے زندگی کا  بیمہ کراناجائز نہیں ہے،اور اگر کسی نے بیمہ کرایا ہوتو سود اور قمار کا اس کو گناہ ہوگا۔
البتہ کسی شخص کو اپنے اس عمل کے جواب دینے کی قوت ہو، اور خود کے ورثاء کو جو مصیبت پیش آتی ہے اس مصیبت کو دور کرنے کے لئے ہی یہ کام کیا ہو، اور وہ اس کو ثابت کر دے تو چھٹکارے کی امید ہے، اور اس بیمہ سے جو بھی زائد رقم حاصل ہو اس کو مذکور ہ ٹیکس میں ادا کر نے کی گنجائش ہے۔ فقط و اللہ تعالی اعلم

فتاوی رحیمیہ جلد 273/9
(سوال ۱  ) بیمہ کی جو حقیقت بیان کی گئی ہے اس میں کمپنی بطور سود جو رقم دیتی ہے جس کانام وہ اپنی اصطلاح میں منافع رکھتی ہے، شریعت کااصطلاحی ربوا ہے یا نہیں ؟
(الجواب)حامداًومصلیاًومسلماً! بیمہ کی حقیقت ربوا اور قمار سے مرکب ہے ۔ الربوا ھو فضل خال عن عوض بمعیار شرعی شرط لا حد المتعاقدین فی المعاوضۃ (درمختار باب الربوا ج۔۲ ص ۱۶۸) ھو فضل خال عن عوض شرط لا حد المتعاقدین فی معاوضۃ مال بمال (ملتقی الا بحر ایضاً) فقط۔

(سوال ۲)اگر سود مذکور شرعی اصطلاح میں ربوا ہے تو بیمہ کے جو مصالح بیان کئے جاتے ہیں ان کی پیش نظربیمہ کے جواز کی کوئی گنائش نکل سکتی ہے ؟
(الجواب)ربوا اور قمار دونوں حرام قطعی اور کبیرہ گناہ ہیں ، حرمت ان کی منصوص اور اجماعتی ہے ۔ اجمع المسلمون علی تحریم الربوا فعلی ٰ انہ من الکبائر (عمدۃ القاری شرح بخاری)
آنحضرتﷺنے ربوا کو ہلاک کرنے والی چیزوں میں شمار کیا ہے ۔ اجتنبوا السبع الموبقات، وجعل منھن اکل الربوا،مشکوٰۃ باب الکبائر وعلامات النفاق، لہذا اس کے ہزار منافع بیان کئے جائیں ، بدلیل قولہ تعالیٰ: قل فیھما اثم کبیر ومنا فع للناس واثمھما اکبر من نفعھما سورۃ بقرۃ۔منہی عنہ اور غیر جائز الا رتکاب ہی رہے گا۔ فقط ۔
(سوال ۳)زندگی کے بیمہ ، املاک کے بیمہ، اور ذمہ داری کے بیمہ کے درمیان شرعاًکوئی فرق ہوگایا تینوں کا ایک حکم ہوگا؟
(الجواب)تینوں کا ایک ہی حکم ہے کہ ناجائز ہے اس لئے کہ تینوں قسمیں ربا اور سود پرمشتمل ہیں ، 

كتاب النوازل  466 /11 

علماء دیوبند کا انشورنش سے متعلق متفقہ فیصلہ؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اسلامک فقہ اکیڈمی کی طرف سے چھپا ہوا ہندوستان کے موجودہ حالات میں انشورنش کے جواز کا فیصلہ ارسال خدمت ہے، اس میں انشورنش کے سلسلہ میں علماء دیوبند اور دیگر مدارس اسلامیہ کی عظیم شخصیتوں کے نام درج ہیں، کیا یہ جواز کا فیصلہ صحیح ہے؟ اس کتابچہ سے دانش ور حضرات میں خلجان ہے۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ

الجواب وباللّٰہ التوفیق: ابتداء میں دارالعلوم دیوبند کی طرف سے انشورنش کے مطلق جواز کا بوجہ ضرورت فیصلہ کیا گیا تھا؛ لیکن بعد میں ادارۃ المباحث الفقہیہ کے اجتماع منعقدہ دیوبند میں جب اس موضوع پر مکمل بحث ہوئی، تو اس فیصلہ سے اکثر حضرات نے رجوع کرلیا اور اجتماع میں انشورنش کے عدم جواز پر ایک متفقہ تجویز منظور کی گئی، جس کی نقل آپ دفتر ادارۃ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند -۱، بہادر شاہ ظفر مارگ نئی دہلی سے حاصل کرسکتے ہیں، اب فتویٰ یہی ہے کہ لائف انشورنش کی قطعاً اجازت نہیں ہے، اور جہاں ضرورت ہو وہاں املاک کے بیمہ کی مجبوراً گنجائش ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم

 آپ کے مسائل اور ان کا حل /2486

کیا انشورنس کا کاروبار جائز ہے؟
س… ہمارے ہاں انشورنس کا کاروبار ہوتا ہے، کیا شرعی لحاظ سے یہ جائز ہے؟ میری نظر میں اس لئے دُرست ہے کہ اگر آپ ایک مکان کی انشورنس کرائیں، اگر مکان کو آگ لگ جائے تو رقم مل جاتی ہے، اگر آگ نہ لگے تو اداشدہ رقم ضائع ہوجاتی ہے، اس لئے اس میں چونکہ نفع و نقصان دونوں شامل ہیں، اس لئے جائز معلوم ہوتی ہے۔ البتہ زندگی کی پالیسی سے اگر انسان کی موت یا حادثہ واقع نہ ہوجائے تو کسی وقت وہ رقم ڈبل ہوجاتی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں یہ اسکیم عمدہ نہیں کہ انسان کو تحفظ مل سکتا ہے؟ اگر کوئی مرد یا عورت بے سہارا ہے اور آخری عمر کی وجہ سے انشورنس کرواتا ہے تو کیا یہ اچھا نہ ہوگا؟ بس ایک تحفظ سا مل جاتا ہے۔ بہرحال آپ کے فتویٰ کا انتظار ہوگا، اہمیت جناب کے فتویٰ کی ہوگی۔
ج… انشورنس کی جو صورتیں آپ نے لکھی ہیں، وہ صحیح نہیں۔ یہ معاملہ قمار اور سود دونوں سے مرکب ہے۔ رہا آپ کا یہ ارشاد کہ: ”اس سے انسانوں کو تحفظ مل جاتا ہے“ اس کا جواب قرآنِ کریم میں دیا جاچکا ہے:
”قُلْ فِیْھِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا۔“
ترجمہ:… ”آپ فرمادیجئے کہ ان دونوں (کے استعمال) میں گناہ کی بڑی بڑی باتیں بھی ہیں اور لوگوں کو (بعضے) فائدے بھی ہیں، اور (وہ) گناہ کی باتیں ان فائدوں سے بڑھی ہوئی ہیں۔“ ترجمہ حضرت تھانوی

فتاوی قاسمیہ جلد 20 445/
سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : کہ ہندوستان کے پر خطر ماحول اور آئے دن فسادات کی وجہ سے ہر وقت مسلمانوں کی جان و مال کا خطرہ لا حق رہتا ہے، تو کیا اس ماحول کے پیش نظر جان کا بیمہ کرانا جائز ہے یا نہیں ؟
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جان کا بیمہ قطعاً ناجائز اور حرام ہے، خواہ جیون بیمہ فسادات کے اندیشہ سے کیاجائے یا کسی اور دوسری وجہ سے ؛ اس لئے کہ یہ سود، قمار، اوررشوت پر مشتمل ہے،جو سراسر ناجائز و حرام ہے۔

قال اﷲ تعالیٰ: وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۔ [سورۃ البقرہ: ۲۷۵]
عن جابرؓ، قال: لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آکل الربوا، ومؤکلہ، وکاتبہ، وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔(صحیح مسلم ، با ب لعن آکل الربا، ومؤکلہ، النسخۃ الہندیۃ، ۲/۲۷، بیت الأفکار رقم:۱۵۹۸، سنن أبي داؤد، باب في آکل الربا، ومؤکلہ، النسخۃ الہندیۃ۲/ ۴۷۳، دارالسلام رقم: ۳۳۳۳)
عن عبد اﷲ بن عمرو قال: لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم الراشي والمرتشي۔ (سنن أبي داؤد، کتاب القضاء، باب في کراہیۃ الرشوۃ، النسخۃ الہندیۃ۲/۵۰۴، دارالسلام رقم: ۳۵۹۰، سنن الترمذي، باب ما جاء في الراشي والمرتشي في الحکم، النسخۃ الہندیۃ۱/۲۴۸، دارالسلام رقم:۱۳۳۷)

فتاویٰ عثماني ٣/٣٤١

سوال؛ اپنے آپ کو انشورڈ کرنا جائز ہے؟ اگر ہے تو کیوں؟

جواب :زندگی کے انشورنس کی جو صورتیں رائج ہے وہ بھی اسی مذكورة بالا وجہ سے(یعنی قمار) ناجائز ہیں 

فتاویٰ دار العلوم دیوبند 14/508

الجواب ؛ زندگی کا بیمہ کرنا شرعا جائز نہیں ہے. اور کوئی صورت اس کے جواز کی شریعت میں نہیں ہے. اس میں قمار و ربا دونوں حرام امور کا ارتکاب لازم ہے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسی عمل خلاف شرع اور حرام سے محفوظ رکھے 

Follow Mufti Ebrahim Desai’s official Twitter handle: @MuftiEbrahim

Latest Tweet:

‘Do not focus too much on empowering the brain & outward appearance. Focus on inculcating values in your heart.’

Something wrong with this record?

Report a problem

This goes to whoever maintains the archive, not to Askimam.org. For a question about the ruling itself, use the link to the original above.

Sent anonymously. No account needed, and nothing identifies you.