Fatwa #4242127 November 2021United Arab Emirates
Taking back gifted amount of money - Is this permissible?
Question
Assalaam alaikum dear brother in Islam. I have a thought that keeps cropping in my head every few months and I would like to seek advice on it.I am a woman, married for more than 4 years now alhamdulillah. Before marriage, I was working for quite some years and decided to pass on all my earnings to my father and keep only a small amount for myself. There were a lot of reasons for doing so, one of them being to appreciate all my parents have done for me and the other might have been arrogance. I assumed I will easily make it back with a job but I did not get work until recently. My father offered me the money couple of times after marriage but I refused to take it for a couple of other reasons. However, I lived with a lot of financial issues after marriage. My parents gifted me some expensive things after marriage which we could not afford and I felt guilty accepting from them as I handed over the money thinking I'll not need to ask them again. I have been thinking of asking them to either return or share the money in a joint account. I might not need it now but might need it in future, I can't say. To me the amount is quite huge and something that might take me a while to make up if I continue working. I assume the answer to my question will be no but I would still like to ask if it is permissible for me to do so?
Answer
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.
In principle, it is not permissible to take back gifts given to one’s close relatives (Mahrams).[1] Rasulullah (Sallallahu Alaihi Wasallam) mentions in a Hadith:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم "لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الَّذِي يَعُودُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِي قَيْئِهِ" (صحيح البخارى: 2622)
Translation: “Ibn Abbas (Radhiyallahu Anhuma) narrated: Rasulullah (Sallallahu Alaihi Wasallam) said, ‘The bad example is not for us. He who takes back his present is like a dog that swallows back its vomit." (Sahih Al-Bukhari: 2622)
You gave your earnings as a gift to your father. It is not permissible to take back the gifted amount from your father.
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا كَانَتِ الْهِبَةُ لِذِي رَحِمٍ مُحَرَّمٍ لَمْ يَرْجِعْ فِيهَا" (المستدرك على الصحيحين: 2324)
Translation: “Samurah (Radhiyallahu Anhu) narrated: Rasulullah (Sallallahu Alaihi Wasallam) said, ‘When one gifts something to a close relative (Mahram), then it is not allowed to take it back." (Mustadrak Ala As-Sahihain: 2324)
However, you may explain to your parents your financial situation. It is highly possible that they will assist you financially, considering that they offered you the money a few times after your marriage. However, this amount must be considered as a gift from their side, and not returning the previously gifted amount.
And Allah Ta’āla Knows Best
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.
(2020-02-04)
[1]كنز الدقائق (ص: 539)
والقاف القرابة
فلو وهب لذي رحمٍ محرمٍ منه لا يرجع فيها
العناية شرح الهداية(9/ 42)
فالدال الزيادة، والميم موت الواهب أو الموهوب له، والعين العوض، والخاء خروج الهبة عن ملك الموهوب له، والزاي الزوجية، والقاف القرابة، والهاء هلاك الموهوب.
ملتقى الأبحر (ص: 503)
والقاف القرابة فلا رجوع فيما وهب لذي رحم محرم
فتاوی فریدیہ جلد 7 ص246
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنے پانچ بیٹوں میں اپنی حیات میںزمین تقسیم کی اور انہوں نے اپنے اپنے حصوں میںتصرف بھی کیا، اب والد ایک حصہ ظلماً واپس لیتا ہے اور اس کو فروخت کرتا ہے تو کیا یہ بیع صحیح ہے یا نہیں؟ اور والد صاحب کی وفات کے بعد یہ زمین کس کا حق ہے؟ بینواتوجروا
المستفتی: مولوی عبد الواحد ڈھکی چارسدہ …۱۳/مئی ۱۹۷۰ء
الجواب : والد کیلئے یہ ہبہ واپس کرنا ناجائز ہے اور یہ زمین باقاعدہ اس بیٹے کا حق ہے اور اس کی بیع نامنظور ہے،وفی الہدایۃ ۳:۲۷۴، وان وہب ہبۃ لذی رحم محرم منہ لم یرجع
قال العلامۃ الحصکفی: وتتم الہبۃ بالقبض الکامل فی محوز مفرغ مقسوم ومشاع لا یبقی منتفعا بہ بعد ان یقسم وقال بعد اسطر ولو سلمہ شائعا لا یملکہ فلا ینفذ تصرفہ فیہ وقال العلامۃ ابن عابدین: (قولہ ولو سلمہ شائعا الخ، قال فی الفتاویٰ الخیریۃ ولا تفید الملک فی ظاہر الروایۃ… وذکر عصام انہا تفید الملک وبہ اخذ بعض المشائخ الخ ومع افادتہا للملک عند ہذا البعض اجمع الکل علی ان للواہب استردادہا من الموہوب لہ ولو کان ذارحم محرم من الواہب الخ۔
) ردالمحتار مع الدرالمختار ۴:۵۷۰ کتاب الہبۃ (
فیہا لقولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام: اذا کانت الہبۃ لذی رحم محرم لم یرجع فیہا{۱} وہکذا فی جمیع کتب الفقہ{۲}۔ وھوالموفق
فتاوی قاسمیہ جلد 21 ص322
باپ کا اولاد کو چھت ہبہ کرنے کے بعد رجوع کرنا
سوال ]۹۴۷۱[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : (الف) میرا مکان تین منزلہ ہے، میں اس کو تین بیٹوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں ، گرانڈ فلور پرانے طرز کا بنا ہوا ہے، باقی دو منزل نئے طرز کی بنی ہوئی ہیں ، بڑے لڑکے کو گرانڈ فلور پر جو کہ پرانے طرز کا بنا ہوا ہے دیا تو بڑے لڑکے کا کہنا ہے کہ میں کرایہ پر نہیں دے سکتا؛ اس لئے مجھے مکان کی چھت پر دو کمرے بنانے کی اجازت دیجئے جس پر میں نے بنانے کی اجازت دے دی، کیا اس پر میرے دونوں لڑکوں کی رضا مندی ضروری ہے، کیا میں اپنی جائیداد کو اپنی مرضی سے جیسا چاہے ویسا تقسیم کرسکتا ہوں ؟ کیا شریعت میں اس کی اجازت ہے؟
(ب): جائیداد کی تقسیم کے سلسلے میں آپس میں والد صاحب کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کے بعد دوبارہ زائد حصہ کا مطالبہ کرنا اور اس پر والد کی طرف سے اجازت مل جانا جس کی وجہ سے بڑے بھائی کا دونوں بھائیوں کے حصہ سے زائد حصہ ہوجاتاہے، تو کیا شرعی اعتبار سے ایسا کرنا درست ہے؟
(ج): مکان تقسیم کردیا تینوں بیٹوں میں ، اور چھت مشترکہ ہے، بڑے بیٹے کے دو کمرے مکان کی چھت پر بنے ہوئے ہیں ، بڑے بیٹے کا مطالبہ ہے کہ دونوں بھائیوں کے کرایہ دار چھت پر نہ آئیں یا کوئی وقت متعین کریں کہ فلاں وقت پر ہی آئیں گے؛ کیوں کہ چھت پر بڑے بیٹے کی فیملی رہتی ہے، ان کی بے پردگی ہوگی، جب کہ بڑے لڑکے کا گرانڈ فلور پر بھی مکان ہے اس پر دوسرے لڑکے راضی نہیں ہیں ؛ کیوں کہ چھت مشترکہ ہے، اب کیا کرنا درست رہے گا شرعی اعتبار سے؟ والسلام
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جب باپ نے سب بھائیوں کی موجودگی میں مکان کو تقسیم کردیا ہے اور تقسیم کرکے ہر ایک کو اپنے اپنے حصے پر قبضہ دے دیا ہے اور چھت کو تینوں بھائیوں کے درمیان مشترک قرار دیا گیا ہے، تو اس اعتبار سے تینوں بھائی اپنے اپنے حصے کے مالک ہوچکے ہیں اور باب کا کوئی حق باقی نہیں رہا ہے اور باپ کے لئے اولاد کو ہبہ کرنے کے بعد رجوع کا حق نہیں ہوتا؛ لہٰذا جن شرائط کے ساتھ بیٹوں کو مالک بنا دیا گیا ہے اور اس میں چھت مشترک قرار پائی ہے تو باپ کو چھت کا ہبہ واپس لے کر بڑے بیٹے کو دینے کا حق نہیں ہے؛ لہٰذا باپ نے جو چھت کے اوپر بڑے بیٹے کو دوسرے بیٹوں کی اجازت کے بغیر تعمیر کی اجازت دی ہے وہ درست نہیں ہے؛ لہٰذا اس چھت کے اوپر تینوں بھائیوں کا حق بدستور باقی ہے؛ اس لئے آپس میں تینوں بھائی بیٹھ کر اس مسئلہ کا حل ڈھونڈ لیں ، تیسرے بھائی نے جو چھت کے اوپر مکان بنایا ہے اس کے بارے میں صلح کرلیں ، دیگر دونوں بھائیوں کا حق چھت کے اوپر باقی ہے، اس کے بارے میں قیمت دے دلا کر معاملہ نمٹا لیں ، ورنہ روز کی لڑائی سامنے رکھی ہوئی ہے۔
کل من الشرکاء في شرکۃ الملک أجنبي في حصۃ سائرہم … لا یجوز لہ من ثم أن یتصرف في حصۃ شریکہ بدون إذنہ۔ (شرح المجلۃ ۱/ ۶۰۱، رقم المادۃ: ۱۰۷۵، مجمع الأنہر ۲/ ۵۴۳)
من وہب لأصولہ وفروعہ أو لأخیہ أو أختہ أو لأولادہما أو لعمہ أو لعمتہ أو لخالہ أو لخالتہ شیئا فلیس لہ الرجوع۔ (شرح المجلۃ ۱/ ۴۷۶، رقم المادۃ: ۸۶۶، شامي، زکریا ۸/ ۵۵، کراچی ۵/ ۶۹۹)
ولو وہب لذي رحم محرم منہ شیئا لا یرجع۔ (درمختار مع الشامي، زکریا ۸/ ۵۱۲) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم